کراچی کے جوڑے نے منگنی کی تقریب فلسطین سے اظہارِ یکجہتی کے لیے وقف کر دی

اسماعیل اور حمنہ نے تقریب کے لیے کوفیہ رومالوں کو لباس کا لازمہ بنا دیا، 'سلامی' کی رقم غزہ کے لیے عطیہ کرنے کی درخواست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

زیادہ تر جوڑوں کی طرح اسماعیل طلحہ اور حمنہ ہمایوں نے بھی اپنی منگنی کو یادگار بنانے کے لیے بہت منصوبے بنائے تھے البتہ انہوں نے غزہ میں اسرائیل کی جنگ کے تناظر میں فلسطینی عوام کے ساتھ منفرد انداز میں اظہارِ یکجہتی کے لیے ان منصوبوں کو ترک کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

جمعہ کی رات کراچی کے ٹیولپ بینکویٹ ہال میں جب مہمانوں کی آمد شروع ہوئی تو انہوں نے نئے منصوبے کے پیشِ نظر خود کو فلسطینی کوفیہ رومالوں سے آراستہ کر لیا۔ میزبانوں نے انہیں کھانا اور لذیذ میٹھے پیش کئے۔

البتہ مہمانوں نے "سلامی" کا نقد تحفہ جوڑے کو پیش کرنے کی روایت پر قائم رہنے کے بجائے یہ رقم غزہ فنڈ کے عطیے کے ڈبے میں ڈال دی جو فلسطینی علاقے میں اسرائیل کی جاری فوجی مہم کے متأثرین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کی علامت تھا۔

12 اپریل 2024 کو کراچی، پاکستان میں اپنی منگنی کو فلسطین سے اظہارِ یکجہتی کے لیے وقف کرنے والے جوڑے کی تقریب میں غزہ کے لیے عطیے کا ایک ڈبہ رکھا گیا۔ (اے این فوٹو)
12 اپریل 2024 کو کراچی، پاکستان میں اپنی منگنی کو فلسطین سے اظہارِ یکجہتی کے لیے وقف کرنے والے جوڑے کی تقریب میں غزہ کے لیے عطیے کا ایک ڈبہ رکھا گیا۔ (اے این فوٹو)

طلحہ نے کس طرح اپنی منگیتر سے منگنی کی تقریب کو یادگار بنانے پر تبادلۂ خیال کیا، یہ یاد کرتے ہوئے انہوں نے عرب نیوز کو بتایا، "ہماری بھی خواہشات تھیں۔ لیکن جب ہم نے فلسطین میں اپنے مسلمان بھائیوں اور بہنوں، ماؤں اور بچوں کے ساتھ ناانصافی دیکھی تو سوچا کہ ہم ان تمام منصوبوں کو کیسے عملی جامہ پہنا سکتے ہیں۔"

انہوں نے منگنی کی تقریب میں فلسطینی مقصد کو شامل کرنے کے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا، "ہم نے سوچا کہ کیوں نہ فلسطین کے بارے میں بیداری پیدا کی جائے۔"

اگرچہ یہ خیال تمام مہمانوں کے لیے غیر روایتی تھا لیکن اس نے کچھ لوگوں پر دیرپا تأثر چھوڑا۔ جنید طارق ان میں سے ایک تھے۔

انہوں نے عرب نیوز کو بتایا، "عموماً جب ہم ایسی تقریبات میں شرکت کرتے ہیں تو موسیقی اور نئے موضوعات کی منصوبہ بندی دیکھنے کو ملتی ہے لیکن میں نے اس تقریب میں جو دیکھا وہ بہت اچھا لگا۔ انہوں نے فلسطین کے مسلمانوں کو یاد رکھا۔"

انہوں نے مزید کہا، "مجھے یہ تصور بہت متأثر کن معلوم ہوا۔"

تقریب کے جذبات سے لبریز طلحہ کے والد شیخ محمد نے نشان دہی کی کہ خوشی کے لمحات میں بھی فلسطینیوں کی حالتِ زار کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں تھا۔

انہوں نے کہا، "یہ خوشی کا موقع ہے، ہر کوئی [ہم جانتے ہیں] یہاں جمع ہیں، کھانے پینے کی اشیاء پیش کی جا رہی ہیں لیکن خوشی کے اس موقع پر [غزہ کی صورتِ حال پر] ہمارا دکھ بہت زیادہ ہے۔"

سفری صنعت کی ایک کامیاب کاروباری شخصیت نے فلسطینی عوام کو یکجہتی کا پیغام پہنچانے کی خواہش پر زور دیتے ہوئے انہیں یقین دلایا کہ پاکستان ان کی جدوجہد میں مضبوطی سے ان کے ساتھ کھڑا رہے گا۔

طلحہ کے والد نے کہا، "فلسطین کی صورتِ حال، اسرائیل کی طرف سے ڈھائے جانے والے مظالم، جس طرح انہوں نے خواتین اور بچوں پر بمباری کی اور جس طرح سے وہ انسانیت کے خلاف جرائم کر رہے ہیں، اس سے ہمارے دل خوش نہیں ہو سکتے۔"

انہوں نے فلسطین کے لیے یکجہتی اور حمایت کے اظہار میں ایک مہمان کو کوفیہ رومال پیش کرنے سے پہلے کہا، "ہمارے دل ان کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں