گلگت بلتستان کے جنگلات کی حفاظت کے لیے نئی فورس کی تشکیل

جنگل محافظوں کی پہلی کھیپ کی تربیت مکمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان کے شمالی علاقہ جات گلگت و بلتستان میں جنگلی تحفظ کے لیے پہلی فورس تشکیل دے دی گئی ہے۔ سرکاری حکام نے تصدیق کی ہے کہ نئی فارسٹ فورس کو پولیس کے تربیتی کالج میں تربیت دی گئی ہے۔

اسی گلگت بلتستان سے ہی پاکستان اور چین کے درمیان اکلوتی رابطہ سڑک گذرتی ہے۔ اس کی زمین کا صرف ایک فیصد حصہ زیر استعمال ہے۔ جو زراعت اور مواصلات کے لیے کام آتا ہے۔

جبکہ بقیہ زمین جو 72000 مربع کلومیٹر پر محیط ہے۔ اس میں سے صرف چار فیصد علاقہ جنگلی پیداوار کے لیے بروئے کار ہے۔ ان جنگلوں کی حفاظت کے لیے تشکیل دی گئی فورس میں 52 کیڈٹس شامل ہوئے ہیں۔ ان کی پاسنگ آؤٹ پریڈ ہفتے کے روز پولیس ٹریننگ کالج میں منعقد کی گئی تھی۔

سیکرٹری جنگلات و جنگلی حیات ظفر وقار تاج نے بتایا ہے ' اس سے پہلے گلگت بلتستان میں جنگلوں کے تحفظ کے لیے کوئی فورس موجود نہیں تھی۔ یہ کام اس سے پہلے صرف چوکیداروں سے لیا جاتا تھا جو جنگلوں اور جنگلی حیوانات کے شعبے دونوں کی حفاظت کے ذمہ دار سمجھے جاتے تھے۔ '

ایک سوال کے جواب میں سیکرتری ظفر وقار نے بتایا ہر سال دو سو نئے کیڈٹس اس فورس میں شامل کیے جائیں گے۔ اس طرح اگلے چار برسوں کے دوران ان کی مجموعی تعداد 850 ہو جائے گی۔ ان میں سپروائزرز، گیم واچرز، رینج فاریسٹس آفیسرز اور فاریسٹ گارڈز شامل ہوں گے۔

ان تربیت پانے والے کیڈٹس کو کرمنل پروسیجر کوڈ فاریسٹ اینڈ وائلڈ لائف اور وائلڈ لائف ایکٹ پڑھایا گیا ہے۔ انہیں آئی ٹی کی تعلیم اور تربیت بھی دی گئی ہے۔ نیز اسلحے کے دستعمال کی تربیت دی گئی ہے۔

اس فورس کی تشکیل کا بنیادی مقصد جنگلوں کی غیر قانونی کٹائی کو روکنا ہے۔ اسی طرح درختوں اور لکڑی کی غیر قانونی نقل و حمل کو روکنا ہے۔

واضح رہے گلگت بلتستان کے ان جنگلوں میں منفرد قسم کی جنگلی حیات پائی جاتی ہے ۔ جن میں مارخور، اڑیال، نیلی بھڑ، وغیرہ معروف ہیں۔ اسی طرح پاکستان میں لکڑی کی سالانہ طلب پیداوار کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہوتی ہے۔ ہر سال پاکستان کو 66700 ایکڑوں پر پھیلی زمین سے درختوں کا نقصان ہو رہے ہیں۔ اس فورس کی تشکیل سے غیر قانونی طور پر جنگلوں کی کٹائی اور لکڑی چوری رک سکے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں