نوشکی میں نامعلوم افراد نے نو مسافروں سمیت 11 افراد کو قتل کر دیا

درجن بھر مسلح افراد نے ایک بس میں سوار پنجاب سے تعلق رکھنے والے نو مسافروں کو شناخت کے بعد اغوا کر کے بعد میں قتل کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

بلوچستان کے ضلع نوشکی میں نامعلوم مسلح افراد نے جمعے کو نو مسافروں سمیت 11 افراد کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔

پاکستان اور افغانستان سرحد سے متصل ضلع نوشکی کے ایس ایس پی اللہ بخش بلوچ کے مطابق ایک درجن سے زائد نامعلوم مسلح افراد نے کوئٹہ نوشکی تافتان کی قومی شاہراہ کو بند کرنے کے بعد گاڑیوں کو روک کر مسافروں کے شناختی کارڈ چیک کرنے کے بعد نو افراد کو ساتھ لے گئے۔

نوشکی میں نامعلوم مسلح افراد نے مسافر بس سے پنجاب کے نو افراد کو اغواء کرنے کے بعد قتل کر دیا جبکہ فائرنگ سے دو افراد جاں بحق اور رکن صوبائی اسمبلی کے بھائی سمیت پانچ زخمی ہو گئے ہیں۔

پنجاب سے تعلق رکھنے والے مزدوروں کے قتل کا واقعہ نوشکی کے مقام پر قومی شاہراہ پر پیش آیا جہاں کوئٹہ سے تافتان جانے والی بس کو نامعلوم مسلح افراد نے راستے میں روک لیا۔

دہشت گردوں نے پنجاب سے تعلق رکھنے والے نو مسافروں کو قریبی پہاڑوں میں لے جا کر گولیاں مار دیں، واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور مرنے والے افراد کی لاشیں قریبی پہاڑی کے قریب پل کے نیچے سے برآمد کر لی ہیں۔

پولیس کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ نوشکی سے اغوا ہونے والے نو مسافروں کی لاشیں برآمد ہو گئی ہیں، ملزمان کی تلاش کے لیے پولیس، ایف سی اور دیگر سکیورٹی فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

سابق نگراں وزیر اطلاعات بلوچستان جان اچکزئی نے ایکس پر دعویٰ کیا ہے کہ حملے میں دہشت گرد تنظیم بی ایل اے ملوث ہے، نوشکی کے قریب قومی شاہراہ این 40 پر مسافر بس کو روکا اور مسافروں کا قیمتی سامان لوٹنے کے بعد نو نہتے مزدوروں کو قتل کر دیا گیا۔

دوسری جانب نوشکی میں ہی قومی شاہراہ پر فائرنگ کے ایک اور واقعے میں دو افراد جاں بحق اور پانچ زخمی ہو گئے ہیں، زخمیوں میں نوشکی سے جمعیت علمائے اسلام کے رکن بلوچستان اسمبلی غلام دستگیر بادینی کے بھائی شامل ہیں۔

ڈپٹی کمشنر نوشکی حبیب اللہ موسٰی خیل نے بتایا ہے کہ جمعے کی شب نوشکی سے تقریباً ایک کلومیٹر دور سلطان چڑھائی کے پہاڑی مقام پر نامعلوم مسلح افراد نے گاڑیوں کی تلاشی لینا شروع کی اور اس دوران نہ رُکنے پر ایک گاڑی پر فائرنگ کر دی۔

اظہار مذمت

وزیراعظم شہباز شریف نے نوشکی میں قومی شاہراہ پر بس سے اغوا کے بعد مسافروں کے قتل کی مذمت اور گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

شہباز شریف نے لواحقین سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کے مجرموں اور ان کے سہولت کاروں کو قرار واقعی سزا دی جائے گی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے کی رپورٹ بھی طلب کرلی۔ ان کا کہنا تھا کہ رنج کی اس گھڑی میں سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں، دہشت گردی کے عفریت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے نوشکی میں فائرنگ سے 11 افراد کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ واقعے میں ملوث دہشت گردوں کو معاف نہیں کیا جائے گا۔

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھی نوشکی میں بس مسافروں کو اغوا کرکے قتل کرنے کے واقعہ کی مذمت کی ہے۔ مریم نواز واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سوگوار خاندانوں سے اظہار تعزیت کی۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ پاکستانی ایک قوم ہیں اور ایک رہیں، نفرت بانٹنے والوں کا نام ونشان نہیں رہے گا۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی نوشکی میں اغواء کے بعد بس مسافروں کے قتل کے واقعہ کی مذمت کی ہے۔ ایک بیان میں وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ دکھ کی گھڑی میں سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں، قائد اعظم کے پاکستان میں ایسے افسوسناک واقعہ کی کوئی گنجائش نہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں