عدالت عالیہ کے ججوں کا جوڈیشل کونسل اور عدالت عظمی کے ججوں کے نام خط

چھ ہائی کورٹ ججوں نے اپنے مشترکہ خط میں عدالتی معلامات میں ایگزیکٹیو، ایجنسیوں کی مداخلت کا ذکر کیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عدالتی مقدمات میں خفیہ اداروں کی مداخلت پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججوں کا سپریم کورٹ جوڈیشل کونسل کو خط منظر عام پر آیا ہے جس میں عدالتی امور میں ایگزیکٹیو اور ایجنسیوں کی مداخلت کا ذکر کیا گیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججوں کی طرف سے سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھے گئے خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ عدلیہ میں خفیہ اداروں کی مداخلت اور ججز پر اثرانداز ہونے کے معاملے پر جوڈیشل کنونشن بلایا جائے۔

عدالتی مقدمات میں انٹیلیجنس ایجنسیز کی مداخلت پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججز نے سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھا، خط کی کاپی سپریم جوڈیشل کونسل کے تمام ممبران کو بھجوائی گئی ہے۔

ججز کے خط میں عدالتی امور میں ایگزیکٹو اور ایجنسیوں کی مداخلت کا ذکر کیا گیا ہے، خط لکھنے والوں میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس طارق محمود جہانگیری ، جسٹس بابر ستار، جسٹس سردار اعجاز اسحاق، جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز شامل شامل ہیں۔

خط کی نقول سپریم کورٹ کے تمام جج صاحبان کو بھی بھجوائی گئی ہے، خط میں عدالتی امور میں مداخلت پر کنونشن طلب کرنے کا موقف اختیار کیا گیا ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ کنونشن سے دیگر عدالتوں میں ایجنسیوں کی مداخلت کے بارے میں بھی معلومات سامنے آئیں گی اور عدلیہ کے کنونشن سے عدلیہ کی کے آزادی بارے میں مزید معاونت ملے گی۔

خط لکھنے والےجج صاحبان نے اپنے اوپر دباؤ کی کوششوں پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کو 2023 اور 2024 میں لکھے خطوط بھی شامل کیے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں