ڈینی موریسن کے انداز میں کرکٹ کمنٹری کرنے والے پاکستانی شخص کی انٹرنیٹ پر دھوم

بیٹانی مقامی ٹورنامنٹس میں کمنٹری کے لیے مدعو، بین الاقوامی سیریز میں دعوت کی امید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

نوجوان نے عارضی مائیکروفون کے طور پر ہتھوڑا اپنے منہ تک رکھا، سیدھا کیمرے کی طرف دیکھا اور ایک خیالی کرکٹ میچ کے بارے میں پرجوش کمنٹری کرنے لگا۔

لہجہ مخصوص ہے: نیوزی لینڈ کے مشہور کرکٹ مبصر اور سابق کرکٹر ڈینی موریسن کا لیکن آواز کے پسِ پردہ ایک 21 سالہ پاکستانی ہے جو راتوں رات مشہور ہو گیا جب سوشل میڈیا پر اثر انداز ہونے والےایک شخص نے ان کی کمنٹری کی ویڈیو بنائی اور فوٹیج وائرل ہو گئی۔

وقار بیٹانی کا تعلق شمال مغربی صوبہ خیبرپختونخوا کے لکی مروت کی ایک غریب اور غیر مستحکم آبادی سے ہے لیکن وہ دو عشرے قبل پانچ بہنوں اور چار بھائیوں سمیت اپنے خاندان کے ساتھ صوبائی دارالحکومت پشاور منتقل ہو گئے تھے جہاں وہ اس وقت حیوانیات کی ڈگری حاصل کر رہے ہیں اور بیک وقت دو ملازمتیں کرتے ہیں۔

عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے بیتانی نے کہا کہ ان کے پہلے ویڈیو کلپ کی کامیابی نے انہیں ٹک ٹاک اور انسٹاگرام پر خود اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس قائم کرنے کی ترغیب دی۔

انہوں نے کہا کہ میں نے وہاں ویڈیوز پوسٹ کرنا شروع کیں اور وہ وائرل ہونے لگیں۔

"جب میں بات کرتا ہوں تو میں کہتا ہوں کہ میرا نام 'ڈینی موریسن لائٹ' ہے اس لیے میں ان کا لائٹ ورژن ہوں کیونکہ مجھے ان کی کمنٹری پسند ہے اور میرا لہجہ ان ہی کے جیسا ہے۔"

بیٹانی نے کہا کہ لوگوں نے بڑی تعداد میں انہیں بتایا کہ وہ موریسن کی طرح لگتے ہیں: "اس لیے غالباً میں کہوں گا کہ وہ کمنٹری میں میرے آئیڈیل ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ جب وہ اسکول جانے والا بچہ تھے، اسی وقت سے انہیں انگریزی بولنے اور اسے بہتر کرنے میں بہت لطف آتا تھا۔

"میں ہر روز اپنی انگریزی دانی کی مہارت کو بہتر کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ اسکول میں میں اپنے اساتذہ اور دوستوں کے ساتھ کبھی کبھار انگریزی میں بات کرتا تھا اور عوام میں اور سوشل میڈیا پر اسے بولنے کا اعتماد حاصل کیا۔"

بیٹانی نے کہا کہ وہ بچپن سے ہی خاصے جنون سے کرکٹ دیکھتے تھے اور ٹیلی ویژن کی کمنٹری بلند آواز میں سنتے تھے جس سے انہیں مبصرین کی نقل کرنے اور مقامی کرکٹ گراؤنڈز میں کمنٹری کرنے کی ترغیب دی۔

موریسن برسوں سے ان کے پسندیدہ رہے ہیں

"ڈینی موریسن میرے لیے باعثِ تحریک ہیں اور مجھے کمنٹری میں ان کی جارحیت پسند ہے جس کے لیے مختلف کرکٹ لیگز میں دنیا بھر میں ان کی تعریف کی جاتی ہے۔"

"یہ میری زندگی ہے"

شمال مغربی شہر میں اپنے بہت سے دوستوں کی طرح بیٹانی بھی پشاور زلمی کے مداح ہیں جو پاکستان سپر لیگ مین کھیلنے والی ایک پاکستانی فرنچائز ٹی 20 کرکٹ ٹیم ہے اور کے پی کے دارالحکومت پشاور کی نمائندگی کرتی ہے۔

بیٹانی نے کہا، "میں اپنی ٹیم پشاور زلمی، زرد طوفان کی حمایت کرتا ہوں۔ ہمیں کرکٹ پسند ہے، ہمیں پی ایس ایل پسند ہے، ہم اپنی ٹیموں کی حمایت کر رہے ہیں اور ہم ان کی پشت پر ہیں۔"

وہ زلمی کے کپتان بابر اعظم کے بھی بہت بڑے مداح ہیں، جو جاری پی ایس ایل ٹورنامنٹ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑی اور پاکستان کی ہر طرز کی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان ہیں۔

"میں ایک اور صرف ایک بادشاہ بابر اعظم سے محبت کرتا ہوں۔ وہ عالمی درجہ بندی میں سرِ فہرست ہیں اور وہ موجودہ وقت کے عظیم بلے بازوں میں سے ایک ہیں۔"

بیٹانی نے خود بھی اپنی کمنٹری کے لیے بڑے پیمانے پر پذیرائی حاصل کی ہے اور حال ہی میں انہیں ضلعی سطح کے ٹورنامنٹس میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا، "میں بین الاقوامی کرکٹ کمنٹری باکس اور پی ایس ایل جیسے قومی سطح کے کھیلوں کا حصہ بننے کا منتظر ہوں۔ میں وہاں اپنی جگہ تلاش کروں گا۔"

لیکن مداحوں کی پذیرائی نے ان کی زندگی کے چیلنجز کو آسان نہیں بنایا۔ انہیں اب بھی اپنے خاندان کی کفالت کے لیے کام کرنا ہے جس کی پشاور میں رنگ روڈ کے ساتھ ایک چھوٹی سی دکان ہے۔

حیوانیات کا طالب علم مقامی نجی کالج میں ہفتے میں تین دن کلاسز میں شرکت کرتا ہے اور بقیہ وقت دو ملازمتوں میں گذارتا ہے۔

بیٹانی نے کہا، "میں سنگِ مردار کی فیکٹری میں کام کرتا ہوں جو چین کو برآمدات کرتی ہے۔ دن کے وقت میں وہاں کام کرتا ہوں اور رات کی شفٹ میں میں چوکیدار کے طور پر کام کرتا ہوں۔ یہ میری زندگی ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں