'نذرانۂ عقیدت': پاکستانی فنکار نے شہید قرآنی صفحات کو فن پاروں میں بدل دیا

سعد محمود نے اپنے مقالے کے طور پر رسمی تلفی کے لیے تیار شہید قرآنی صفحات کی بحالی شروع کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

سعد محمود 2017 میں حسبِ معمول نمازِ جمعہ کے لیے پاکستان کے مشرقی شہر لاہور کی ایک مسجد میں موجود تھے جب اس وقت کے 22 سالہ نوجوان ٹھوکر کھا کر ایک سٹور روم میں گر پڑے جہاں شیلف پر کاغذ کے پلندے احتیاط سے رکھے ہوئے تھے۔

یہ قرآن کے روزمرہ کے نسخوں کے شہید صفحات کے ٹکڑے تھے جو رسمی طور پر تلفی کے منتظر تھے۔ پاکستان میں مقدس کتاب کے خراب شدہ صفحات کو اکثر شہید کہا جاتا ہے۔

اسلام میں مقدس کتاب کے شہید صفحات کی تلفی کے وسیع پیمانے پر قبول شدہ طریقے یہ ہیں کہ انہیں کپڑے میں لپیٹ کر مثالی طور پر کسی مسجد میں دفن کر دیا یا احترام سے جلا دیا جائے۔

لیکن اس وقت بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی (بی این یو) میں فائن آرٹس کے آخری سال کے طالب علم محمود ان شہید نقول سے متأثر ہوئے اور اپنے مقالے کے حصے کے طور پر انہیں بحال کرنے کا فیصلہ کیا۔

لاہور میں مذکورہ فنکار کے فن پاروں کی نمائش جاری ہے جس میں ایک بیان میں کہا گیا، "سعد نے ان شہید صفحات میں سے کچھ مسجد سے مانگے اور طلائی کاغذ اور بہترین روشنائی کے ساتھ عام، بڑے پیمانے پر شائع شدہ صفحات کو بحال کرنا شروع کر دیا - اس طرح جو 'شہید' ہوا تھا اسے دوبارہ زندہ کر دیا۔"

یہ کہتے ہوئے کہ ان کا تمام کام اب مقدس صفحات کی بحالی اور انہیں فنون کی صورت میں تبدیل کرنے کے گرد گھومتا ہے، محمود نے گذشتہ ہفتے نمائش میں عرب نیوز کو بتایا، "یہ کوشش "فنکارانہ عقیدت کا ایک عمل ہے۔"

محمود نے کہا جو اب 28 سالہ بصری فنکار ہیں، "یہ کام 2017 میں شروع ہوا۔ میں قرآن کے وہ صفحات جمع کرتا ہوں جو شہید ہیں۔ پھر ان کی بحالی کا پورا عمل ہوتا ہے۔ میں شہید شدہ حصوں کو بھرتا ہوں تاکہ صفحات دوبارہ پڑھنے کے قابل ہو جائیں۔"

محمود نے کہا کہ انہوں نے شہید قرآنی صفحات پر وسیع تحقیق کی ہے اور یہ کہ ان کے ساتھ کیا ہوا اور وہ مساجد اور گھروں کے سٹور رومز سے کہاں گئے۔

انہوں نے وضاحت کی، "میں نے دیکھا کہ وہ قبرستانوں میں دفن کر دیئے جاتے یا صاف اور بہتے پانی میں چھوڑ دیئے جاتے تھے۔ کبھی کبھی میں نے صفحات کو جلاتے اور ان کی راکھ کو قبرستان کے کسی کونے میں دفن کرتے دیکھا۔"

اس سے محمود سوچنے لگے: مقدس متون کو ضائع کرنے کے بجائے وہ انہیں بحال کر سکتے ہیں۔

بحالی کا عمل ایک مشکل عمل تھا،کیونکہ محمود کے پاس قرآن کے ایسے کئی صفحات تھے جن کا کوئی حوالہ نہیں تھا۔

انہوں نے کہا، "جب ہم ان [قرآنی] مجموعات کو کھولتے ہیں… تو [کچھ] چھوٹے صفحات ہوتے ہیں جن کا کوئی حوالہ نہیں ہوتا [کون سی آیت، سورہ، کون سا صفحہ نمبر] تو یہ ایک معمہ تھا… جب ان کے ساتھ کام کرنے کا کوئی حوالہ نہیں تو میں انہیں کیسے بحال کروں؟"

محمود نے ایسے صفحات کو یکجا کر کے ایک مجموعہ بنانے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے کہا، "اس لیے کہ کم از کم وہ بدستور نظر آتے رہیں، بدستور قابل رسائی رہیں۔ اس لیے کہ ہم حادثاتی طور پر الفاظ کی بے حرمتی نہ کر دیں تو وہ ہماری نظروں کے سامنے رہیں گے اور پھر ان کو فن میں بدل دیں تاکہ تعریف کی جائے۔"

محمود نے اپنا خیال اور اپنا کام پیش کرنے کے لیے متعدد مذہبی اسکالرز سے بھی ملاقات کی ہے۔

محمود نے کہا، "پاکستان میں کئی تنظیمیں ہیں مثلاً تحفظِ اوراق [جو بتائے گئےطریقے سے صفحات کو تلف کرتی ہیں]۔ میں نے انہیں بحال کیا اور پھر میں نے لوگوں کو دکھانا شروع کیا کہ بنیادی طور پر یہ وہی کام ہے جو میں کر رہا ہوں۔"

انہوں نے کہا کہ اس خیال کو وسیع سطح پر قبولیت ملی۔

"طلائی ورق"

پاکستان آرٹ فورم کے زیرِ اہتمام لاہور میں جاری نمائش میں قرآن کے بحال شدہ پارجہ جات کے کولاجز، اسلامی خطاطی کے گرد مرتکز دائرے، طلائی اوراق جیسے آرائشی اضافے اور وصلی اور سفید کاغذ پر عربی اعراب کے ساتھ پینٹنگز شامل ہیں۔ اور یہ سب ڈیزائن کے لحاظ سے ہے۔

محمود نے کہا وہ اس اسلامی طرزِ فن کو مزید دریافت کرنا اور کچھ نیا تخلیق کرنا چاہتے ہیں جیسے کہ بغیر کسی الفاظ کے ان کی نقاشی کی پینٹنگ یا کسی جملے کے بغیر رموزِ اوقاف۔

انہوں نے کہا، "قرآن ہمارے پاس عرب سے آیا تھا اور بعد میں اعراب شامل کیے گئے تاکہ غیر مقامی عربی بولنے والے [عجمی] متن کو سمجھ سکیں۔ اس کا تلفظ اور ادائیگی کیسے کرنی ہے، اس چیز میں [مدد کرنا] یعنی زیر، زبر وغیرہ۔ اس میں بھی میں نے کام کیا ہے اور یہ جاری رکھوں گا۔"

محمود جتنی کثرت سے طلائی ورق استعمال کرتے ہیں، اس کی بھی ایک وجہ ہے۔

انہوں نے کہا، "جب آپ میرے کام کو دیکھیں… تو میں نے شہید [خراب] قرآنی صفحات پر طلائی ورق کا استعمال کیا ہے۔"

"میں نے اس طلائی ورق کا بالخصوص اور شعوری طور پر استعمال کیا کیونکہ سونے کو ایک خدائی مواد سمجھا جاتا ہے۔ اور جہاں الفاظ غائب ہیں، صفحات شہید ہیں تو میں نے ایک قیمتی مواد کا استعمال کرتے ہوئے گمشدہ الفاظ کی قیمت کو ظاہر کرنے کے لیے بھی طلائی ورق استعمال کیا ہے۔"

"قرآن کے تجربے کے طریقوں کو وسعت دینا"

بصری مصور لاہور کے الحمرا آرٹس سینٹر اور جنوبی بندرگاہی شہر کراچی میں سنت گیلری میں متعدد گروپ نمائشیں کر چکے ہیں۔ گذشتہ ہفتے انہوں نے لاہور میں اپنا دوسرا سولو شو منعقد کیا جس کا عنوان القدر تھا یعنی وہ رات جس پر مسلمانوں کا ایمان ہے کہ اس میں قرآن پہلی بار نازل ہوا تھا۔

لاہور کی نمائش میں آنے والوں میں سے اکثر نے کہا کہ وہ تجسس کی بنا پر آئے تھے لیکن وہ اس پیچیدہ کام اور خوبصورت خطاطی یا کولیج تکنیک کی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکے جسے محمود استعمال کرتے ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی، "خطاطی [میرے کام کا] کا ایک حصہ ہے لیکن یہ [مکمل طور پر] کچھ اور ہے۔ آپ اسے مختلف النوع اشیاء کا مجموعہ کہہ سکتے ہیں۔ آپ اسے انسٹالیشن کہہ سکتے ہیں۔ آپ اسے پینٹنگ کہہ سکتے ہیں، فنکارانہ کام کہہ سکتے ہیں۔"

ایک مشہور پاکستانی مصور اور مجسمہ ساز شاہد راسام نے محمود کے کام کو "مثبت" قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اگرچہ نایاب لیکن دوسرے کام بھی دیکھے ہیں جن میں قرآن کے شہید صفحات کو طرزِ فن کے طور پر بحال کیا گیا تھا۔

راسام جنہوں نے خود قرآن کی عصری شکلیں بنائی ہیں بشمول ایک وہ جس میں انہوں نے دھاتی نقاشی کا استعمال کیا ہے، نے کہا۔ "ان طریقوں کو وسعت دینا ضروری ہے جن میں ہم مقدس متن کا تجربہ کرتے ہیں حتیٰ کہ آرٹ کی تنصیبات کے طور پر۔"

فنکار نے کہا، "میرے خیال میں یہ نوجوان [سعد محمود] جو کچھ کر رہا ہے وہ معروضی طور پر ایک مثبت چیز ہے۔ وہ مقدس صفحات لے رہا ہے اور انہیں ان کا جائز احترام دے رہا ہے بجائے اس کے کہ وہ اُنہی ناقص اسٹورز اور ڈبوں میں پڑے رہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں