’ہم بھولیں گے نہیں‘:پاکستانی طلباء نےغزہ کے بچوں سےاظہارِ یکجہتی کے لیے پتنگیں اڑائیں

فلسطینی پرچم کے رنگوں والی پتنگیں فلسطینی شناخت کے لیے اتحاد اور حمایت کی علامت تھیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

غزہ کے بچوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے پاکستانی طلباء نے اتوار کو جنوبی بندرگاہی شہر کراچی کے سی ویو ساحل کا رخ کیا اور سبز، سیاہ اور سرخ رنگ کی پتنگیں اڑا کر فلسطینی بچوں کے لیے اس امید کا اظہار کیا کہ انہیں بھی بلندی کی آزادی ملے۔

یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی جب فلسطینی رمضان کے مقدس مہینے کی تیاری کر رہے تھے۔

کراچی میں پتنگ بازی کی تقریب کا انعقاد انصاف و امن فاؤنڈیشن کے خیراتی ادارے نے برطانیہ میں قائم اقدام ’کائٹس اِن سالیڈیرٹی‘ کے تعاون سے کیا تاکہ غزہ کے لوگوں بالخصوص بچوں اور خواتین کی حالتِ زار کو نمایاں کیا جا سکے۔

درجنوں پاکستانی طلباء اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے فلسطینی بچوں کو خراجِ تحسین پیش کیا اور غزہ کے عوام کے حقوق کی جدوجہد میں ان کی غیر متزلزل حمایت کا اظہار کیا۔

اے لیول کی 17 سالہ طالبہ اور منتظمین میں سے ایک ہانیہ انور شیخ نے عرب نیوز کو بتایا، "ہم غزہ کے بچوں، عورتوں اور مردوں کو بھولیں گے نہیں۔"

"میں امید کرتی ہوں کہ یہ چھوٹا سا اقدام ہمارے ملک، ہمارے شہر اور پوری دنیا میں بہت سے دوسرے لوگوں کو متأثر کرے گا کیونکہ ہمیں دنیا اور ایک دوسرے کو یہ یاد دلانے کی ضرورت ہے کہ فلسطین میں کیا ہو رہا ہے۔"

10 مارچ 2024 کو کراچی، پاکستان میں ایک تقریب کے دوران غزہ کے بچوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے آسمان پر پتنگیں اڑ رہی ہیں۔   (اے این فوٹو)
10 مارچ 2024 کو کراچی، پاکستان میں ایک تقریب کے دوران غزہ کے بچوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے آسمان پر پتنگیں اڑ رہی ہیں۔ (اے این فوٹو)

پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا اور "بین الاقوامی طور پر متفقہ پیرامیٹرز" اور 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی ایک آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ کرتا ہے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔

اتوار کو کراچی میں ہونے والی تقریب برطانیہ، امریکہ، متحدہ عرب امارات، سری لنکا اور دنیا کے دیگر حصوں میں پتنگ بازی کی طرح تھی جس میں فلسطینی شناخت کے لیے اتحاد اور حمایت کی علامت کے طور پر پتنگوں پر فلسطینی پرچم کے رنگوں کی عکس بندی کی گئی تھی۔

شیخ نے کہا، "ہم نے یہ فلسطینی عوام اور ان کی شناخت کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے طور پر کیا ہے،" اور مزید کہا کہ یہ دنیا کے لیے ایک غزہ کی صورتِ حال کی"قوی یاد دہانی" کا کام کرے گا۔

ایک 14 سالہ طالب علم علی محمد نے کہا کہ یہ تقریب غزہ کے لوگوں کے لیے "یکجہتی کی علامت" ہے جنہیں روزانہ کی بنیاد پر ظلم و ستم اور محرومیوں کا سامنا ہے۔

محمد نے عرب نیوز کو بتایا، "بطورِ پاکستانی ہم غزہ کی حمایت کرتے ہیں اور اسرائیل کے خلاف ہیں۔ غزہ میں بچوں، عورتوں اور مردوں پر بہت ظلم ہو رہا ہے۔ انہیں کئی دنوں تک کھانا نہیں ملتا۔ ان کے پاس پانی نہیں ہے۔"

17 سالہ ایمان علی نے کہا کہ اس تقریب کا مقصد غزہ میں فلسطینیوں کی "نسل کشی" کو نمایاں کرنا تھا۔

انہوں نے کہا، "ہم بھلا نہیں سکتے۔ کیونکہ شروع میں ہر کوئی اس کے بارے میں بات کرتا تھا، ٹھیک ہے۔ لیکن اب اس کے علاوہ بھی مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔ ہمارے انتخابات ہو چکے ہیں، طلباء کے امتحان ہو رہے ہیں، سب کچھ ہو رہا ہے۔"

"ہمیں زندگی کو ایسے ہی جاری نہیں رہنے دینا چاہیے جیسے یہ ہے۔ یہ سب کے لیے ایک یاد دہانی ہے کہ نسل کشی اب بھی جاری ہے۔"

آرگنائزر شیخ نے کہا پتنگ بازی 2011 سے غزہ کے بچوں کے لیے یکجتی کی ایک علامت بن گئی ہے جب انہوں نے شمالی غزہ کے ساحل پر 12,000 سے زیادہ پتنگیں اڑا کر عالمی ریکارڈ توڑا۔

انہوں نے مزید کہا، "ہم ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے اس امید پر پتنگ اڑاتے ہیں کہ ایک دن وہ اس پتنگ کی طرح آزاد ہوں گے جو ہم اڑاتے ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں