سعودی سفیر کی جانب سے پاکستان کو غریب خاندانوں کےجڑواں بچوں کے لیے طبی امداد کی پیشکش

جسم سے جڑے ہوئے بچوں کے پروگرام کے سرجن مملکت میں ہنرمندانہ کام انجام دے رہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان کے ریاستی میڈیا نے اطلاع دی کہ سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی نے منگل کو پاکستان میں معاشی طور پر پسماندہ خاندانوں میں پیدا ہونے والے جڑواں بچوں کے علاج کے لیے فراخدلی سے مدد کی پیشکش کی۔

30 سال سے زیادہ عرصے سے سعودی عرب کے جسم سے جڑے ہوئے بچوں کے پروگرام میں سرجنز ہنر مندانہ کام انجام دے رہے ہیں جس سے ایسے بچوں کا صحت مند، نارمل اور آزاد زندگی سے لطف اندوز ہونا ممکن ہو گیا ہے۔ ان خدمات کی بدولت مملکت جدید طب میں جراحی کے ایک پیچیدہ ترین طریقۂ کار میں عالمی رہنما بن گئی ہے۔

پاکستان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کی خبر کے مطابق سعودی سفیر نے اسلام آباد میں پاکستان بیت المال (پی بی ایم) کے منیجنگ ڈائریکٹر سید طارق محمود الحسن کے ساتھ ملاقات میں مدد کی پیشکش کی۔

رپورٹ میں کہا گیا، "سعودی ایلچی نے اعلان کیا کہ جسم سے جڑے ہوئے جو بچے پی بی ایم کی طرف سے ریفر کیے جائیں گے، ان کو شاہ سلمان انسانی امدادی مرکز (کے ایس ریلیف) کے زیرِ اہتمام سعودی عرب کے ایک جدید ترین ہسپتال میں جدید طبی خدمات پیش کی جائیں گی۔"

"ملک کی غریب آبادی کے لیے اس طرح کی امداد فراہم کرنے پر سعودی سفیر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پاکستان بیت المال کے ایم ڈی نے اس اقدام کو بچوں کو صحت مند، نارمل اور آزاد زندگی گزارنے کے قابل بنانے کے لیے ایک لازمی عمل قرار دیا۔"

چند دن پہلے سعودی عرب کے سرجنز نے ریاض کے کنگ عبدالعزیز میڈیکل سٹی میں کنگ عبداللہ سپیشلسٹ چلڈرن ہسپتال میں نائیجیرین جڑواں بچوں حسنہ اور حسینہ کو الگ کرنے کا ایک پیچیدہ طریقہ کار کامیابی سے مکمل کیا جس کے بعد یہ پیش رفت سامنے آئی ہے۔

گذشتہ اکتوبر میں سعودی عرب پہنچنے والے جڑواں بچے پیٹ کے زیریں حصے، نافچہ، ریڑھ کی ہڈی کے زیریں حصے اور اس حصے کے اعصاب سے جڑے ہوئے تھے۔ علیحدگی کی سرجری میں تقریباً ساڑھے 16 گھنٹے لگے اور اس میں 39 طبی مشیران، ماہرین اور تکنیکی، نرسنگ اور دیگر معاون عملہ شامل تھا۔

یہ سعودی پروگرام کی جانب سے جڑواں بچوں کو الگ کرنے کا 60 واں آپریشن تھا۔ گذشتہ 34 سالوں میں پروگرام نے 25 ممالک سے جڑواں بچوں کے 135 سیٹوں کی نگہداشت کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں