سویلینز کے ٹرائل: فوجی عدالتوں کو محفوظ شدہ فیصلے سنانے کی مشروط اجازت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں کو محفوظ شدہ فیصلے سنانے کی مشروط اجازت دے دی۔

فوجی عدالتوں کے خلاف فیصلہ پر انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت جسٹس امین الدین کی سربراہی میں چھ رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ 20 افراد ایسے ہیں جن کی عید سے قبل رہائی ہو سکتی ہے، 20 افراد کی رہائی کے لیے بھی تین مرحلے ہیں جنہیں عبور کرنا ہو گا۔

جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کوشش کریں عید سے تین چار دن پہلے انہیں چھوڑ دیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ جی ٹھیک ہے ہم کوشش کریں گے۔

وکیل فیصل صدیقی نے خدشہ ظاہر کیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ باہرنکلیں اورتھری ایم پی اوکے تحت دوبارہ گرفتار کرلیں۔

عدالت نے تین سال سے کم سزا پانے والوں کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے فوجی عدالتوں کو محفوظ شدہ فیصلے سنانے کی مشروط اجازت دے دی۔

عدالت نے قرار دیا کہ صرف ان کیسز کے فیصلے سنائے جائیں جن میں نامزد افراد عید سے پہلے رہا ہو سکتے ہیں، اٹارنی جنرل نے یقین دہانی کرائی کہ کم سزا والوں کو قانونی رعایتیں دی جائیں گی،فیصلے سنانے کی اجازت اپیلوں پر حتمی فیصلے سے مشروط ہو گی۔

عدالت نے اٹارنی جنرل کو عملدرآمد رپورٹ رجسٹرار کو جمع کرانے کی ہدایت کر دی، مزید سماعت اپریل کے چوتھے ہفتے میں ہو گی۔

سپریم کورٹ نے خیبر پختونخواحکومت کی اپیلیں واپس لینے کی استدعا منظور کر لی۔

اپیلوں کا پس منظر

یاد رہے سپریم کورٹ نے نو مئی 2023 کے پرتشدد مظاہروں میں ملوث ہونے پر گرفتار عام شہریوں کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے خلاف دائر درخواستوں پر محفوظ فیصلہ گذشتہ برس 23 اکتوبر کو سنایا تھا جس میں سویلینز کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کالعدم قرار دیا تھا۔

فیصلے میں کہا گیا تھا کہ آرمی ایکٹ کا سیکشن 59(4) بھی کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس مظاہر نقوی اور جسٹس عائشہ ملک پر مشتمل پانچ رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی تھی۔

سپریم کورٹ کے 1-4 کے اکثریتی فیصلے میں کہا گیا کہ فوجی تحویل میں موجود تمام 103 افراد کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں نہیں ہو گا، جب کہ جسٹس یحیٰی آفریدی نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا تھا۔

سویلین کا مشروط ٹرائل

گذشتہ برس 17 نومبر کو وفاقی حکومت، وزارت دفاع، وزارت قانون اور صوبائی حکومتوں نے سپریم کورٹ کی جانب سے فوجی عدالتوں میں شہریوں کے مقدمے نہ چلانے اور ٹرائل کالعدم قرار دینے کا فیصلہ چیلنج کیا تھا۔

اپیلوں میں موقف اپنایا گیا تھا کہ سپریم کورٹ کا 23 اکتوبر کا فیصلہ آئین و قانون کے خلاف ہے لہٰذا اسے کالعدم قرار دیا جائے۔

سپریم کورٹ نے 13 دسمبر کو فوجی عدالتوں سویلینز کا ٹرائل کالعدم قرار دینے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر مشروط فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل جاری رہے گا لیکن فوجی عدالتیں اپیلوں کے فیصلے تک ٹرائل پر حتمی فیصلہ نہیں دیں گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں