فلسطین اسرائیل تنازع

پاکستانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کی غزہ میں اسرائیل کی ’نسل کشی‘ کی مذمت

سردار ایاز صادق کا جنیوا، سوئٹزرلینڈ میں 148ویں بین الپارلیمانی یونین اسمبلی سے خطاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سرکاری ریڈیو پاکستان نے پیر کو رپورٹ کی کہ پاکستان کی قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق نے اسرائیل کی جانب سے خواتین، بچوں اور بزرگان سمیت فلسطینیوں کی "نسل کشی" کی شدید مذمت کی ہے۔

سردار ایاز صادق جنیوا میں منعقد ہونے والی 148ویں بین الپارلیمانی یونین اسمبلی سے خطاب کر رہے تھے۔

غزہ میں حماس کے خلاف اسرائیل کی جنگ نے ہزاروں افراد کو ہلاک کر دیا ہے، ایک انسانی تباہی کا باعث بنی ہے اور شرقِ اوسط میں وسیع تر تنازعے کے امکانات بڑھا دیئے ہیں۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق 21 مارچ تک 31,988 سے زیادہ افراد ہلاک اور 74,188 زخمی ہو چکے ہیں۔ وزارت نے کہا ہے کہ ہلاک شدگان میں 40 فیصد سے زیادہ 18 سال سے کم عمر کے بچے ہیں۔

ریڈیو پاکستان نے صادق کی تقریر کی رپورٹنگ کرتے ہوئے کہا، "اسپیکر نے بین الاقوامی برادری خاص طور پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی عدم فعالیت پر مایوسی کا اظہار کیا اور فلسطین کے لیے فوری اور غیر مشروط جنگ بندی اور انصاف کا مطالبہ کیا۔"

"انہوں نے غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کیا اور 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی ایک قابلِ عمل، خود مختار اور متصل ریاست کے لیے فلسطینیوں کی حمایت کا وعدہ کیا جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔"

فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوامِ متحدہ کے ادارے اونروا نے کہا ہے کہ 16 مارچ تک 1.7 ملین افراد یا 75 فیصد سے زیادہ آبادی جنگ شروع ہونے کے بعد بے گھر ہو چکی ہے اور ان میں سے کچھ کئی بار بے گھر ہوئے۔ مصر کے ساتھ سرحد کے قریب غزہ کے سب سے جنوبی کنارے پر رفح میں 10 لاکھ سے زیادہ بے گھر ہیں۔

اس میں کہا گیا ہے کہ 392 تعلیمی سہولیات، 123 ایمبولینسز اور 184 مساجد کے ساتھ 60 فیصد سے زیادہ رہائشی یونٹ تباہ ہو چکے ہیں۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے سربراہ ٹیڈروس اذانوم گریبیسس نے چار مارچ کو دو ہسپتالوں کا دورہ کرنے والی ڈبلیو ایچ او کی ٹیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، شمالی غزہ میں بچے بھوکے مر رہے ہیں۔

انٹیگریٹڈ فوڈ-سیکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن (آئی پی سی) کے نام سے معروف دنیا کے بھوک پر نظر رکھنے والے ادارے نے 18 مارچ کو کہا، قحط کا خطرہ منڈلا رہا ہے اور شمالی غزہ میں مئی تک آنے کا امکان ہے اور جولائی تک انکلیو میں پھیل سکتا ہے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ شمالی غزہ کے کچھ حصوں میں 70 فیصد لوگ خوراک کی شدید ترین قلت کا شکار ہیں جو قحط تصور کیے جانے والے 20 فیصد کی حد سے تین گنا زیادہ ہے۔ مجموعی طور پر غزہ کے 1.1 ملین باشندے، تقریباً نصف آبادی خوراک کی "تباہ کن" کمی کا سامنا کر رہے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں