اسلام آباد میں غیر ملکی طلباء کو رمضان میں خاندان اور گھر کے کھانے کی خواہش

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں تقریباً 2000 غیر ملکی طلباء کے لیے سحر و افطار کا خصوصی انتظام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

گھر سے ہزاروں میل دور پاکستان کی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد (آئی آئی یو آئی) میں داخل غیر ملکی طلباء نے کہا کہ رمضان کا مقدس مہینہ اپنے ساتھ گھر پر دوستوں اور خاندان کے افراد کے ساتھ رہنے کی تڑپ اور یقیناً ان کے مقامی کھانوں کا لطف لینے کی خواہش لے کر آیا۔

یونیورسٹی کی انتظامیہ کے مطابق شرقِ اوسط سے لے کر افریقہ تک تقریباً 40 ممالک کے تقریباً 2,000 غیر ملکی طلباء آئی آئی یو آئی میں مختلف کورسز میں داخل ہیں جہاں بین الاقوامی طلباء کے لیے سحری اور افطار کا خصوصی انتظام کیا جاتا ہے۔ پورے رمضان میں سبسڈی والے نرخوں پر کھانا روزانہ خریدا جا سکتا ہے۔

یونیورسٹی ہاسٹلز میں تقریباً 700 مرد غیر ملکی طلباء رہتے ہیں جو مختلف ممالک مثلاً سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، تھائی لینڈ، چین، مصر، اردن، یمن، صومالیہ، نائجیریا، انڈونیشیا اور افغانستان سے آئے ہوئے ہیں۔ دوسرے وہ طلباء و طالبات ہیں جو کیمپس سے دور اکثر اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ کرائے کی جگہوں پر رہتے ہیں۔

ایک وزٹنگ فیکلٹی ممبر اور بین الاقوامی طلباء کے نمائندہ ڈاکٹر عبدالرحمٰن نے عرب نیوز کو بتایا کہ غیر ملکی طلباء افطار اور سحری کے کھانے کے لیے اکثر پیسے جمع کرتے تھے۔ وہ شام کے وقت کیمپس کے وسیع سرسبز لان میں افطاری سے لطف اندوز ہوتے تھے۔

ازبکستان سے تعلق رکھنے والے اور گذشتہ 28 سالوں سے پاکستان میں مقیم رحمٰن نے کہا، "رمضان میں ہر غیر ملکی طالب علم سب سے پہلے اپنے خاندانوں اور ثقافت، اپنے کھانے اور اپنے دوستوں کو یاد کرتا ہے۔"

آئی آئی یو آئی میں افطار کے دسترخوان پر کھانے کی اشیاء میں گلاب کے ذائقے والا ایک مقبول مشروب روح افزا، پکوڑے، سموسے کے نام سے معروف فرائیڈ پیسٹری، اور پھلوں اور چنے کی سلاد/چاٹ شامل ہیں۔ لیکن بہت سے لوگوں نے عرب نیوز کو بتایا کہ اس کا خاص جزو ایک ساتھ کھانا تھا جس سے بین الاقوامی طلباء کو گھر کا احساس ہوتا ہے۔

رحمٰن نے کہا، "ہمیں زیادہ محسوس نہیں ہوتا کہ ہم کسی غیر ملک میں ہیں، ہمیں لگتا ہے کہ ہم اپنے ہی ملک میں ہیں۔"

ایتھوپیا سے تعلق رکھنے والے 21 سالہ طالب علم عبدالحئی ایمان حسن جو معاشیات کی تعلیم حاصل کرتے ہیں، نے ان جذبات کا اظہار کیا۔

حسن نے عرب نیوز کو بتایا، "ہم ایک خاندان کے طور پر رہتے ہیں اور یہاں آئی آئی یو آئی میں بہت سے غیر ملکی طلباء مقیم ہیں۔ زیادہ تر غیر ملکی طلباء افطار کو ایک عام [سرگرمی] کے طور پر کھاتے ہیں، یہ گھر کی طرح محسوس ہوتا ہے۔"

حسن نے کہا وہ روایتی پاکستانی کھانوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں جیسے بریانی، گوشت کا قیمہ، سبزیاں، آلو گوشت کا سالن اور دال۔

لیکن یونیورسٹی میں ماحولیاتی علوم کے ایک افغان طالب علم بہار احمد کے لیے رمضان اپنے ساتھ کابلی پلاؤ کی خواہش لے کر آیا جو ایک روایتی افغان پکوان ہے جو ابلے ہوئے چاول، مصالحہ جات، کشمش اور بھیڑ یا گائے کے گوشت کے نرم پارچوں سے بنتا ہے۔

احمد نے کہا، "افغانستان میں کھانے کی درجۂ اول کی ثقافت ہے۔ کبھی کبھی ہم رمضان میں کابلی پلاؤ کو تھوڑا سا یاد کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں