پاکستان سمیت متعدد ملکوں کی شام میں ایرانی سفارت خانے پر حملے کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان نے شام کی مبینہ اسرائیلی کارروائی کو 'غیر ذمہ دارانہ‘ قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ اسے خطے میں مہم جوئی، پڑوسیوں پر حملہ کرنے اور غیر ملکی سفارتی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی غیر قانونی کارروائیوں سے روکا جائے۔

پیر کی شب جاری کیے گئے ایک بیان میں پاکستانی ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ 'یہ حملہ شام کی خودمختاری کی ناقابل قبول خلاف ورزی ہے اور اس کے استحکام اور سلامتی کو نقصان پہنچاتا ہے۔‘

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق شام کے وزیر خارجہ فیصل مقداد نے وزیر داخلہ کے ساتھ دمشق کے ضلع المزہ میں حملے کے مقام کا دورہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ 'ہم اس ظالمانہ دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں، جس نے دمشق میں ایرانی قونصل خانے کی عمارت کو نشانہ بنایا اور جس کے نتیجے میں متعدد بے گناہ مارے گئے۔‘

دریں اثنا روسی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں اس حملے کے لیے اسرائیل کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہا، "ہم شام میں ایرانی سفارت خانے پر اس ناقابل قبول حملے کی سخت مذمت کرتے ہیں۔"

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ہم اسرائیلی قیادت سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ شام اور پڑوسی ملکوں کے علاقوں میں مسلح تشدد کی ایسی اشتعال انگیز کارروائیا ں بند کرے۔"

امریکہ نے ایران سے کہا کہ وہ اس حملے میں کسی بھی طرح سے ملوث نہیں ہے۔ خبر رساں رائٹرز نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے کہا کہ امریکہ "اس حملے میں کسی بھی طرح سے ملوث نہیں ہے اور نہ ہی شام میں سفارتی کمپلکس پر اسرائیلی حملے کے متعلق اسے کوئی پیشگی علم تھا۔"

سعودی عرب نے بھی اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مملکت کسی بھی جواز اور بہانے سے سفارتی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کو واضح طور پر مسترد کرتی ہے۔ ریاض ایسی کارروائیوں کو بین الاقوامی سفارتی قوانین اور سفارتی استثنی کے اصولوں کی خلاف ورزی سمجھتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں