پشاور ہائی کورٹ: سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے لیے درخواست خارج

خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کے لیےسنی اتحاد کونسل کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت جسٹس اشتیاق ابراہیم کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بنچ نے کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

پشاور ہائی کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی جانب سے مخصوص نشستیں حاصل کرنے کے لیے الیکشن کمیشن کے خلاف دائر درخواست کو خارج کر دیا۔

پشاور ہائی کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بنچ نے متفقہ طور پر مختصر فیصلہ جاری کیا کہ سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستیں نہ ملنے کے خلاف درخواست کو مسترد کردیا۔

خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کے لیےسنی اتحاد کونسل کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت جسٹس اشتیاق ابراہیم کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بنچ نے کی، جس میں جسٹس اعجاز انور، جسٹس عتیق شاہ، جسٹس شکیل احمد اور جسٹس سید ارشد علی شامل ہیں۔

وکلا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد پشاور ہائی کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستیں نہ ملنے کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا جو کہ ایک بجے سنایا گیا۔

واضح رہے کہ پشاور ہائی کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستیں الاٹ کرنے کے خلاف دائر درخواست پر منتخب ارکان کو حلف اٹھانے سے روکنے کے حکم میں 13 مارچ تک توسیع کردی ہے۔

یاد رہے کہ الیکشن کمیشن نے خواتین کے لیے 20 مخصوص نشستیں اور تین اقلیتی نشستیں سنی اتحاد کونسل کو دینے سے انکار کردیا تھا، پشاور ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ قومی اسمبلی کی تمام بقیہ مخصوص نشستوں اور خیبرپختونخوا اسمبلی کی نشستوں پر لاگو ہوا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں