وزیر اعظم نے پی آئی اے نجکاری پر عمل کے لیے دو دن میں حتمی شیڈول طلب کر لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی فضائی کمپنی پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ری سٹرکچرنگ سے متعلق اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں سینیٹر اسحاق ڈار، خواجہ محمد آصف، عطاءاللہ تارڑ، رانا مشہود احمد خان،مصدق ملک، احد چیمہ، شیزہ فاطمہ خواجہ، رومینہ خورشید عالم، علی پرویز ملک کے علاوہ ڈپٹی چئیرمین پلاننگ کمیشن ڈاکٹر جہانزیب، گورنر سٹیٹ بینک، چئیرمین ایف بی آر، سیکرٹری نجکاری اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ ممتاز بینکار محمد اورنگزیب وڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔

ایوان وزیر اعظم سے جاری ہونے والے پریس ریلیز میں کہا گیا ہے وزیر اعظم شہباز شریف نے قومی ائیر لائن پی آئی اے کی نجکاری پر عملدرآمد کے لئے حتمی شیڈول طلب کرتے ہوئے وزارت نجکاری کو ہدایت کی کہ ضروری اقدامات کے بعد آئندہ دو روز میں حتمی شیڈول پیش کرے۔

وزیر اعظم نے سختی سے ہدایت کی کہ اس عمل میں کسی قسم کی سستی اور لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ تمام مراحل میں شفافیت کو سو فیصد یقینی بنایا جائے۔ اجلاس میں پی آئی اے کی نجکاری کی اب تک کی پیش رفت اور اس ضمن میں آئندہ کے مراحل پر غور کیا گیا۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی [اے پی پی] کے مطابق اجلاس میں ایف بی آر کی آٹو میشن، نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے، عالمی معیار کے مطابق ڈھانچہ جاتی اصلاحات، مراعات کے ذریعے ٹیکس میں اضافے، کرپشن وسمگلنگ کے خاتمے، ان لینڈ ریونیو اور کسٹم کے شعبے الگ کرنے اور ٹیکس ریٹ میں کمی پر پیش کردہ تجاویز کا تفصیلی جائزہ بھی لیا گیا۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے ایف بی آر کی آٹو میشن کے نظام کے مجوزہ روڈ میپ کی اصولی منظوری دیتے ہوئے ہدایت کی کہ اب اس روڈ میپ پر وقت کے واضح تعین کے ساتھ عمل درآمد کیا جائے۔

اہداف کا تعین نہ صرف حقیقت پسندانہ ہو بلکہ عمل درآمد کی رفتار کے لحاظ سے خطے میں تیز ترین بھی ہو، ہمیں 24 گھنٹے مسلسل محنت سے یہ ہدف حاصل کرنا ہے، ہمارے پاس ضائع کرنے کے لئے مزید ایک لمحہ بھی نہیں، یہ پاکستان کے روشن مستقبل اور معاشی بحالی کا سوال ہے۔

وزیر اعظم نے وزارت قانون کو ہدایت کی کہ ٹیکس وصولیوں اور ریونیو سے متعلق عدالتوں میں زیر التوا مقدمات اور قانونی تنازعات کے حل کے لئے فی الفور سفارشات پیش کرے تاکہ انہیں حل کرکے قومی خزانے کو 1.7 ٹریلین روپے کی فراہمی کے راستے میں حائل رکاوٹیں دور ہو سکیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں