پاکستان معیشت کو ڈیجیٹل کرنے میں سعودی عرب کی پیروی کرے: پاکستانی کانفرنس کے مقررین

’سعودی عرب میں ای گورننس: پاکستان کے لیے مواقع اور اسباق‘ کانفرنس کا انعقاد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسلام آباد میں ایک تھنک ٹینک کے زیرِ اہتمام گول میز کانفرنس کے مقررین نے منگل کو کہا کہ پاکستان کو اپنی افرادی قوت کی حقیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے اپنی معیشت کو ڈیجیٹل کرنے میں سعودی عرب سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔

’سعودی عرب میں ای گورننس: پاکستان کے لیے مواقع اور اسباق،‘ کے عنوان سے یہ کانفرنس اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (آئی پی آر آئی) میں ڈبلیو ای ورلڈ نیوز کے تعاون سے منعقد ہوئی۔

تقریب کے مہمانِ خصوصی نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (این آئی ٹی بی) کے سربراہ ڈاکٹر ماجد بھٹی تھے جبکہ سفیر وائس ایڈمرل (ریٹائرڈ) خان ہشام بن صدیق نے بھی شرکت کی جو قبل ازیں سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر رہ چکے ہیں۔

آئی پی آر آئی نے ایک پریس ریلیز میں کہا، "اس بات پر زور دیا گیا اور سراہا گیا کہ تقریباً 40 ملین کی آبادی والے سعودی عرب نے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں بڑی پیش رفت کی ہے اور اس کی معاشرے کو ڈیجیٹائز کرنے کی خواہش نے اسے ایک عشرے سے بھی کم عرصے میں تبدیل کر دیا ہے۔"

سعودی عرب نے ای کامرس اور ای گورننس کے لیے بنیادی ڈھانچہ قائم کرنے کے لیے دنیا بھر سے بہترین ہنر اور مہارت حاصل کی ہے، اس بات کا ذکر کرتے ہوئے مقررین نے مملکت کی تعریف کی کہ اس نے اپنی معیشت کا انحصار تیل سے ہٹا کر اسے متنوع بنایا اور ڈیجیٹل انقلاب کی طرف راغب کیا۔

بیان میں کہا گیا ہے، "دو متضاد چیزوں میں مماثلت کے طریقوں کی نشاندہی کرنے کے دوران یہ نوٹ کیا گیا کہ اگرچہ پاکستان کے پاس بعض عظیم صلاحتیں اور محنتی اقدامات ہیں لیکن یہ ڈیجیٹل بنیادوں کی کمی ہے جو اس کے لیے پریشانی کا باعث ہے۔"

"یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب آج ڈیجیٹل معاشرے، ڈیجیٹل معیشت اور ڈیجیٹل طرزِ حکمرانی کا سہ گونہ اہرام کامیابی سے ایستادہ کر رہا ہے۔ اور یہ سیاق و سباق میں تیزی سے اس کی معیشت کو تیل سے ڈیجیٹل میں تبدیل کر رہا ہے۔"

مقررین نے کہا کہ ڈیجیٹل اور ای گورننس کا راستہ اختیار کرنے کے معاملے میں پاکستان کا بنیادی مسئلہ ڈیجیٹل مالیاتی لین دین کا انتخاب کرنے کے لیے سہولیات کا فقدان تھا۔

بیان میں کہا گیا ہے، "اس پہلو کا بالتفصیل مطالعہ ہونا چاہیے اور اسی طرح سمارٹ سٹیز کے قیام سے ڈیجیٹائز طریقے سے اسے دستاویزی شکل دے کر پاکستان اپنے طرزِ حکمرانی سے متعلق کئی مسائل کو بہتر طریقے سے حل کر سکتا ہے۔"

کانفرنس کے مقررین نے پاکستان میں ڈیجیٹل خواندگی کی اہمیت اور شفاف انفراسٹرکچر کی ضرورت پر زور دیا اور مزید کہا توانائی کی زیادہ قیمت، بنیادی ڈھانچے کی کمی اور ضوابط کی عدم موجودگی جیسے عوامل پاکستان کو ای گورننس میں پیش قدمی سے روک رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نجی شعبے کو سہولت فراہم کرنے کے لیے ریاستی سرپرستی میں پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ پاکستان کی مکمل صلاحیتوں کو بروئے کار لایا جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں