ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ،کراچی کےماہی گیر پلاسٹک کی کشتیوں پرخطرناک سفرکرنے پرمجبور

بیرل سے بنی کشتیوں کی مقبولیت کی وجہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہے: کشتی ساز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

اس ہفتے کے اوائل میں صبح سے پہلے کے کہرے میں جوں ہی پاکستان کے جنوبی بندرگاہی شہر کراچی کی پسماندہ ساحلی بستیوں میں ماہی گیر برادریوں نے آنکھ کھولی تو 12 سالہ دانش رفیق بھٹ جزیرے پر واقع اپنے گھر سے نکلا اور بحیرۂ عرب کے وسیع و عریض حصے میں پلاسٹک کے بیرل سے بنی خستہ حال کشتی پر عازمِ سفر ہو گیا۔

اس عزم کے احساس کے ساتھ جو اس کی نازک عمر سے بڑا ہے، رفیق نے اس امید میں گہرے پانیوں میں اپنا جال پھینکا کہ اس شکار سے وہ اپنے غریب خاندان کے لیے کچھ انتہائی ضروری نقدی کما کر لے جا سکے گا۔ اس کی عارضی، دستی طور پر چلنے والی اور گہرے پانیوں میں تیرنے اور شکار کی تدبیر کرنے کے لیے ڈیزائن کی گئی بیرل کشتی اس محاورے کی بخوبی عکاسی کرتی ہے کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے۔

پاکستان میں ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیشِ نظر ایسی کشتیاں کئی ماہی گیروں کے لیے واحد امید بن گئی ہیں جو پیٹرول یا ڈیزل کی زیادہ محفوظ اور مؤثر کشتیوں کے متحمل نہیں ہیں۔

جزیرہ مینورا کے قریب کراچی پورٹ چینل پر رفیق کی چھوٹی کشتی لنگر انداز تھی جس کے اندر رکھے وزنی پیمانے پر اپنے شکار کو وزن کرنے کے لیے رکھتے ہوئے انہوں نے عرب نیوز کو بتایا، "میں نے یہ مچھلی صبح سے پکڑی ہے۔ اس کی قیمت ایک ہزار روپے ہے۔ یہ چار کلو گرام ہے اس لیے اس کی قیمت اتنی ہے۔"

کیا وہ پلاسٹک کی خطرناک کشتی پر سفر کرتے ہوئے خوف محسوس کرتے ہیں؟ اس سوال پر انہوں نے کہا: "میں کیا کر سکتا ہوں؟ ہم اپنی روزی کشتیوں سے، انہی چھوٹی کشتیوں سے کماتے ہیں۔"

ایک ماہی گیر اور قریبی جزیرے صالح آباد میں برادری کے ایک بزرگ موسیٰ عمر نے کہا کہ ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے چھوٹی کشتیوں پر انحصار بڑھ رہا تھا۔

انہوں نے کہا، "ڈیزل [قیمت میں] مہنگا ہو گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غریب بچے ان کشتیوں پر ماہی گیری پر مجبور ہیں۔ وہ بڑی کشتیوں کے مالک بننا بھی چاہتے ہیں تاکہ ماہی گیری کا اچھا کاروبار کریں لیکن ڈیزل کا خرچہ کوئی نہیں اٹھا سکتا۔۔ ان لوگوں کو گھر پر روٹی بمشکل ملتی ہے۔"

انہوں نے کہا پلاسٹک کے بیرل کی بڑھتی ہوئی دستیابی ان کشتیوں کے پھیلاؤ کا باعث بنی جس کی بنا پر ہزاروں کشتیاں اب ساحلی دیہاتوں اور سمندر کے قریب جزیروں پر موجود ہیں۔

"انتہائی خطرناک"

صالح آباد جزیرے پر 42 سالہ محمد محسن نے اپنی تازہ ترین تخلیق پر حتمی کام مکمل کیا: پلاسٹک کے بیرل سے بنی ایک کشتی، لکڑی کے کچھ چھوٹے ٹکڑے اور نٹ اور بولٹ۔ صرف 16,000 روپے میں یہ کشتی سمندر میں سفر کرنے کے لیے تیار ہے۔

محسن نے ایک نٹ کو اس کی جگہ پر لگاتے ہوئے وضاحت کی، "اس کی قیمت کم ہے۔ اگر آپ ایک بڑی کشتی میں جاتے ہیں تو صرف ایندھن کے لیے 8,000-10,000 روپے درکار ہیں جبکہ اس پر اتنے اخراجات اٹھانے کی ضرورت نہیں۔"

کشتی ساز نے مزید کہا، "یہ دستی طور پر چلنے والی کشتیاں ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے درمیان پائیدار ذریعۂ معاش کا ایک آپشن پیش کرتی ہیں۔"

یہی وجہ ہے کہ 37 سالہ غلام پرویز نے اپنے چھ افراد کے خاندان کے لیے کم خرچ پر آمدنی حاصل کرنے کی صلاحیت کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں استعمال کرنا شروع کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ اگر ایک دن ہم کوئی اچھی چیز پکڑ لیں جیسے ڈھائی ہزار تک کما لیں تو ہمارا دن آرام سے گذر جاتا ہے۔ اگر کسی دن بہت تیز ہوا چلتی ہے یا ہم باہر نہیں نکلتے ہیں تو اسے ہمارے روزے کا دن سمجھیں، نہ صرف ہمارے بلکہ پورے خاندان کے لیے روزے کا دن۔"

انہوں نے کمزور کشتیوں کو سمندر تک لے جانے میں درپیش بہت زیادہ خطرے کو تسلیم کیا لیکن کہا یہ ان کے خاندان کے لیے "زندگی کی لکیر" ہے۔

پرویز نے اعتراف کیا، "یہ بہت خطرناک ہے، انتہائی خطرناک۔ اس میں بیٹھنا ہی بہت مشکل ہے، پہلے آپ کو اس میں بیٹھنا سیکھنا ہوگا۔"

کشتیوں کے گذرنے کی وجہ سے پیدا شدہ سمندری لہروں کی ہنگامہ خیزی کے باعث بعض اوقات عارضی کشتیاں الٹ جاتی تھیں جس کی وجہ سے واپس سوار ہونے کی کوشش کرتے ہوئے ماہی گیر کشتی میں رکھے شکار سے محروم ہو جاتے تھے۔

پرویز نے افسوس کا اظہار کیا، "ایک مچھلی کے تعاقب میں پہلے پکڑے گئے تین یا چار شکار پانی میں گر سکتے ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں