کاروباری ترقی کو ہدف بنانے والے پاکستانی پلیٹ فارم کی نگاہیں جی سی سی مارکیٹ پر مرکوز

پلیٹ فارم 2024 کے آخر تک جی سی سی خطے میں ٹیک اسٹارٹ اپس اور سرمایہ کاروں کی سب سے بڑی کمیونٹی بنانا چاہتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاک لانچ (پی ایل) پلیٹ فارم کے بانی نے حال ہی میں کہا کہ یہ ادارہ جس کا مقصد پاکستان کے کاروباری اور سرمایہ کاری کے ماحولیاتی نظام میں ترقی کو فروغ دینا ہے، نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں سب سے بڑی پاکستانی کمیونٹی سے رابطہ کرکے خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک میں داخل ہونے پر اپنی نگاہیں مرکوز کر لی ہیں۔

پی ایل پاکستانی کاروباریوں کے لیے تربیت، مشاورت اور فنڈ جمع کرنے کی خدمات پیش کرتا ہے اور 2022 سے اس نے 90 سے زیادہ اسٹارٹ اپس کو 90 ملین ڈالر کی کثیر رقم جمع کرنے میں مدد فراہم کی اور عالمی سطح پر 400 سے زیادہ ٹیک ایونٹس کی میزبانی کی ہے۔ پی ایل نے حال ہی میں ریاض اور دبئی میں اپنی پرچم بردار اور صرف مدعو کردہ مہمانوں کے لیے کانفرنسز کا انعقاد کیا اور وہاں 350 سے زیادہ عالمی سرمایہ کاروں کی میزبانی کی۔

پی ایل کی بنیاد علی فہد نے اپریل 2020 کو سان فرانسسکو، کیلیفورنیا میں ایک واٹس ایپ گروپ کے طور پر رکھی تھی۔ بانی نے سرمایہ جمع کرکے اور رہنمائی کی پیشکش کر کے پاکستانی اسٹارٹ اپس کی مدد کی۔

فہد نے اتوار کو عرب نیوز کو بتایا، "عالمی سطح پر 350,000 ممبران تک تعداد بڑھنے کے بعد اب پی ایل کا مقصد خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) تک توسیع کرنا ہے تاکہ اسٹارٹ اپ کے بانیوں کو سرمائے اور نشوونما کے لیے درکار وسائل سے مربوط کر کے فروغ پزیر اسٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام کی مدد کی جاسکے۔"

انہوں نے کہا پی ایل کا مقصد 2024 کے آخر تک جی سی سی کے خطے میں ٹیک اسٹارٹ اپس اور سرمایہ کاروں کی سب سے بڑی کمیونٹی بننا ہے۔ انہوں نے کہا، "پاک لانچ کا مقصد کمیونٹی کی ترقی کے لیے سعودی عرب میں موجود دنیا میں پاکستانی تارکینِ وطن کی سب سے بڑی تعداد سے استفادہ کرنا ہے۔"

پلیٹ فارم نے گذشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ اس نے اپنے فنڈنگ کے اولین باضابطہ مرحلے میں تقریباً ایک ملین ڈالر جمع کیے تھے۔

نئی کمپنیاں قائم کرنے والے ایک مشہور ادارے ڈسرپٹ ڈاٹ کام نے اس فنڈنگ مرحلے کی قیادت کی جس میں ابتدائی مرحلے کے ایک ممتاز وینچر کیپیٹل فنڈ انڈس ویلی کیپٹل اور ابتدائی مرحلے کی کمپنی کے مشیر اور سرمایہ کار یوسف خان کی شرکت شامل تھی۔ اس میں اینجل سرمایہ کاروں کو بھی نمایاں کیا گیا تھا- یہ اصطلاح کسی ایسے شخص کی وضاحت کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو ابتدائی کاروبار کے لیے ابتدائی رقم فراہم کرتا ہے، عموماً کمپنی میں ملکیت کی ایکویٹی کے بدلے — جو گوگل اور میٹا سے وابستہ ہوں اور دیگر جو سان فرانسسکو، نیو یارک شہر، ٹورنٹو، سنگاپور اور دبئی شہر سے باہر سے تعلق رکھتی ہوں۔

اس فنڈنگ سے پی ایل کا مقصد پاکستان اور جی سی سی میں علاقائی اسٹارٹ اپس کے لیے ایک فروغ پذیر ماحولیاتی نظام بنانا ہے۔ پلیٹ فارم نے فنڈنگ کا مرحلہ بند ہونے کے بعد ایک بیان میں کہا، اپنی سرمایہ کاری کی مہارت اور عالمی روابط کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ڈسرپٹ ڈاٹ کام کی کاروباری اخلاقیات کے ہمراہ پی ایل سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے کلیدی جی سی سی ممالک کو شامل کر کے پاکستان سے باہر اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے۔

فہد نے نوٹ کیا، "نہایت حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ہم نے کتنی تیزی سے ترقی کی۔ انہوں نے مزید کہا، "پاک لانچ کمیونٹی 2020 کے آخر تک 1,200 [ارکان] سے سال بہ سال 2023 کے آخر تک 350,000 [ارکان] تک پہنچ گئی۔"

فہد نے کہا کہ پی ایل نے 400 سے زائد ایونٹس اور چار ممالک اور تین براعظموں میں چھ بڑی ٹیک کانفرنسز کی میزبانی اور خواتین کے ایکسلریٹر پروگرام اور تربیت کا انعقاد کیا ہے۔

انہوں نے کہا، "اب ہمارے 40 ممالک میں پیروکار ہیں اور ہماری پوزیشن خاص طور پر پاکستان، شمالی امریکہ، برطانیہ، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں مضبوط ہے۔ ہم آٹھ میڈیا پلیٹ فارمز، ایک سرگرم ویب سائٹ اور 50 سے زائد صرف دعوت پر مبنی واٹس ایپ گروپس میں سرگرم ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں