مالاکنڈ کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیرِ نو، خیبر پختونخوا سعودی فنڈ سے 30 ملین ڈالر قرض لے

سعودی فنڈ برائے ترقی پہلے ہی سوات میں سڑکوں، آبپاشی کے راستوں اور پلوں کی تعمیرِ نو کے لیے مالی اعانت فراہم کر چکا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

خیبرپختونخوا کی صوبائی کابینہ نے مالاکنڈ ڈویژن میں انفراسٹرکچر کی تعمیرِ نو کے لیے سعودی فنڈ برائے ترقی (ایس ایف ڈی) سے 30 ملین ڈالر قرض لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ علاقہ جو اپنی خوبصورت وادی سوات اور مقبول سیاحتی مقامات کے لیے مشہور ہے، حالیہ برسوں میں شدت پسندی اور تنازعات کے علاوہ سیلاب جیسی قدرتی آفات کے تباہ کن اثرات کی وجہ سے ایک ہنگامہ خیز تجربے سے گذرا ہے۔

اسے شدید چیلنجز کا سامنا ہے جس نے نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے اور معیشت کو بلکہ اس کے باشندوں کی روزمرہ کی زندگیوں کو بھی متأثر کیا ہے جس سے بحالی اور ترقی کے جامع اقدامات کی ضرورت نمایاں ہوتی ہے۔

صوبائی حکام کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے، "صوبائی کابینہ نے مالاکنڈ علاقے کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیرِ نو کی مالی اعانت میں حصہ لینے کے لیے سعودی فنڈ برائے ترقی (ایس ایف ڈی) سے 30.000 ملین ڈالر کے قرضے کی منظوری دی ہے۔"

ایس ایف ڈی نے پاکستان کو مالی امداد فراہم کی ہے اور ملک کے مختلف حصوں میں ترقیاتی منصوبوں کی مالی معاونت کی ہے۔

اس نے پہلے ہی مالاکنڈ میں بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے لیے اہم کام کیا ہے تاکہ سماجی-اقتصادی خدمات اور شہری سہولیات تک وگوں کی رسائی کو بہتر بنایا جا سکے۔

سعودی ایجنسی کے تعاون سے چلنے والے زیادہ تر منصوبوں میں ضلع سوات میں رابطہ سڑکوں، گلیوں کے فرش، آبپاشی اور نکاسئ آب کے راستوں، چھوٹے پلوں اور زیرِ زمین نالوں کی تعمیرِ نو شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں