راولپنڈی میں 'دیسی' مرغ کا شوربہ یا 10 ہزار روپے انعام کا وعدہ کرنے والا ریستوران

1970 سے قائم شدہ چکن یخنی سنٹر موسمِ سرما میں روزانہ 1000 کپ تک فروخت کرتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

شیف نے اسٹائرو فوم کپ میں فراخدلی سے شوربہ نکالا اور اس کے اوپر ابلے ہوئے انڈے کے بڑے ٹکڑے اور چکن کے ٹکڑے رکھ دیئے۔

یہ منظر راولپنڈی کے مصروف علاقے صدر میں مشہور چکن یخنی سنٹر کا ہے جو 1970 کے عشرے سے وفادار گاہکوں کو یخنی یا شوربہ پیش کر رہا ہے جو مزید یہاں کا چکر لگاتے رہتے ہیں۔

جنوبی ایشیائی ممالک میں یخنی ایک بھرپور شوربہ ہوتا ہے جو ہلکی آنچ پر پکائے گئے چکن، گائے یا بھیڑ کے بچے کے گوشت سے اور سیاہ الائچی، ادرک اور لہسن جیسے مصالحہ جات کے ساتھ بنایا جاتا ہے۔ اس کے صحت سے متعلق فوائد کی وجہ سے اسے بہت اہم سمجھا جاتا ہے اور یہ پاکستان میں موسمِ سرما کا اہم حصہ بن جاتا ہے خاص طور پر دیسی یا فری رینج، نامیاتی چکن کا استعمال کرتے ہوئے تیار کی جانے والی اقسام۔ دیسی مرغیوں کو دیہی ماحول میں پالا جاتا ہے اور ان کے دبلے پتلے گوشت اور بھرپور ذائقے کی بنا پر برائلر مرغیوں پر انہیں ترجیح دی جاتی ہے جو فیکٹری فارموں پر گوشت کے لیے پالے جانے والے پرندے ہیں۔

یخنی
یخنی

کیپشن: ایک ویڈیو سے لی گئی تصویر میں 6 مارچ 2024 کو راولپنڈی کے مصروف علاقے صدر میں چکن یخنی سنٹر میں صارفین چکن کی یخنی سے انصاف کر رہے ہیں۔ (اے این)

چکن یخنی سنٹر میں مالکان جس چکن کی یخنی بناتے ہیں، اس کے معیار پر انہیں اتنا فخر ہے کہ انہوں نے اپنے گاہکوں کو ایک چیلنج دے رکھا ہے۔ انہوں نے دکان کے باہر ایک چمکدار سائن بورڈ پر اشتہار دیا ہوا ہے: اگر کوئی گاہک یہ ثابت کر سکتا ہے کہ یخنی تیار کرنے کے لیے دیسی چکن استعمال نہیں کیا جاتا تو انتظامیہ انہیں 10,000 روپے (35.78) کا انعام دے گی۔

دکان کے مینیجر عدیل طارق جن کے والد کی یہ ملکیت ہے، نے عرب نیوز کو بتایا۔ "ہمارا چیلنج رہتا ہے کہ جو کوئی یہ دعویٰ کرے کہ یہ دیسی [مرغیاں] نہیں ہیں، وہ سامنے آئیں اور اسے ثابت کریں۔ہم یقینی طور پر اسے انعام دیں گے۔"

طارق کے دادا حاجی میرا بخش نے 1970 کے عشرے میں دکان کھولی جس کے بعد ان کے والد طارق محمود نے 2000 کے عشرے کے اوائل میں یہ دکان سنبھالی۔ طارق نے کہا کہ محمود ہی نے اس چیلنج کا خیال پیش کیا جس کا فروخت پر مثبت اثر ہوا ہے۔"

لیکن یہ یخنی کا ذائقہ اور معیار ہے جو واقعی بکتا ہے:

"ہم نہ صرف دیسی چکن بلکہ لہسن، ادرک اور دیگر دیسی گھریلو اجزاء استعمال کرتے ہیں۔ ہمارے اپنے مصالحہ جات بھی ہیں اس لیے اس کا اثر سوپ پر بھی ہوتا ہے۔"

طارق اکتوبر سے 31 مارچ تک دکان چلاتے ہیں اور نومبر، دسمبر اور جنوری میں فروخت عروج پر ہوتی ہے جب راولپنڈی میں سخت سردی کے باعث یخنی کے بھاپ اڑاتے کپ سردیوں کا بہترین حل ہوتے ہیں۔

قیمت بھی سستی ہے: چکن اور ابلے ہوئے انڈے کے ساتھ یخنی کے ایک بڑے کپ کی قیمت 250 روپے (0.89) ہے جبکہ صرف انڈے اور یخنی والے ایک کپ کی قیمت 200 روپے (0.72) ہے۔

طارق نے کہا، "ان [سردیوں کے] مہینوں میں ہم اوسطاً ایک ہزار سے زیادہ [کپ] فروخت کرتے ہیں۔"

اور جب موسم گرما شروع ہوتا ہے تو کیا ہوتا ہے؟

طارق نے کہا، "ہم دکان اپنے کزنز کو کرائے پر دیتے ہیں جو سردیوں کے دوبارہ آنے تک اسے کپڑے فروخت کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔"

اسلام آباد میں رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی کے ایک 39 سالہ استاد ذیشان اشرف نے کہا کہ چکن یخنی سنٹر ان کے اور ان کے دوستوں کے لیے موسمِ سرما کی بہترین جگہ ہے۔

اشرف نے یخنی کی دکان کے باورچیوں کا حوالہ دیتے ہوئے عرب نیوز کو بتایا، "خدا نے ان کے ہاتھ میں بہت ذائقہ رکھا ہے۔ میں دوسروں سے گذارش کروں گا کہ وہ بھی اس جگہ کو آزمائیں۔"

وزارتِ صحت میں کام کرنے والی گاہک نازش دلاور نے بتایا کہ وہ اور ان کے اہل خانہ جب بھی سردیوں میں صدر کے علاقے سے گذرتے تو یخنی کی دکان پر ضرور جاتے تھے۔

دلاور نے کہا، "اس کا ذائقہ ایسا ہے جیسے اس میں دیسی چکن ہو لیکن ہم یہ نہیں بتا سکتے کہ یہ واقعی دیسی چکن ہے یا نہیں۔"

اشرف نے کہا یہ بتانا ممکن نہیں کہ یہ سوپ برائلر سے بنایا گیا ہے یا دیسی چکن سے۔

گاہک نے زوردار آواز سے اپنے یخنی کے کپ سے چسکی لیتے ہوئے کہا، "لیکن جب آپ [چکن] کا ٹکڑا کھاتے ہیں تو پتہ چل جاتا ہے کہ یہ دیسی چکن ہے۔"

تو کیا کبھی کوئی 10,000 روپے کا انعام لے کر گیا ہے؟

طارق نے مسکراتے ہوئے کہا، "نہیں۔ ابھی تک کوئی یہ ثابت نہیں کرسکا کہ ہم اپنی یخنی میں دیسی مرغیوں کے علاوہ کچھ اور استعمال کرتے ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں