یوسف رضا گیلانی چیئرمین اور سیدال خان ناصر بلا مقابلہ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ منتخب

پاکستان تحریک انصاف نے سینیٹ کے چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کا بائیکاٹ کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان پیپلز پارٹی کے یوسف رضا گیلانی بلا مقابلہ نویں چیئرمین سینیٹ جبکہ مسلم لیگ ن کے سیدال ناصر ڈپٹی چیئرمین سینیٹ منتخب ہو گئے ہیں۔ دونوں امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہوئے ہیں۔

صدر آصف علی زرداری کا طلب کردہ سینیٹ اجلاس پریزائیڈنگ افسر اسحق ڈار کی زیر صدارت شروع ہوا تو پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کے سینیٹر بھی ایوان بالا پہنچے، اور ان کی جانب سے نعرے بازی کی گئی۔

بیرسٹر علی طفر نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا اجلاس غیر آئینی ہے، خیبر پختونخوا کے سینیٹرز کے بغیر یہ ایک نامکمل سینیٹ ہے۔

انہوں نے کہا کہ آرٹیکل59 کہتا ہے کہ سینیٹ میں 96 ممبران اور ہر صوبے سے 26 سینیٹرز ہونے چاہئیں، جبکہ آرٹیکل 60 کہتا ہے کہ آرٹیکل 59 کے مطابق جب باضابطہ سینیٹ کی تشکیل ہوجاتی ہے تب ہی چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین کا الیکشن ہوگا۔ میری التجا ہے کہ سینیٹ کا اجلاس معطل کیا جائے اور تب تک کیا جائے جب تک خیبرپختونخوا میں الیکشنز نہیں ہوجاتے۔

سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ سینیٹ کے سال کا نیا آغاز ہے، پاکستان کی حفاظت کرنا ہمارے لیے مقدم ہے۔ایک صوبہ اس وقت تفاوت کا شکار ہے، سینیٹ کا ایک اکائی یہاں موجود نہیں تو یہ الیکشن درست نہیں، ان کے ممبران کے بغیر چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا الیکشن نہیں ہونا چاہیے۔ خیبرپختونخوا کی نمائندگی کے بغیر انتخابات، غیر قانونی ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایوان سب کا ہے، ہمیں اس کا احترام کرنا چاہیے، الیکشن ہوجائیں گے لیکن اگر آج ملتوی ہوجائیں تو کیا قباحت ہے؟ اگر یہ ہوگئے تو ساری دنیا میں پیغام جائے گا کہ یہ بھی غیر قانونی ہیں، ہمیں اس غیر آئینی عمل کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایوان سے خطاب میں کہا کہ حلف لینے سے پہلے سینیٹرز کو اظہار خیال کی اجازت نہیں ہوتی، آئینی مینڈیٹ کے باوجود پی ٹی آئی سینیٹرز کو بولنےکاموقع دیا گیا، آرٹیکل 60 میں سب کچھ واضح ہے، آرٹیکل 60 کہتا ہے کہ ایوان کی باضابطہ تشکیل کے بعد پہلے اجلاس میں چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا انتخاب ہونا ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں الیکشن کسی قدرتی آفت پر ملتوی نہیں ہوئے ہیں، وہاں پہ مخصوص نشستوں پر جو ممبر منتخب تھے انہیں حلف لینا تھا، وزیر اعلیٰ نے سیسش بلانا تھا اور اسپیکر نے حلف لینا تھا مگر یہ نہیں ہوا، منتخب ممبران نے اس پر پشاور ہائیکورٹ نے حلف لینا کا کہا مگر حکومت نے اسے ہوا میں اڑایا، اسی پر الیکشن کمیشن نے حلف نا ہونے کی وجہ سے ہی انتخابات ملتوی کیے۔

بعد ازاں منگل کو ہونے والے سینیٹ اجلاس کے دوران نو منتخب اور ضمنی انتخابات میں کامیاب ہونے والے سینیٹرز نے حلف اٹھایا۔ تحریک انصاف کے اراکین نے اس موقع پر ایوان میں احتجاج کیا۔ سینیٹرز کی آئینی مدت چھ سال ہوتی ہے۔

نو منتخب ارکان کی حلف برداری کے بعد چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا انتخاب عمل میں آنا تھا۔ تاہم چیئرمین سینیٹ کے لیے پیپلز پارٹی کے امیدوار سید یوسف رضا گیلانی اور مسلم لیگ ن کی جانب سے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے امیدوار سیدال خان ناصر کے مقابلے میں کسی بھی امیدوار نے کاغات نامدگی جمع نہیں کرائے۔

اس طرح دونوں امیدوار بلامقابلہ چیئڑمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ منتخب ہو گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں