پشاورکی مہابت خان مسجد:نہ صرف ایک مغل شاہکاربلکہ ماہ مقدس میں نمازیوں کی توجہ کامرکز

گل کاری اور عربی خطاطی کی آرائش سے مزین یہ مسجد غیر ملکیوں کو بھی متوجہ کرتی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پشاور سے تعلق رکھنے والے 74 سالہ شیر زمان خان 17 کلومیٹر دور رہتے ہیں لیکن 1989 سے تاریخی مہابت خان مسجد میں نمازِ جمعہ ادا کرتے آ رہے ہیں۔

خان کی لگن مسجد کی دلکشی و دلفریبی کی عکاسی کرتی ہے، نہ صرف ایک عبادت گاہ کے طور پر بلکہ تاریخی اور ثقافتی اہمیت کے ایک مینار کے طور پر بھی جو قریب و دور سے آنے والے بشمول غیر ملکی زائرین کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے کہ آئیں اور اس کی قدیم میراث اور ایک اشتراکی جذبے کا تجربہ کریں۔

پشاور کے قدیم فصیل بند شہر میں واقع شہنشاہ شاہ جہاں کے دورِ حکومت میں تعمیر کردہ 17ویں صدی کے مغل دور کے فنِ تعمیر کا ایک حسین شاہکار -- مسجد مہابت خان بالخصوص ماہِ رمضان کے دوران روحانیت کا ایک پررونق مرکز بن جاتی ہے اور نمازیوں کو بڑی تعداد میں اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔

اُس وقت کے شہر کے مغل گورنر کے نام سے منسوب اِس مسجد کو وقت کی تباہ کاریوں کا سامنا کرنا پڑا ہے جس میں سکھوں کے حملے کے دوران لوٹ مار اور نقصانات اور رنجیت سنگھ کے منتخب جنرل پاولو ایویٹابیل کی بدنامِ زمانہ حکمرانی شامل ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے پھانسی دینے کے لیے اس کے مینار کا استعمال کیا تھا۔

شیر زمان خان نے عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا، "میں 1989 سے اس مسجد میں آ رہا ہوں۔ میں [اُس وقت یہاں] صرف نمازِ جمعہ کے لیے آیا کرتا تھا۔ اس وقت مسجد ایسی نہیں تھی۔ باہر کا فرش پختہ نہیں تھا اور ایک چھوٹا تالاب تھا جس میں مچھلیاں ہوتی تھیں۔

انہوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ مقدس ماہِ رمضان میں ہمیشہ نمازیوں کی ایک بڑی تعداد میں آمد ہوتی تھی جب لوگ خصوصی نمازِ تراویح ادا کرتے ہیں جس میں تقریباً چار ہفتوں کے دوران مکمل قرآن پاک کی تلاوت کی جاتی ہے۔

انہوں نے بات جاری رکھی، "رمضان کے دوران جب میں یہاں آتا ہوں تو مجھے باہر [لان] میں بھی جگہ نہیں ملتی۔"

مہابت خان مسجد اپنے مغل طرزِ تعمیر کی بنا پر نمایاں مقام کی حامل ہے جس میں ایک کشادہ صحن، نیلے رنگ کے ٹائلوں والا وضو کا تالاب اور گل کاری کے ڈیزائن اور عربی خطاطی کے ساتھ وسیع آرائش ہے۔

اپنے تاریخی جوہر کو محفوظ رکھنے کے لیے یہ بحالی کی اہم کوششوں سے گذری ہے۔ آج یہ ایک پررونق عبادت گاہ اور ایک ثقافتی ورثے کا مقام ہے جو زائرین کو اپنی شاندار تعمیراتی تفصیلات کی طرف راغب کرتی ہے اور پشاور کی بھرپور ثقافت کے ثبوت کے طور پر کام کرتی ہے۔

مسجد کی انتظامی کمیٹی کے رکن 68 سالہ ظاہر خان نے بتایا کہ انہوں نے بچپن میں ایک ہی چھت کے نیچے قرآن پڑھنا سیکھا اور دیکھا کہ کس طرح اس کے قدیم گنبد اور محراب دور دراز سے لوگوں کو اپنی طرف مائل کرتے تھے۔

انہوں نے کہا، "مسجد مہابت خان 400 سے 450 سال پرانی ہے اور اس جگہ پر عرب اور دیگر ریاستوں سمیت بیرونی ممالک سے بہت زیادہ لوگ آتے ہیں۔"

انہوں نے بات جاری رکھی، "دوسرے ممالک سے [پشاور] آنے والے لوگ اس جگہ کا دورہ کرنا چاہتے ہیں کیونکہ یہ ایک تاریخی مسجد ہے۔ وہ اس کی تاریخ دیکھنا چاہتے ہیں کہ یہاں [شہر میں] ایسی جگہ بھی ہے۔"

رمضان میں نمازیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا: "الحمد للہ، ہم مسلمان ہیں۔ یہ ایک تاریخی مسجد ہے اور یہاں بڑی تعداد مین لوگ [رمضان میں] عبادت کرتے ہیں۔"

پشاور کے ایک 31 سالہ رہائشی ضیاء الرحمٰن نے کہا کہ فصیل بند شہر میں آنے والے لوگ ہمیشہ اس مسجد میں نماز ادا کرنے کی خواہش کرتے تھے۔

"رمضان میں وہ تمام لوگ جو ملحقہ سٹی بازار کی سیر کے لیے آتے ہیں ہمیشہ اپنی نماز پڑھنے مسجد میں آتے ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں