کراچی کی 'کشتی والی مسجد' اپنی کشتی نما منفرد شکل کی بنا پرنمازیوں کےلیے دلکشی کاباعث

برطانوی دور کی تعمیر شدہ مسجد کئی بار انہدام کا شکار ہوئی، تحفظ کی خاطر کشتی کی منفرد شکل دے دی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اگر آپ اس ڈھانچے کو دور سے دیکھیں تو یہ پاکستان کے جنوبی بندرگاہی شہر کراچی کی مصروف سڑک کے وسط میں لنگر انداز ایک دیوہیکل کشتی کی طرح لگتا ہے۔

لیکن ایک بار جب آپ قریب جائیں اور دو بڑے مینار اور ایک سبز رنگ کا گنبد نظر آئے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسجد ہے۔

یہ کراچی کے علاقے دھوبی گھاٹ میں واقع تاریخی کچھی جامعہ مسجد یا 'کشتی والی مسجد' ہے جو نماز پڑھنے اور برادری کے لیے ایک مشہور مقام اور محبوب جگہ بن گئی ہے۔

اس مسجد کی ابتدا تقریباً 130 سال پہلے سے ہوتی ہے جب برطانوی افواج نے دریائے لیاری کے کنارے مضبوط بنانے کے لیے مسلمان مزدوروں کو متحرک کیا۔ کچھی جامع مسجد کے موجودہ صدر گل محمد عطاری کے مطابق کارکنان نے اس جگہ پر ایک عارضی مسجد ایستادہ کر دی۔

کئی عشروں بعد جب کچھی میمن برادری کے افراد 1920 کے عشرے میں ہجرت کر کے کراچی آئے تو انہوں نے اسی جگہ چار میناروں کے ساتھ کنکریٹ کی مسجد تعمیر کر دی۔

اس کے بعد سے سڑک کی تعمیر اور توسیعی کاموں کے ساتھ ساتھ علاقے میں ترقیاتی منصوبوں کی بنا پر اس عمارت کو متعدد بار منہدم اور دوبارہ تعمیر کیا گیا ہے۔ 2005 میں مسجد کو مستقبل کے انہدام سے بچانے کے لیے کچھی برادری نے مسجد کو ایک تاریخی اور امتیازی نشان میں تبدیل کرنے کا خیال پیش کیا - یعنی ایک ایسی جگہ جو ایک مسجد تو تھی لیکن ثقافتی اور سیاحتی اہمیت بھی رکھتی تھی۔

یہ ڈیزائن کچھی برادری سے تعلق رکھنے والے معمار عبدالقادر کی طرف سے آیا تھا اور مسجد سات سال میں تعمیر ہوئی۔ موجودہ شکل میں اس کی تین منازل ہیں اور اس میں 1,000 نمازیوں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔

عطاری نے عرب نیوز کو بتایا، "جب لوگ اس مسجد کو دور سے دیکھتے ہیں تو حیران رہ جاتے ہیں کہ سڑک کے درمیان ایک کشتی کھڑی ہے۔"

"جب وہ قریب آ کر گنبد اور مینار دیکھتے ہیں تو خوشگوار حیرت میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ 'واہ! یہ تو مسجد ہے، ماشاءاللہ!' وہ واقعی خوشی سے حیران ہوتے ہیں۔"

"دنیا بھر میں مشہور"

کشتی ایک بار دریا کے کنارے پر اپنی مطلوب جگہ سے تقریباً ہٹ گئی تھی۔

عطاری نے 1980 کے عشرے میں کراچی کے اس وقت کے میئر ڈاکٹر فاروق ستار کی اس تجویز کو یاد کیا جو گاڑیوں کے لیے دوہرا راستہ بنانے کی غرض سے مسجد کو دریا کے قریب منتقل کرنے کے بارے میں تھی لیکن علاقہ مکینوں نے کہا کہ وہ اپنے گھروں کی جگہ چھوڑ دیں گے بجائے یہ کہ عمارت کو منتقل کیا جائے۔

عطاری نے کہا، "اگر لوگ اپنے گھروں کو قربان نہ کرتے تو یہ بعد میں کشتی کی شکل اختیار نہ کرتی۔"

کمیونٹی کے ایک بزرگ اور گذشتہ پانچ عشروں سے مسجد کے باقاعدہ نمازی نور محمد نے کہا، اس کے ڈیزائن نے دنیا بھر میں اس حد تک شہرت حاصل کی ہے کہ اب بہت سے لوگ اس کے اصل نام سے ناواقف ہیں۔

انہوں نے عرب نیوز کو بتایا، "لوگ نہیں جانتے، ان میں سے اکثر نہیں جانتے کہ مسجد کا نام کیا ہے۔" وہ کہتے ہیں کہ نمازی اسے صرف کشتی کی شکل والی مسجد کے طور پر پہچانتے ہیں اور دور دراز سے اس تعمیراتی عجوبے کو دیکھنے آتے ہیں۔

محمد نے کہا، "لوگ اسلام آباد سے آتے ہیں، لاہور سے آتے ہیں اور کہتے ہیں 'ہم صرف یہ مسجد دیکھنے آئے ہیں'۔"

عطاری نے مزید کہا، "جب وہ مسجد [آخری بار] منہدم کی گئی تو لوگوں نے سوچا کہ وہ اصل مسجد کا سکون دوبارہ نہیں پائیں گے۔"

"لیکن ماشاءاللہ جب یہ مسجد بنی تو دنیا بھر میں اس قدر مشہور ہوگئی کہ اب لوگ یہاں آکر نماز پڑھتے اور فخر محسوس کرتے ہیں کہ وہ کشتی والی مسجد میں نماز پڑھ رہے ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں