پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے بھرپور کردار ادا کریں گے: سعودی وزیر خارجہ

غزہ کی صورتحال عالمی نظام کی مکمل ناکامی ہے، سعودی وزیر خارجہ کی پاکستانی ہم منصب کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ پاکستان کا دورہ بہت مفید ثابت ہوا جس میں سرمایہ کاری کے حوالے سے ابتدائی بات چیت ہوئی، ہم پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے بھرپور کردار ادا کریں گے۔ پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے جو ہو سکا کریں گے۔ غزہ کی صورتحال عالمی نظام کی مکمل ناکامی ہے، جبکہ وزیر خارجہ اسحاق ڈارنے کہا کہ سعودی عرب کی جانب سے بڑی سرمایہ کاری کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

سعودی وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے پاکستانی ہم منصب وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں گرم جوش مہمان نوازی کے لیے پاکستان کا شکر گزار ہوں، سعودی عرب پاکستان میں موجود سرمایہ کاری کے مواقع سے بھرپور استفادہ کرے گا۔ ہم نے دو طرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔

انہوں نے کہاکہ ہم نے صدر، وزیراعظم سے ملاقاتوں میں پاکستان اور سعودیہ کے تعلقات کی گہرائی اور اہمیت کے بارے میں بات کی۔ سعودی وزیر خارجہ نے کہاکہ دوطرفہ تعلقات اور سرمایہ کاری سے دونوں ممالک کا فائدہ ہو گا۔ پاکستان اور سعودی عرب نہ صرف معاشی ترقی بلکہ علاقائی امن میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ شراکت دار ہیں۔

سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ وزارت خارجہ میں ہمارے استقبال پر وزیر خارجہ کا مشکور ہوں، پاکستان سے برادرانہ تعلقات کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، ہمارا دورہ انتہائی مثبت پیش رفت ہے، پاکستان کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے موقع دیکھ رہے ہیں، پاکستان میں سرمایہ کاری کے لئے درجنوں شعبے موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دورہ پاکستان کے نتائج آنے والے وقتوں میں سامنے آئیں گے، پاکستان اور سعودی عرب مل کر باہمی مفاد حاصل کر سکتے ہیں، ہم نے باہمی دلچسپی اورعلاقائی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا، انہوں نے کہ آج کا دورہ وزیراعظم شہباز شریف اور ولی عہد کی ملاقات کا نتیجہ ہے اور یہ دورہ انتہائی مثبت رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی جانب سے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں، اور پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے ہم سے جو ہو سکا کریں گے۔ سعودی وزیرخارجہ نے کہا کہ ایس آئی ایف سی کے پلیٹ فارم پر سرمایہ کاری کے حوالے سے انتہائی سنجیدگی دیکھنے میں آئی۔

غزہ کے حوالے سے سوال کے جواب میں سعودی وزیرخارجہ نے کہا کہ غزہ کی صورت حال مکمل طور پر بین الاقوامی قوانین کی ناکامی اور ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں 33 ہزار سے زیادہ افراد شہید ہو چکے ہیں، وہاں امداد پہنچانے پر پابندی ناقابل قبول ہے۔

سعودی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ چھ مغربی کارکنوں کے مرنے کے بعد عالمی سطح پر رویہ اگرچہ تبدیل ہوا ہے، مگربین الاقوامی طور پر ہمیں دہرے معیار اور منافقت کا سامنا ہے،انہوں نے مزید کہا کہ عالمی برادری غزہ میں جنگ بندی کروائے، ہمیں اپنے خطے میں مزید کسی لڑائی کی ضرورت نہیں ہے۔ غزہ میں بھوک اور افلاس ہے، بین الاقوامی سسٹم مکمل طور پر فیل ہوچکا ہے، غزہ میں امدادی سامان روکنے کی کوئی وجہ نہیں ہونی چاہئے، عالمی برادری اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام رہی، غزہ پر دنیا کا دوہرا میعار سب کے سامنے ہے، جنگ بندی کیلئے تمام کوششیں بے سود رہی ہیں، فلسطین میں لوگ بھوک سے مر رہے ہیں، عالمی برادری کو جاگنا چاہئے۔

اس موقع پر پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہاکہ وزیراعظم شہباز شریف پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کو معاشی اور تزویراتی طور پر مزید گہرا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ دورے میں مہمان نوازی پر ولی عہد اور وزیراعظم محمد بن سلمان کے مشکور ہیں۔ اسحاق ڈار نے کہاکہ پاکستان کے لوگ سعودی قیادت کو بہت عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

اس وقت ایک اعلی سطح کا سعودی وفد پاکستان میں موجود ہے اور مجھے یاد نہیں کہ 35 سال میں ایسا وفد آیا ہو، وزیر خارجہ اسحق ڈار نے کہا کہ شہزادہ فیصل بن فرحان کو پاکستان میں خوش آمدید کہتے ہیں، سعودی وفد کا پرتپاک استقبال کرکے بہت خوشی ہورہی ہے، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے مشکور ہیں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب میں مختلف شعبوں سے متعلق تبادلہ خیال ہوا، پاکستانی حکومت اور عوام میں سعودی عرب کے لیے بہت احترام ہے، سعودی عرب کی جانب سے بڑی سرمایہ کاری کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ اسحاق ڈارنے کہاکہ سعودی عرب نے پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانے کا عندیہ دیا ہے۔ سرمایہ کاری ایس آئی ایف سی کے پلیٹ فارم سے کی جائے گی جو بیرونی سرمایہ کاری کے لیے ون ونڈو ادارہ ہے۔

اسحق ڈار نے کہا کہ سعودی عرب سے آئی ٹی، معدنیات، زراعت اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری پر بات ہوئی، سعودی سرمایہ کاروں کو تمام سہولیات فراہم کریں گے، سعودی عرب کو باضابطہ طور پر آئی سی ایف سی سے متعلق آگاہ کیا، پاکستان میں سرمایہ کاری کے موقع سے سعودی عرب بھرپور استفادہ کریگا،انہوں نے کہا کہ آج سعودی وزیر خارجہ کے ایس آئی ایف سی کے دورے کے دوران زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، کان کنی اور صنعتی شعبے میں سرمایہ کاری کے بارے میں بات کی گئی۔

انہوں نے کہاکہ ہم نے گزشتہ دور میں ایس آئی ایف سی کے بارے میں قانون سازی کی۔ جہاں بیرونی سرمایہ کار ایک چھت کے نیچے سارے لائسنز حاصل کرسکتے ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ ہم ایس آئی ایف سی کے پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے بیرونی سرمایہ کاری کا دائرہ وسیع کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب تمام بین الاقوامی فورمز پر ایک ساتھ نظر آتے ہیں۔

اسحاق ڈار نے کہاکہ وزیراعظم شہباز شریف پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کو معاشی اور تزویراتی طور پر مزید گہرا کرنا چاہتے ہیں،انہوں نے کہا کہ ملاقات میں گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ اور بزنس ٹو بزنس رابطوں کو بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ہے اور پاکستان سعودی سرمایہ کاروں کو بھرپور تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہے، ہم نے دوطرفہ تعلقات کومعاشی اشتراک میں تبدیل کرنے پر تبادلہ خیال کیا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں پاکستان اور سعودی عرب دونوں ان وسائل سے فائدہ اٹھائیں کیونکہ ہمارے بیرونی قرضے ان وسائل کے سامنے کچھ بھی نہیں، پاکستان میں ذراعت اور آئی ٹی کے شعبے میں کثیر مواقع ہیں، پاکستان کے پاس دس کھرب ڈالر کے معدنیات کے ذخائر ہیں۔

اسحاق ڈار نے سعودی ہم منصب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ 25 لاکھ پاکستانیوں کی مہمان نواز پر سعودی حکومت کے مشکور ہیں، ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہنر مند افراد کو بیرون ملک بھیجیں، میں درخواست کروں گا کہ نیوم جیسے منصوبوں میں ہمارے ہنرمند افراد کو موقع دیا جائے، پاکستانی بھائی دہائیوں سے سعودی عرب کی تعمیر میں مصروف ہیں، ہمیں ایک دوسرے کے تعاون کی ضرورت ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں