میرے خلاف آرٹیکل چھ کا مقدمہ چلانا ہے تو چلائیں: سابق صدر علوی

ملک کو جوڑنے کے لیے سب سے اہم بات عمران خان کی رہائی ہے، اگر ان کا ’اچھی‘عدالت کے اندر ٹرائل ہو تو وہ بہت جلدی رہا ہو جائیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان کے سابق صدر ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ اگر ان کے خلاف آرٹیکل چھ کے تحت مقدمہ چلانا ہے تو چلائیں۔

سابق صدر مملکت نے صدارت کا منصب چھوڑنے کے بعد کراچی میں پہلی پریس کانفرنس میں مختلف جماعتوں کی آئین کی خلاف ورزی کرنے کے الزامات کرنے کے حوالے سے سوال پر سابق صدر نے کہا کہ میں آئین کی پاسداری کی، میں نے جو مناسب سمجھا وہ کیا، میں کوئی آئینی ماہر اور جو مجھے بہترین مشورہ ملا وہ کیا اور عدالت نے بھی آرٹیکل چھ کا کوئی ذکر نہیں کیا، اس کے باوجود اگر کوئی چاہتا ہے کہ آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی کی جائے تو عدالت سے رجوع کر سکتا ہے۔

سابق صدر مملکت عارف علوی نے کہا ہے کہ پاکستان بڑے مشکل حالات سے گزر رہا ہے، سیاسی قوتیں اور اسٹیبلشمنٹ پاکستان کو جوڑنے کے لیے اچھے اقدام کریں اور ملک کو جوڑنے کے لیے سب سے اہم بات عمران خان کی رہائی ہے، اگر ان کا ’اچھی‘عدالت کے اندر ٹرائل ہو تو وہ بہت جلدی رہا ہو جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ملک نے جس مینڈیٹ کا اظہار کیا ہے اس کا احترام کیا جائے، عمران خان پر 200 کے قریب مقدمات ہیں جس میں سے تین بڑے مقدمات کے فیصلے بھی آئے ہیں۔

عارف علوی نے کہاکہ پاکستان کو جوڑنے کے لیے سب سے بڑی بات یہ ہے کہ عمران خان کو رہا ہونا چاہیے اور میں یہ بات ابھی نہیں کہہ رہا بلکہ اگر آپ نے میری گذشتہ دو ماہ کی تقریریں سنی ہوں تو میں نے اس میں بھی مینڈیٹ کا ذکر ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملکی استحکام، معیشت اور سیاسی حالات کے اعتبار کے حساب سے ضروری ہے کہ ملک کو جوڑا جائے اور ملک کو جوڑنے کے لیے سب سے بڑی پیشرفت یہی ہونی چاہیے کہ مینڈیٹ کو تسلیم کیا جائے اور میں سیاسی قوتوں سے بھی کہتا ہوں کہ اس بات پر توجہ دیں اور اسٹیبلشمنٹ سے بھی کہتا ہوں کہ پاکستان کو جوڑنے کے لیے اچھے اقدام کیے جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پچھلے دو ڈھائی سال کے دوران سر کے بل کھڑا ہو کر جتنا کام کر سکتا تھا وہ کیا، ہر اعتبار سے کوشش کی کہ معاملے کو جوڑا جائے، اپنی ایڑی چوٹی کا زور لگایا اور زندگی کا سارا علم استعمال کر لیا لیکن اس میں مجھے کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی۔

سابق صدر نے مزید کہا کہ وہ اپنے دور میں جمہوری اقدار پر قائم رہے۔ ’آئین کی پاسداری کی اور جو مناسب تھا وہ کیا۔‘

ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ وہ احتساب پر قائم رہے۔ ’میں پارٹی کے اصول پر قائم رہا۔ پارٹی کا اصول تھا کہ کرپشن کے خلاف رہو، میں کرپشن کے خلاف رہا۔

’میرا حلف کہتا ہے کہ کوئی راز پتہ چلے تو وزیر اعظم کی اجازت کے بغیر نہ بتاؤ۔ وزیر اعظم حلف اٹھاتا ہے کہ اگر اسے پتہ چلے کہ کوئی راز عوامی مفاد میں ہے تو اسے سامنے لائے۔‘

سابق صدر کا کہنا تھا کہ معیشت دو تین سال سے زوال پذیر رہی اور ملک انتشار کا شکار رہا، ملک میں عوامی مینڈیٹ کی قدر کی جائے۔’میری کوشش رہی کہ ملک کو جوڑا جائے۔ پاکستان کی بات کرتا ہوں اور کرتا رہوں گا۔‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں