داسو واقعہ کی انکوائری مکمل، چند افسران کے خلاف انضباطی کارروائی کی منظوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاءاللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان امن کا خواہش مند ہے، خطے میں ہماری امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے، چینی شہریوں کی سکیورٹی سے متعلق معاملات میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی، بشام واقعہ کی تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں کچھ افسران کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔

کچھ عناصر پاکستان کو ترقی کرتا نہیں دیکھ سکتے، ملک دشمن قوتیں سی پیک کو ناکام بنانے کی سر توڑ کوششیں کر رہی ہیں، ہمارے حوصلے بلند ہیں، کسی کو امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ہفتہ کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ملک دشمن قوتیں سی پیک کو ناکام بنانے کی سر توڑ کوششیں کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے حوصلے بلند ہیں، کسی کو امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، ہماری مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں، دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے حوالے سے بہت سے اجلاس منعقد کئے۔

وزیراعظم نے داسو واقعہ پر ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی تھی۔ انکوائری کمیٹی نے جب اپنی رپورٹ دی تو اس کی روشنی میں وزیراعظم نے کچھ افسران کے خلاف انضباطی کارروائی کی ہدایت کی، ان افسران میں آر پی او ہزارہ ڈویژن، ڈی پی او اپر کوہستان، ڈی پی او لوئر کوہستان، ڈائریکٹر سکیورٹی داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ اور کمانڈنٹ سپیٍشل سکیورٹی یونٹ خیبرپختونخوا شامل ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ان افسران کے خلاف ڈسپلنری ایکشن لیا جائے گا اور پندرہ دن میں رپورٹ پیش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ چینی شہریوں کی سکیورٹی کے حوالے سے معاملات کو مزید سنجیدگی سے لیا جائے گا۔ اس میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ وزیراعظم چینی پراجیکٹس کی سکیورٹی کے حوالے سے معاملات کی خود نگرانی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لئے ایک موثر نظام وضع کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی اس جنگ میں جن لوگوں نے جام شہادت نوش کیا انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں