بیل آؤٹ پیکج منظوری کا حتمی جائزہ لینے آئی ایم ایف وفد کی پاکستان آمد

آئی ایم ایف سے بڑا اور طویل مدت کا پروگرام چاہتے ہیں: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ [آئی ایم ایف] کا ایک جائزہ مشن آج بروز بدھ [تیرہ مارچ] کو پاکستان پہنچ رہا ہے۔ اس دورے کا مقصد پاکستان کے لیے تین بلین ڈالر کے اسٹینڈ بائی ایگریمنٹ کا دوسرا اور آخری جائزہ لینا ہے۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے موصولہ خبر رساں ادارے رائٹرز کی ایک رپورٹ میں دو ذارئع کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا جو وفد آج بدھ کے روز پاکستان پہنچ رہا ہے، وہ پہلے سے طے شدہ تین بلین ڈالر کے اسٹینڈ بائی پروگرام کا دوسرا اور حتمی جائزہ لے گا۔

پاکستانی وزارت مالیات کے دو اہلکاروں نے اپنے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے اس مشن کے چار روزہ دورے کا باضابطہ آغاز جمعرات 14 مارچ سے ہوگا، جس دوران اسٹینڈ بائی ایگریمنٹ کو آخری بار ریویو کیا جائے گا۔ ان اہلکاروں نے اپنے نام اس لیے ظاہر نہ کیے کہ وہ میڈیا کو کوئی تفصیلات بتانے کے مجاز نہیں تھے۔

اسلام آباد حکومت نے گذشتہ موسم گرما میں ایک خودکار فنانشل ڈیفالٹ کو روکنے کے لیے اور آخری سانسیں لینے والے مانیٹری ریسکیو پیکج کو بچاتے ہوئے یہ ڈیل طے کی تھی۔

آئی ایم ایف کے مشن کا یہ حتمی جائزہ کامیاب رہنے کی صورت میں پاکستان کو تقریباً 1.1 بلین ڈالر کی مالی قسط جاری کر دی جائے گی۔

وزیر اعظم شہباز شریف پہلے ہی اپنی فنانس ٹیم کو، جس کی سربراہی نئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کر رہے ہیں، 11 اپریل کو اسٹینڈ بائی ایگریمنٹ کی مدت پوری ہو جانے کے بعد توسیع شدہ مالیاتی سہولت یا 'ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلیٹی‘ (ای ای ایف) کے حصول پر کام شروع کرنے کی ہدایات جاری کر چکے ہیں۔

ادھر وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے مذاکرات اور شرحِ سود سے متعلق حکومتی حکمتِ عملی بیان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان چاہتا ہے کہ آئی ایم ایف نہ صرف موجودہ پروگرام کی قسط دے بلکہ ایک بڑا بیل آؤٹ پیکیج جاری کرے تاکہ ملک میں معاشی استحکام کا گراف بلند کیا جاسکے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام میں تسلسل سے ہی معاشی نظم و ضبط رہے گا، معیشت کی بہتری آئی ایم ایف سے زیادہ ہماری حکومت کا ہدف ہے، معیشت کی بہتری کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کا ویژن واضح ہے، وزیراعظم نے معاشی نظم و ضبط قائم رکھنے کی سخت ہدایت کی ہے۔

نئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے لائحہ عمل کے بارے میں بتایا کہ جی ڈی پی (مجموعی قومی پیداوار) میں اضافے کا ملک میں معاشی استحکام سے براہِ راست تعلق ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کی ٹیم کو مدعو کیا ہے تاکہ معاملات پر بھرپور نظرِثانی کی جائے۔ اس موقع پر وسیع تر extended پیکیج کے لیے بات چیت کی جائے گی۔

یاد رہے کہ پاکستان کا موجودہ آئی ایم ایف پروگرام اسٹینڈ بائی اریجمنٹ ہے اور اطلاعات ہیں کہ پاکستان چھ ارب ڈالر کے ایک extended پروگرام کی کوشش کر رہا ہے۔

تاہم وزیر خزانہ نے اپنی گفتگو میں نئے پروگرام کا حجم نہیں بتایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اِس مرحلے پر پیکیج کی مالیت کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا۔

محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ وسیع تر پیکیج بجٹ پر وسیع اثرات کا حامل ہوگا اس لیے آئی ایم ایف سے فوری اِن پُٹ کی ضرورت ہے۔ ہماری ترجیح ہوگی کہ وسیع تر پیکیج کے لیے ابتدائی مذاکرات ابھی ہو جائیں۔

آئی ایم ایف سے حقیقی فیصلہ کن مذاکرات موسمِ بہار کے دوران ہونے والی میٹنگز میں ہوں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں