بھارتی وزیر دفاع کا مزید پاکستانیوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ اعترافِ جرم ہے: پاکستان

پاکستان نے بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے ایک حالیہ بیان کی شدید مذمت کی ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’انڈیا فرار ہو جانے والے دہشت گردوں کو پاکستان میں گھس کر مارے گا۔‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان نے ہفتے کو انڈین وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے ایک حالیہ بیان کی شدید مذمت کی ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’انڈیا فرار ہو جانے والے دہشت گردوں کو پاکستان میں گھس کر مارے گا۔‘

بھارت کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے جمعے کو نشریاتی ادارے سی این این نیوز 18 کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ انڈیا کسی بھی ایسے شخص کو مارنے کے لیے پاکستان میں داخل ہو گا، جو ان کے ملک میں دہشت گردانہ کارروائیاں کرنے کی کوشش کر کے سرحد پار فرار ہو جائے گا۔

انڈین وزیر کے اس بیان پر اپنے ردعمل میں پاکستانی دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت کا پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ اعتراف جرم ہے۔ پاکستان کسی بھی جارحیت کے خلاف اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لئے مکمل پرعزم ہے۔ عالمی برادری کو بھارت کے گھناؤنے اقدامات پر محاسبہ کرنا چاہیے۔

بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ 25 جنوری 2024 کو، پاکستان نے بھارتی دراندازی کے ناقابل تردید ثبوت فراہم کئے۔

ترجمان نے کہا کہ یہ پاکستان میں بھارت کے ماورائے عدالت اور بین الاقوامی قتل عام کی مہم کا واضح ثبوت ہیں،بھارت کا مزید شہریوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ واضح طور پر جرم کا اعتراف ہے ترجمان نے مزید کہا کہ عالمی برادری کو بھارت کے ان گھناؤنے اور غیر قانونی اقدامات پر محاسبہ کرنا چاہیے،پاکستان کسی بھی جارحیت کے خلاف اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لئے مکمل پرعزم ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ فروری 2019 کو بھی بھارت کو جارحیت پر سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑا تھا، اس اقدام نے بھارت کے فوجی برتری کے کھوکھلے دعووں کو بے نقاب کیا۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ انتخابی فائدہ کے لئے بھارتی حکمران نفرت انگیز بیان بازی کا سہارا لے رہے ہیں،بھارت کا غیر ذمہ دارانہ رویہ علاقائی امن کو نقصان پہنچاتا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن کے لیے اپنے عزم کا اظہار کیا ہے، ہماری امن کی خواہش کو غلط نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے یاد دلایا کہ تاریخ پاکستان کے پختہ عزم اور اپنے بھرپور دفاع کی صلاحیت کی گواہ ہے۔

کشیدگی کا پس منظر

یاد رہے کہ بھارت نے 2019 میں کشمیر میں ایک انڈین فوجی قافلے پر ہونے والے خودکش بم حملے میں ملوث ہونے کا الزام پاکستان میں مقیم عسکریت پسندوں پر عائد کیا تھا، جس کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات شدید سرد مہری کا شکار ہیں۔

پاکستان نے رواں برس کے آغاز میں کہا تھا کہ اس کے پاس اپنی سرزمین پر دو پاکستانی شہریوں کے قتل میں بھارتی ایجنٹوں کے ملوث ہونے کے مستند ثبوت ہیں۔ تاہم بھارت نے اسے ’جھوٹا اور بدنیتی پر مبنی‘ پروپیگنڈہ قرار دیا تھا۔

پاکستان سے پہلے امریکہ اور کینیڈا دونوں اپنی سر زمین پر بھارتی ایجنٹس کی جانب سے قتل کی کوشش کرنے کا الزام لگا چکے تھے۔

کینیڈا نے گذشتہ برس ستمبر میں کہا تھا کہ وہ جون میں مارے جانے والے سکھ علاحدگی پسند رہنما ہردیب سنکھ نجر کی موت میں بھارتی کے ملوث ہونے کے ’معتبر الزامات‘ کی تحقیقات کر رہا ہے، جسے بھارت نے ’مضحکہ خیز‘ قرار دیا تھا۔

دوسری جانب امریکہ نے گذشتہ برس نومبر میں کہا تھا کہ اس نے ایک سکھ علاحدگی پسند رہنما کو قتل کرنے کی انڈین سازش کو ناکام بنا دیا تھا۔ ان واقعات کے حوالے سے انڈین وزیراعظم نریندر مودی نے کہا تھا کہ انڈیا اس معاملے پر ملنے والی کسی بھی معلومات کی تحقیقات کرے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں