سعودی عرب سے برادرانہ تعلقات کو مضبوط شراکت داری میں بدلنے کی ضرورت ہے: اسحاق ڈار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان میں سعودی سرمایہ کاری سے نہ صرف گہری قابل قدر شراکت داری کو تقویت ملے گی بلکہ یہ علاقائی امن و استحکام میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔

وہ منگل کو اسلام آباد میں خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (سی آئی ایف سی )فورم سے خطاب کر رہے تھے جس میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود کی قیادت میں دورہ کرنے والے اعلیٰ اختیاراتی سعودی وفد نے شرکت کی۔

دورہ کرنے والے وفد میں سعودی وزیر برائے پانی و زراعت انجینیر عبدالرحمن عبدالمحسن آل فضلی، صنعت اور معدنی وسائل کے وزیر، بندر ابراہیم الخریف، معاون وزیر برائے سرمایہ کاری، ابراہیم بن یوسف المبارک؛ سعودی خصوصی کمیٹی کے سربراہ، محمد مازیاد التویجری اور وزارت توانائی اور سعودی پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کے سینئر حکام شامل ہیں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ موجودہ حکومت کا ہدف سرمایہ کاروں بالخصوص سعودی عرب کے سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش ماحول پیدا کرتے ہوئے پاکستان کو اقتصادی سرگرمی اور اور جدت کے حامل مرکز میں تبدیل کرنا ہے۔

وزیر خارجہ نے وفد کو یقین دلایا کہ پاکستان میں سعودی سرمایہ کاری باہمی ترقی اور خوشحالی کے لیے بھی مددگار ثابت ہوگی۔

وزیر خارجہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان میں سعودی سرمایہ کاری کو انتہائی قدر اور ادارہ جاتی نظام کے کے ذریعے بروئے کار لایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گہرے اسلامی ورثے اور باہمی سٹریٹجک مفادات سے منسلک مضبوط تعلقات استوار ہیں اور سعودی وفد کے دورے نے دونوں ممالک کے درمیان گہرے اور پائیدار روابط کو اجاگر کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ دیرینہ اور آزمو دہ دوستی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم عنصر ہے جس کا مقصد روایتی طور پر برادرانہ تعلقات کو سٹریٹجک اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کرنا ہے۔

انہوں نے وفد کو بتایا کہ ایس آئی ایف سی پلیٹ فارم کا مقصد سرمایہ کاری کے حوالے سے متعلقہ عمل کو خوش اسلوبی سے انجام دینا اور فیصلہ سازی کو موثر بنانا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی ڈھانچے کو وسعت دینے، ریگولیٹری فریم ورک کو ہموار کرنے اور پاکستان میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے تیز رفتار عمل کو یقینی بنانے میں کونسل کا مرکزی کردار ہے۔ وزیر خارجہ ڈار نے کہا کہ پاکستان زرخیز زرعی زمین، فعال افرادی قوت ،معدنی وسائل ، متحرک آئی ٹی سیکٹر اور شمسی، ہائیڈرو اور ونڈ جیسی قابل تجدید توانائی کے وافر امکانات سے مالا مال ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی زرخیز زمین نے زرعی ٹیکنالوجی اور فوڈ پروسیسنگ میں بے شمار مواقع فراہم کئے ہیں۔ آبی وسائل کا ایک وسیع نیٹ ورک پاکستان کے لیے ریجنل فوڈ باسکٹ بننے کے امکانات پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے کان کنی کے شعبہ بالخصوص تانبا ،سونا اور قیمتی معدنیات سے معروف ٹیتھیان بیلٹ میں بہت زیادہ مواقع پائے جاتے ہیں جن سے بھی تک استفادہ نہیں کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ کوششوں کے ذریعے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات مزید مضبوط ہوں گے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں فریقین کو دسیتیاب وافر مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں