اسلام آباد میں فوڈ ڈیلیوری سروس کے ساتھ 'گھر کا کھانا' فراہم کرتی خواتین کی تین نسلیں

2020 میں انہوں نے کووڈ-19 لاک ڈاؤن کے درمیان ماں اور نانی کے ساتھ 'تھری ککس' کا آغاز کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سبیکا قریشی تقریباً چھ سال تک پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے مختلف اسکولوں اور کالجوں میں پڑھاتی رہی تھیں۔ پھر 2019 میں بیٹے کی پیدائش کے بعد سے ان کے لیے گھر سے باہر کام اور خاندان کی دیکھ بھال کرنا مشکل ہوگیا۔

ایک سال سے زیادہ عرصے تک شہر کے دوسرے سرے پر رہنے والی اپنی والدہ کے پاس شیر خوار بیٹے کو چھوڑ کر وہ کام پر چلی جاتی تھیں لیکن اس کے بعد قریشی نے محسوس کیا کہ یہ طریقہ کام نہیں آ رہا ہے۔ 34 سالہ اکنامکس گریجویٹ اور اب دو بچوں کی ماں نے اپنی والدہ شبنم قریشی اور نانی شیریں گل کے ساتھ مل کر 2020 میں تھری ککس فوڈ ڈیلیوری سروس کا آغاز کیا کیونکہ کووڈ-19 لاک ڈاؤن نے عالمی سطح پر ریستوراں کی صنعت کو تباہ کر دیا تھا۔

یہ خیال نہ صرف سبیکا کے لیے کارآمد ثابت ہوا اور انہیں اپنا کاروبار شروع کرنے میں مدد فراہم کی بلکہ اس سے ان کی والدہ مالی طور پر بااختیار ہو گئیں اور یہ ان کی نانی کے کھانا پکانے کی میراث کو محفوظ رکھنے کا ایک ذریعہ بن گیا۔

سبیکا نے تھری ککس کے لیے کھانا پکانے کی سہولت میں عرب نیوز کو بتایا، "میں نے اپنی امی اور نانی کے ساتھ یہ آئیڈیا سوچا کہ چلیں ایک ساتھ گھر میں منتقل ہوتے ہیں اور ایک ساتھ رہتے ہیں تو شاید ہم کچھ کر سکیں"۔

تھری ککس کی شیفس [دائیں سے] شیریں گل، شنبم قریشی اور سبیکا قریشی
تھری ککس کی شیفس [دائیں سے] شیریں گل، شنبم قریشی اور سبیکا قریشی

کھانے کا کاروبار خاندان کے لیے نیا نہیں تھا۔

2000 کے عشرے کے اوائل میں شبنم نے مالی پریشانیوں کی وجہ سے گھر سے کھانے کے کاروبار کا منصوبہ شروع کیا تھا لیکن خاندان کے مالی حالات بہتر ہونے کے بعد اس سروس کو بند کر دیا۔ اب اپنے بچوں اور شوہر کی حوصلہ افزائی سے وہ دوبارہ کاروبار میں آگئی ہیں۔

55 سالہ شبنم نے کہا، "اصل بات یہ ہے کہ ضرورت کے علاوہ جذبہ بھی بہت اہم ہے تو اس پیشے میں آپ صرف اسی صورت میں [اچھا] کھانا بنا سکتے ہیں جب آپ میں جذبہ ہو۔ اگر آپ کو [کھانا پکانے میں] دلچسپی نہیں ہے تو آپ کچھ بھی نہیں کر سکتے۔"

تھری ککس اب بنیادی طور پر شبنم اور ان کے شوہر اور ایک بیٹا چلاتے ہیں اور پانچ کل وقتی عملے کے ساتھ ساتھ کھانا پہنچانے کے لیے سواروں کو بھی ملازم رکھا ہوا ہے۔ سبیکا گاہکوں سے معاملات طے کرنے میں شامل رہتی ہیں۔

ماں نے کہا، "جب ہم نے یہ [تھری کُکس] شروع کیا تو مجھے دلچسپی تھی اور اب بھی ہے لیکن یہاں تک پہنچنے میں میرے بچوں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ اور اعتماد، یہ میرے بچوں سے آیا ہے۔"

دریں اثنا سبیکا نے اسلام آباد میں ڈف جو کے نام سے ایک بیکری کھولنے کا کام شروع کیا ہے جس کا انتظام وہ اپنے شوہر اور سسرال کے ساتھ کرتی ہیں اور اس میں 20 افراد کام کرتے ہیں۔

قریشی کی نانی شیریں گل نے کہا کہ ان کی بیٹی اور نواسی کا کام دیکھنا ان کی "خوشی" کی وجہ تھا۔

نانی نے عرب نیوز کو بتایا، "یہ زندگی ہے۔ بیکار بیٹھنا، اس سے خوشی نہیں ملتی۔ اصل خوشی تب ہوتی ہے جب کوئی شخص کام کرتا ہے۔"

"اور ایک اور چیز، جو عورت اپنے دل سے کھانا پکاتی ہے، اس میں جو ذائقہ ہوتا ہے، وہ ذائقہ کسی اور چیز میں نہیں مل سکتا۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں