پاکستانی فرمز نے ریاض میں جاری لیپ ٹیک نمائش میں متعدد سودے حاصل کر لیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

پاکستانی سافٹ ویئر پروڈیوسرز ایسوسی ایشن کے سربراہ نے منگل کو بتایا کہ پاکستانی سافٹ ویئر اور انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کمپنیوں نے ریاض میں جاری لیپ 24 ٹیک نمائش کے دوران سعودی عرب اور دنیا کے دیگر ممالک کی معروف فرمز کے ساتھ کئی معاہدات پر دستخط کیے ہیں۔

لیپ کانفرنس اور نمائش جو جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے اقدامات اور اختراعات کی نمائش کرتی ہے، 4 تا 7 مارچ تک ریاض میں جاری ہے جس میں 1,800 مقامی اور بین الاقوامی نمائش کنندگان، 1,000 تکنیکی ماہرین اور 600 اسٹارٹ اپس شامل ہیں۔

پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن (پاشا) کے چیئرمین محمد زوہیب خان نے بدھ کو کہا، "گذشتہ سال 2023 میں آئی ٹی کے کاروبار میں 9 بلین ڈالر کی آمدنی ہوئی اور پاکستانی کمپنیوں نے بھی بی ٹو بی [کاروبار سے کاروبار] روابط استوار کرنے کے دوران 100 ملین ڈالر سے زیادہ کی لیڈز حاصل کیں۔"

پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن (پاشا) کے چیئرمین محمد زوہیب خان کے مطابق 70 سے زائد پاکستانی کمپنیاں نمائش میں اپنی مصنوعات پیش کر رہی ہیں جو اس شعبے میں کہیں بھی جنوبی ایشیائی ملک کی "اب تک کی سب سے بڑی موجودگی" کی نشاندہی کرتی ہے۔

ان پاکستانی فرمز میں سے 27 نمائش میں پاکستان پویلین کا حصہ تھیں جبکہ 20 اسٹارٹ اپس سمیت 45 سے زائد دیگر اس تقریب میں آزادانہ طور پر اپنے آئیڈیاز اور اختراعات پیش کر رہے تھے۔

ملک کے پویلین کا دنیا بھر سے بڑی آئی ٹی اور آئی ٹی ای ایس کے نمائندگان نے دورہ کیا جن میں خلیجی خطے کے ٹیک شعبے کی اعلیٰ حکومتی تنظیمیں بھی شامل تھیں۔

خان نے کہا، "اس اعلٰ سطحی نمائش کے دوران بحرین کی آئی ٹی ایسوسی ایشن کے ساتھ تعاون اور کاروبار سے کاروبار کی مشغولیت کو بڑھانے پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے پاشا نے آج تک کی سب سے بڑی مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔"

"پاکستانی ابیکس کنسلٹنگ نے سعودی ڈیجیٹل حل فراہم کرنے والی کمپنی ایلم کے ساتھ باہمی تعاون کے لیے ایک مفاہمت نامے پر دستخط کیے ہیں۔ مزید برآں ان باکس ٹیکنالوجیز نے سعودی عرب کے گسان کے ساتھ شراکت داری کا معاہدہ کیا ہے۔

چیئرمین نے کہا کہ ان کی ایسوسی ایشن نے حکومت عمان کے سرکاری وفد کے ساتھ بھی ایک "نتیجہ خیز ملاقات" کی ہے۔

پیر کو سعودی عرب میں پاکستان کے ایلچی احمد فاروق نے لیپ 2024 نمائش میں پاکستان پویلین کا افتتاح کیا اور پاکستان کے سپر نووا سلوشنز اور بااثر سعودی سرمایہ کاروں کے ایک گروپ کے درمیان ایکویٹی پارٹنرشپ کے معاہدے پر دستخط کا مشاہدہ کیا۔

فاروق نے کہا کہ لیپ 2024 میں اتنی بڑی تعداد میں پاکستانی فرمز کی موجودگی نے آئی ٹی کے شعبے میں شرقِ اوسط کے ساتھ مزید مضبوط تعلقات کے امکانات کو نمایاں کیا۔

انہوں نے عرب نیوز کو بتایا، "پاکستان کا دستہ اس سال کے لیپ میں سب سے بڑے دستوں میں سے ایک ہے جس میں 162 مربع میٹر پویلین، 74 کمپنیاں اور 800 سے زائد مندوبین نے سعودی مارکیٹ میں مضبوط پاکستانی کاروباری موجودگی اور امید افزا امکانات کا مظاہرہ کیا ہے۔"

"یہ کمپنیاں مصنوعی ذہانت، آئی او ٹی [چیزوں کا انٹرنیٹ]، بلاک چین، سائبر سکیورٹی، کلاؤڈ سلوشنز، ہیلتھ ٹیک، فِن ٹیک، ویب اور موبائل ایپ ڈویلپمنٹ، اوپن سورس، ای کامرس، ڈیٹا سروسز اور کئی شعبوں میں حل پیش کر رہی ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ پاکستان لیپ 2024 کو شرقِ اوسط بالخصوص سعودی عرب جو اپنے ویژن 2030 کے حصے کے طور پر تبدیلی سے گذر رہا ہے، میں اپنی آئی ٹی صلاحیت کو ظاہر کرنے اور کاروبار کو وسعت دینے کے ایک "بروقت موقع" سمجھتا ہے۔

وژن 2030 تزویراتی ترقیاتی فریم ورک کا مقصد تیل پر مملکت کے انحصار کو کم کرنا ہے اور صحت، تعلیم، بنیادی ڈھانچہ، تفریح اور سیاحت جیسے عوامی خدمات کے شعبوں کو ترقی دینا ہے۔

اکستان کی آئی ٹی صنعت نے حال ہی میں قابلِ ذکر ترقی کا تجربہ کیا ہے اور اسے ملک کے پانچ برآمدی شعبوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے، یہ بات نوٹ کرتے ہوئے فاروق نے کہا، "سعودی عرب جسے شرقِ اوسط کی سب سے بڑی معیشت ہونے کا فخر حاصل ہے اور عالمی سطح پر یہ 20 اعلیٰ ترین معیشتوں میں شامل ہے، ٹیک انڈسٹری میں نمایاں حصہ رکھتی ہے۔"

پاکستان کی ان باکس ٹیکنالوجیز ٹیک فرم کے چیف کمرشل آفیسر حسن خان لودھی نے بتایا کہ ان کی کمپنی اندرونِ ملک 23 سال سے زائد تجربے کے بعد جلد ہی ریاض میں ایک دفتر کھولے گی۔

انہوں نے عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا، "ہم گذشتہ سال اپنی حیرت انگیز شرکت کی بنیاد پر اس سال دوبارہ لیپ میں شریک ہیں جہاں ہم 2023 میں سعودی عرب سے اہم کاروبار طے کرنے میں کامیاب ہوئے۔"

لودھی نے کہا ان کی کمپنی نے مملکت میں اپنی رجسٹریشن کا عمل مکمل کر لیا ہے اور مزید افرادی قوت کے ساتھ اپنی ٹیم کو بڑھانے کے لیے کوشاں ہے۔

انہوں نے مزید کہا، "سعودی مارکیٹ میں پاکستانی کمپنیوں کے لیے بہت زیادہ امکانات اور قبولیت موجود ہے اور ہم مملکت میں ایک روشن مستقبل کے منتظر ہیں۔"

اتوار کو پاشا نے پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ (پی ایس ای بی) کے تعاون سے ریاض میں ملک کے سفارت خانے کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی سعودی-پاک ٹیک فورم کا انعقاد کیا۔ آل پاور فل ڈیجیٹل کوآپریشن آرگنائزیشن (ڈی سی او) کی سیکرٹری جنرل دیمہ الیحییٰ اس تقریب کی مہمان خصوصی تھیں۔

اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی)، وزارت آئی ٹی، پی ایس ای بی، ٹیک ڈیسٹینیشن پاکستان، ریاض میں پاکستانی سفارت خانہ، ایچ بی ایل، انویسٹ سعودی، ریوائیول لیب اور انفوٹیک گروپ کے وفود نے سعودی-پاک ٹیک فورم اور پاکستان پویلین میں اہم کردار ادا کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں