رابطہ عالم اسلامی کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر العیسیٰ کی چیف جسٹس سے ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے رابطہ عالم اسلامی کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسیٰ نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے ملاقات کی ہے۔

ملاقات میں قانونی مسائل، قانون سازی اور ماتحت عدلیہ کے نظام سمیت عدالتی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

رابطہ عالم اسلامی کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ہونے والے پیغام کے مطابق اسلامی جمہوریہ پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اسلام آباد میں اپنے دفتر میں ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسیٰ، سیکریٹری جنرل رابطہ عالم اسلامی اور آرگنائزیشن آف مسلم سکالرز کے چیئرمین کا خیرمقدم کیا۔

ملاقات میں کئی فکری اصولوں، ان سے متعلقہ آئینی مسائل اور قانون سازی سے متعلق کئی امور پر تبادلہ خیال کیا۔

رابطہ عالم اسلامی کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسیٰ پاکستان کے 9 روزہ دورے پر ہیں۔

عرب نیوز کے مطابق ان کے دورے کا مقصد بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینا اور پاکستان کے ساتھ سعودی عرب کے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ مسلم ورلڈ لیگ مکہ میں قائم ایک غیر سرکاری تنظیم ہے جو دنیا بھر میں اسلام کے پیروکاروں کی نمائندگی کرتی ہے۔

9 روزہ دورے کے دوران فیصل مسجد میں نماز عید کے خطبے، اسلام آباد میں سیرت النبی میوزیم کے سنگ بنیاد رکھنے سمیت وہ وزیراعظم اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کر چکے ہیں۔

وہ صدر مملکت آصف علی زرداری سے بھی ملاقات کریں گے۔

ہفتے کی شام انھوں نے جہاں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی اور رابطہ عالم اسلامی کے لیے پاکستان کی خدمات کا خیر مقدم کیا وہیں پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات پر بھی اطمینان کا اظہار کیا۔

سیرت النبی میوزیم کے سنگ بنیاد کے موقع پر اپنے خطاب میں بھی انھوں نے پاکستان اور اہل پاکستان کو بہترین الفاظ میں یاد کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان اور سعودی عرب کا بہت مضبوط رشتہ ہے، سچے ایمانی جذبے کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعلقات ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’پاکستان کی پہچان سچا ایمان اور قربانیاں ہیں۔ جو شخص بھی پاکستان کا دورہ کرتا ہے اسے اسلام کی سچائی نظر آتی ہے۔‘

ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسیٰ کا کہنا تھا کہ ’پاکستانی قوم اپنے عقیدے اور اسلامی اقدار سے محبت کرنے والی قوم ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’دنیا کی ہدایت کے لیے قرآن مجید کو نازل کیا گیا۔ اسے سمجھنے کے بعد ہی اس پر عمل کیا جا سکتا ہے، یہ معتدل تعلیمات پر مشتمل ہے۔‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں