منڈا پٹی کا کاروبار زوروں پر کیونکہ رمضان کے دسترخوان پر سموسے ہر ایک کی پسند ہے

رنچھوڑ لائن میں قیصر سلیم کی منڈے کی دکان چوبیس گھنٹے کھلی رہتی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

پاکستان کے تجارتی مرکز کراچی کے ایک قدیم ترین محلے رنچھوڑ لائن کی گلیوں میں رمضان کا مقدس مہینہ آتے ہی رونق بڑھ جاتی ہے اور گاہکوں کا جوش و خروش ایک ہی شے کے ارد گرد ہوتا ہے: منڈا پٹیاں۔

مقامی طور پر سموسہ پٹی یا رول پٹی کہلانے والی یہ وہ کچوری ہے جو اسپرنگ رول اور سموسے بنانے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ سموسہ ایک ذائقہ دار اور تکون نما گہرے تیل میں تلا ہوا ایک ہلکا پھلکا کھانا ہے جو پورے رمضان میں پاکستان کے افطاری دسترخوان کا ایک اہم حصہ ہوتا ہے۔ سموسے جن کی قیمت عموماً دس سینٹ سے زیادہ نہیں ہوتی، وہ سبزیوں مثلاً آلو، پیاز اور مٹر یا گائے کے گوشت اور چکن کے قیمے سے بھری کچوری ہوتی ہے۔ اور اب اس کی جدید اقسام میں پنیر، سوبابین کی پیٹھی حتیٰ کہ مزید میٹھی انفرادیت کے لیے نیوٹیلا بھی بھرا جاتا ہے۔ یہ گہرے تلے ہوئے ہوتے ہیں اور اکثر تازہ سبز پودینہ، دھنیا یا املی کی چٹنی کے ساتھ گرما گرم پیش کیے جاتے ہیں۔

اگرچہ کچھ لوگ فوری کھانے کے طور پر فرائی کرنے کے لیے اسٹور سے خرید کر سموسے اور رول افطار میں رکھتے ہیں لیکن دیگر کئی لوگ شروع سے انہیں منڈا پٹی کے ساتھ بنانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ کراچی میں اس کا مطلب قیصر سلیم کی منڈے کی دکان پر جانا ہے جو چوبیس گھنٹے چلنے والی رنچھوڑ لائن کی واحد دکان ہے اور رمضان کے مقدس مہینے میں بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے تقریباً تین درجن افراد یہاں ملازمت پر رکھے جاتے ہیں۔

دو عشروں سے دکان چلانے والے 45 سالہ سلیم نے اپنے عملے کی نگرانی کرتے ہوئے عرب نیوز کو بتایا، "لوگ یہ [سموسے اور رولز] گھر پر بناتے ہیں اسی لیے یہاں گاہکوں کا رش رہتا ہے۔"

"عوام صحت بخش چیزیں بنانا چاہتے ہیں اور (یہاں رش کی) یہی وجہ ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ باہر [مارکیٹ میں] دستیاب چیزیں عموماً کیسی ہوتی ہیں۔"

12 مارچ 2024 کو کراچی، پاکستان میں قیصر سلیم کی منڈا دکان کے باہر گاہک جمع ہیں۔ (اے این)
12 مارچ 2024 کو کراچی، پاکستان میں قیصر سلیم کی منڈا دکان کے باہر گاہک جمع ہیں۔ (اے این)

رمضان کے دوران دکان پر 35 افراد 12 گھنٹے کی شفٹوں میں کام کرتے ہیں۔ سلیم نے وضاحت کی، "صبح 7 بجے سے شام 7 بجے تک" اور 24 گھنٹوں کے اندر 25 کلو گرام آٹے کے 30 سے زیادہ تھیلے استعمال ہو جاتے ہیں۔

سلیم کے ارد گرد مزدور منڈے کی پتلی پرتیں بناتے ہیں۔ گندم کے آٹے کا ایک مرکب مشین کی مدد سے گوندھتے ہیں جسے تیل لگا کر باہر نکالا جاتا ہے اور پھر بڑی گول پرتیں بنائی جاتی ہیں جنہیں مثلث اور مستطیل شکل میں کاٹ لیتے ہیں جو سموسے اور رول کے لیے بیرونی پرت کے طور پر فروخت ہوتے ہیں۔

ایک بڑی گول منڈا پٹی 40 روپے میں فروخت ہوتی ہے اور اسے یا تو 12 سموسے، آٹھ اسپرنگ رول، چھ پیٹیز یا 12 پٹھورے بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

"اچھا اور صحت بخش"

خریدار کہتے ہیں کہ منڈا پٹیاں دو مقاصد پورے کرتی ہیں۔

گھر پر سموسے اور رول بنانے میں پیک شدہ اشیاء کے مقابلے میں یہ کم قیمت ہیں اور گاہک بھی اس بات کا یقین کر سکتے ہیں کہ ان کے پاس پہنچنے والی چیز صحت بخش ہے۔

241 ملین سے زائد آبادی کا ملک پاکستان اس وقت مہنگائی کے اثرات سے دوچار ہے جو گذشتہ سال مئی میں 38 فیصد کی تاریخی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی لیکن اس سال فروری میں یہ 23.1 فیصد تک کم ہو گئی۔ توانائی اور خوراک کی مہنگی قیمت کی وجہ سے یہ اب بھی زیادہ ہے۔

ایک خریدار عبدالرزاق گھانچی نے عرب نیوز کو بتایا، "مارکیٹ میں ایک سموسے کی کم از کم قیمت 40 روپے ہے۔ اسے گھر پر بنانے پر صرف 20 یا 22 روپے خرچ ہوتے ہیں۔ تلنے کے بعد بھی اس کی قیمت تقریباً 25 سے 26 روپے بنتی ہے۔"

سلیم کی دکان کی ایک اور گاہک گھریلو خاتون فرخندہ نے کہا، "ہم ہر دفعہ [رمضان میں] یہاں سے خریدتے ہیں۔ دو دن یا تین دن کے بعد ہم یہاں آتے ہیں۔ ہم یہیں سے خریدتے ہیں۔ یہ اشیاء اچھی اور صحت بخش ہیں۔ ہم انہیں پورے مہینے استعمال کرتے ہیں۔"

12 مارچ 2024 کو ایک شخص کراچی، پاکستان میں ایک دکان پر منڈا پٹیاں بنا رہا ہے۔ (اے این)
12 مارچ 2024 کو ایک شخص کراچی، پاکستان میں ایک دکان پر منڈا پٹیاں بنا رہا ہے۔ (اے این)

گھانچی نے مزید کہا کہ گھر پر اشیاء کی تیاری معیار اور صفائی کی بھی ضامن ہے۔

انہوں نے کہا، "ہمیں یقین ہوتا ہے کہ یہ چیز گھر پر تیار ہوئی ہے، اپنے ہاتھوں سے بنائی گئی ہے اور کھانے کے لیے محفوظ ہے۔ اس میں کوئی خرابی یا کوئی گندی نہیں ہے۔"

"اس کے بارے میں اہم بات یہ ہے کہ جب ہم گھر میں سموسے اور رول بناتے ہیں تو اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ جو گوشت یا قیمہ استعمال کریں، وہ صاف ہو۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں