پاکستان کی 'راؤڈی رائیڈرز' خواتین ٹریفک اور روایت کے مدِ مقابل

ہمارے ہاں خواتین کا بائیک چلانا ایک نایاب منظر ہے جہاں عموماً وہ گاڑی اور موٹرسائیکل کی عقبی نشست پر بیٹھا کرتی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کے وسط میں ایک گرد آلود بیضوی شکل میں گھومتے ہوئے موٹر سائیکلوں پر سوار خواتین حفاظتی کونز کی ایک قطار کے ساتھ مشق کر رہی ہیں۔ اس دوران ان کے ہیلمٹ نے رنگ برنگے اسکارف کو ان کے سروں پر جما رکھا ہے۔

ثقافتی طور پر قدامت پسند ملک میں یہ ایک نایاب منظر ہے جہاں خواتین عموماً گاڑیوں کی عقبی نشستوں پر یا موٹر سائیکلوں پر ایک طرف الگ بنی سیٹ پر سوار نظر آتی ہیں اور ساتھ ایک مرد رشتہ دار ہوتا ہے۔

"تبدیلی جاری ہے،" زینب صفدر کہتی ہیں جو جسم کو ڈھانپنے والے گلابی عبایا میں ملبوس دو پہیوں پر سوار ہونے کا طریقہ دکھا رہی ہیں۔

پانچ مارچ 2024 کی اس تصویر میں زینب صفدر جو صرف خواتین پر مشتمل گروپ "راؤڈی رائیڈرز" کی ایک انسٹرکٹر ہیں، کراچی کے ایک کھلے میدان میں سواری کے سبق کے دوران موٹر سائیکل چلانے سے پہلے اپنا ہیلمٹ ایڈجسٹ کر رہی ہیں۔ (اے ایف پی)
پانچ مارچ 2024 کی اس تصویر میں زینب صفدر جو صرف خواتین پر مشتمل گروپ "راؤڈی رائیڈرز" کی ایک انسٹرکٹر ہیں، کراچی کے ایک کھلے میدان میں سواری کے سبق کے دوران موٹر سائیکل چلانے سے پہلے اپنا ہیلمٹ ایڈجسٹ کر رہی ہیں۔ (اے ایف پی)

40 سالہ خاتون "راؤڈی رائیڈرز" کی ایک انسٹرکٹر ہیں جو کراچی میں نو آموز خواتین کو بائیسکل پر توازن برقرار رکھنے کی بنیادی باتوں سے لے کر ہائی آکٹین گیئر تبدیل کرنے اور کافی زیادہ ٹریفک میں بائیک چلانے تک سب کچھ سکھاتی ہیں۔

2017 میں مٹھی بھر پیشرو سواروں کے یہ گروپ قائم کرنے کے بعد سے ازخود بیان کردہ "راؤڈی رائیڈرز" کی تعداد 1,500 سے زیادہ گھریلو خواتین، طالبات اور پیشہ ور افراد تک پہنچ چکی ہے۔

صفدر نے لڑکیوں کی صلاحیتوں کے بارے میں شکوک و شبہات کا ذکر کرتے ہوئے کہا، "ماضی میں لڑکیوں کے بائیک چلانے کے بارے میں غلط فہمیاں پائی جاتی تھیں۔"

"خوش قسمتی سے زیادہ بہتر شعور نے ان تصورات کو دور کر دیا ہے۔"

 ٹاپ شاٹ - پانچ مارچ 2024 کی اس تصویر میں صرف خواتین کے گروپ "راؤڈی رائیڈرز" کی ایک انسٹرکٹر زینب صفدر (دائیں) کراچی کے ایک کھلے میدان میں سواری کے سبق کے دوران ایک طالبہ کو موٹر سائیکل چلانے میں مدد دے رہی ہیں۔ (اے ایف پی)
ٹاپ شاٹ - پانچ مارچ 2024 کی اس تصویر میں صرف خواتین کے گروپ "راؤڈی رائیڈرز" کی ایک انسٹرکٹر زینب صفدر (دائیں) کراچی کے ایک کھلے میدان میں سواری کے سبق کے دوران ایک طالبہ کو موٹر سائیکل چلانے میں مدد دے رہی ہیں۔ (اے ایف پی)

چونکہ ملک میں خواتین کی حفاظت کو یقینی بنانے والی عوامی ٹرانسپورٹ کی خدمات محدود طور پر دستیاب ہیں تو اس سے افرادی قوت میں ان کی شرکت متأثر ہوتی ہے۔

وسیع و عریض بڑے شہر میں خواتین کو پرہجوم ٹریفک میں مرد بائیک سواروں کے لشکر میں شامل ہونے کی مہارت اور اعتماد فراہم کرنا آزادی کا ایک نیا در وا کرنے کے مترادف ہے۔

زیادہ تر سواروں کا تعلق کراچی کے متوسط طبقے سے ہے لیکن سخت صنفی اصول اب بھی غالب رہتے ہیں۔

یونیورسٹی لیکچرر شفق زمان نے کہا کہ دو ماہ قبل پیڈل بائیک میں مہارت حاصل کرنے کے لیے گھر والوں سے "اجازت ملنے میں کچھ وقت لگا"۔

دوپہر کے وسط کی دھوپ میں جمع ہونے والی چند درجن بائیک سواروں میں وہ اپنی سات سالہ بیٹی علیشا کے ساتھ موجود ہیں اور خواتین کے ایک قافلےکو انجن چلاتے ہوئے اور دھول کے بادلوں سے گذرتے ہوئے دیکھ رہی ہیں۔

30 سالہ زمان نے کہا، "میں بہت متأثر ہوئی ہوں کہ اب میرے لیے میرا اپنا ایک خواب ہے کہ میں ایک ہیوی بائیک پر سواری کرنا چاہتی ہوں۔ میں پورے پاکستان کی سواری کرنا چاہتی ہوں۔"

پانچ مارچ 2024 کی اس تصویر میں شفق زمان کراچی کے ایک کھلے میدان میں صرف خواتین کے گروپ "راؤڈی رائیڈرز" کے ساتھ سواری کے سبق کے دوران موٹر سائیکل چلانے کی تیاری کر رہی ہیں۔ (اے ایف پی)
پانچ مارچ 2024 کی اس تصویر میں شفق زمان کراچی کے ایک کھلے میدان میں صرف خواتین کے گروپ "راؤڈی رائیڈرز" کے ساتھ سواری کے سبق کے دوران موٹر سائیکل چلانے کی تیاری کر رہی ہیں۔ (اے ایف پی)

ان کی کہانی غیر معمولی نہیں ہے۔ پاکستان میں بہت کم عمر لڑکوں کو اکثر موٹر سائیکل چلاتے ہوئے دیکھا جاتا ہے لیکن بہت سے "راؤڈیز" نے کافی بڑے ہو کر بھی سائیکل چلانا نہیں سیکھا۔

ثنا کامران نے اعتماد سے 110 سی سی سوزوکی پر بیٹھتے ہوئے کہا، "ہر گھر میں ایک موٹر سائیکل ہونی چاہیے اور عام طور پر ہوتی ہے لیکن یہ سڑ رہی ہوتی ہے کیونکہ مرد اسے استعمال نہیں کرتے اور خواتین استعمال کرنا جانتیں نہیں۔"

41 سالہ خاتون نے پوچھا، "اگر خواتین گھریلو ذمہ داریاں سنبھال سکتی اور روزی کما سکتی ہیں تو وہ اپنی سہولت کے لیے موٹر سائیکل کیوں نہیں چلا سکتیں؟"

موٹر بائیکس پورے پاکستان میں ہر جگہ موجود ہیں - عموماً سرخ ہونڈا ماڈلز یا سستی چینی ری پروڈکشنز جو کسی بھی علاقے میں بائیک چلانے کی مہارت حاصل کرنے کے قابل سمجھی جاتی ہیں۔

موٹر سائیکل کو فتح کرنے کی جستجو میں 26 سالہ فروا زیدی کو ہڈیوں کے متعدد فریکچر کا سامنا کرنا پڑتا ہے — لیکن یہ چوٹیں عزت کا ایک نشان ہیں جسے وہ اپنی جیکٹ پر "راؤڈی رائیڈرز" کے تاج کی طرح فخر سے پہنتی ہیں۔

انہوں نے اپنے 70 سی سی برقی سکوٹر کے ساتھ کہا، "میں یہاں۔۔۔ مضبوطی سے کھڑی ہوں۔"

چار فٹ اور چھ انچ (137 سینٹی میٹر) قد والی زیدی نے کہا چھوٹے قد کی وجہ سے سٹی بسوں سے بھری ہوئی ٹریفک میں جگہ حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

سواری کی تربیت نے انہیں امکان کے ایک نئے احساس سے روشناس کروایا۔

وہ کہتی ہیں، "ایک بار جب ہم سائیکلنگ میں مہارت حاصل کر لیں تو اس سے دوسرے چیلنجوں پر قابو پانے کی ہماری صلاحیت میں ایک نیا اعتماد پیدا ہوتا ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں