سول سوسائٹی کی 28 تنظیموں نے پاکستان میں ' ایکس ' کی فوری بحالی کا مطالبہ کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ' ایکس ' پر عارضی پابندی اس انتخابی عمل میں حکومت اور ریاست مخالف مہم کا خطرہ تھا۔ انہی سیاسی عناصر کو کنٹرول کرنے کے لیے عین انتخاب کے روز 8 فروری کو انٹر نیٹ سمیت بہت سے سوشل میڈیا 'آؤٹ لیٹ' بند کر دیے تھے ۔

الیکشن کے ایک ہفتہ بعد پہلی مرتبہ 17 فروری کو 'ایکس ' پر پابندی لگائی گئی۔ ایک سرکاری زمہ دار نے بتایا اس پابندی کی وجہ مبینہ انتخابی دھاندلی کے خلاف ملک گیر احتجاج بنا۔ احتجاجی سیاسی جماعتوں نے الزام لگایا تھا کہ انتخابی نتائج کو راتوں رات دھاندلی کر کے تبدیل کیا گیا۔

تب سے اب تک یہ پابندی 'ایکس ' کے خلاف جاری ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت 28 این جی اوز نے مطالبہ کیا ہے کہ 'ایکس ' پر عاید کی گئی پابندی فوری ختم کی جائے۔ ان تنظیموں میں انسانی حقوق کے ادارے بھی شامل ہیں۔ یہ مطالبہ مشترکہ بیان کی صورت سامنے آیا ہے۔

واضح رہے الیکشن کمیشن آف پاکستان اس امر کی تردید کرتا ہے کہ 'ایکس' پر پابندی اس کے کہنے پر نہیں لگائی گئی۔ الیکشن کمیشن نے دھاندلی کرانے کے الزام کی بھی تردید کی ہے۔امریکہ اور متعدد بین الاقوامی تنظیموں نے ' ایکس ' پر لگی اس پابندی کو شہری آزادیوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے سوشل میڈیا پر پابندی کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ لوگ باقاعدگی سے 'ایکس ' پر پوسٹس کر رہے ہیں۔

تاہم ان کی اس وضاحت کو سب مسترد کرتے ہیں، اس لیے ایمنسٹی انٹر نیشنل سمیت 28 تنظیموں نے مشترکہ بیان میں مطالبہ کیا ہے کہ ' ایکس ' کو پاکستان میں بحال کیا جائے۔ نیز پاکستان کے حکام پر زور دیا ہے کہ وہ شہری آزادیوں کے ساتھ ساتھ لوگوں کے معلومات کے حق اور اظہار رائے کے حق کو ممکن بنائیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں