"پاکستان غزہ میں اسرائیلی جنگ کے خاتمے کے لیے ’فعال کردار‘ ادا کرے’"

عورت مارچ کے منتظمین کی طرف سے غزہ جنگ میں اسرائیل کی حمایت کرنے پر مغرب کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان میں حقوقِ نسواں کے ایک سرکردہ گروپ کے منتظمین نے بدھ کے روز پاکستانی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ میں اسرائیل کی جنگ ختم کرنے میں "فعال کردار" ادا کرے۔ اور گروپ نے فلسطین کے فوجی کارروائیاں جاری رکھنے پر مغرب کی طرف سے یہودی ریاست کی حمایت کی مذمت کی۔

غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اکتوبر 2023 سے اب تک 30,000 سے زائد فلسطینی مرد و خواتین اور بچے جنگ کی نذر ہو چکے ہیں۔ 72,100 سے زیادہ فلسطینی زخمی ہیں جبکہ اسرائیل نے مسلم ریاستوں، اقوامِ متحدہ اور عالمی امن کارکنان کے بڑھتے ہوئے مطالبات کے باوجود فوجی کارروائیاں ختم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

عورت مارچ کا آغاز 2018 میں پاکستان کے جنوبی بندرگاہی شہر کراچی میں خواتین کے عالمی دن کے لیے سنگل مارچ کے طور پر ہوا۔ البتہ اب یہ ایک سے زیادہ شہروں میں منعقد ہونے والی سالانہ تقریب بن گئی ہے۔ مارچ کو مذہبی قدامت پسندوں کی مخالفت کا سامنا ہے جو الزام لگاتے ہیں کہ اس گروپ کو پاکستان میں فحاشی کو فروغ دینے کی سازش کے تحت مغربی فنڈنگ حاصل ہے۔ منتظمین اس کی تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مارچ کو نچلی سطح پر شرکت کے ساتھ مقامی طور پر فنڈز فراہم کیے جاتے ہیں۔

عورت مارچ کے اسلام آباد باب کے منتظمین نے بدھ کو اسلام آباد کے قومی پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کی جبکہ عالمی یومِ خواتین کے منانے میں دو دن سے بھی کم وقت رہ گیا ہے۔

عورت مارچ اسلام آباد کی ایک منتظم نشاط انجم نے صحافیوں کو بتایا، "فلسطین میں جاری انسانی بحران کے پیشِ نظر ہم پاکستانی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ غزہ میں نسل کشی کی جنگ کے خاتمے کے لیے فعال کردار ادا کرے اور فلسطین کی آزادی کی وکالت کرے۔"

انجم نے کہا کہ حقوقِ نسواں کی سیاست صرف پاکستانی خواتین کے حقوق تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ سرحدوں سے ماورا ہے۔ انہوں نے واشنگٹن اور دیگر مغربی ممالک کی مذمت کی کہ وہ اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہیں کیونکہ وہ فلسطین پر بمباری جاری رکھے ہوئے ہے۔

انہوں نے مزید کہا، "ہم معصوم فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کی جنگ میں سامراجی مغرب کی حمایت کی بھی مذمت کرتے ہیں اور سامراجی مفادات کے لیے کی جانے والی جنگوں، نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں جن سے خواتین اور بچے سب سے زیادہ متأثر ہوتے ہیں۔"

منتظمین نے مقامی خواتین کے لیے اپنے مطالبات بھی پاکستانی حکومت کو پیش کیے جن میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے لے کر معاشی انصاف، صنفی بنیاد پر تشدد، سیاسی حقوق اور مذہبی اقلیتوں کے حقوق تک کے مسائل کا احاطہ کیا گیا تھا۔

مارچ کی ایک اور منتظم سیدہ بریاہ شاہ نے ریاست سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان میں صنفی بنیاد پر تشدد کو قومی ایمرجنسی قرار دے اور تمام قسم کے پدرانہ تشدد کے خلاف صفر رواداری کے نقطۂ نظر کو فروغ دینے کے لیے تزویراتی اقدامات کرے۔

شاہ نے کہا، "اس مارچ میں کم عمری کی شادیوں کے خاتمے، صنفی بنیاد پر تشدد کے خلاف قوانین کے سخت نفاذ اور تحفظِ حقوقِ خواجہ سرا ایکٹ کے نفاذ کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔"

پاکستان میں خواتین اکثر اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کے مطابق ہر سال تقریباً 500 خواتین کو ان کے خاندان کے افراد اس الزام میں قتل کر دیتے ہیں کہ ان کی "غیرت" کو پامال کیا گیا ہے۔ یہ غیرت اکثر اس وقت بیدار ہوتی ہے جب خواتین اپنی پسند سے شادی کرتی ہیں۔

حقوقِ نسواں کی ایک کارکن پنجرش نے کہا کہ ریاست کو خواتین کی تولیدی اور خانگی مزدوری کی معاشی شراکت کو تسلیم کرنا اور اسے ملک کی مجموعی پیداوار میں شامل کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا، "غیر رسمی شعبے کو باضابطہ بنانا، بچہ مزدوری کے خلاف کارروائی، یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں کو باقاعدہ بنانا اور انجمن سازی کا حق دینا معاشی انصاف کے مطالبات میں شامل ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں