فلسطینی خواتین کی مزاحمت کو اجاگر کرتی پاکستانی فنکارہ کی پینٹنگ کی نئی سیریز

اسرائیلی جارحیت کے سامنے فلسطینی خواتین کے ہمت و حوصلے نے میری تازہ ترین سیریز کو متأثر کیا: انعم زیدی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایک عورت کا بڑا سا سفید خاکہ کینوس کے سیاہ پس منظر کے بالکل برعکس تھا۔ بے چہرہ خاتون نے اپنا سر بازو پر ٹکایا ہوا تھا اور اس کے گلے میں موجود خانوں والا کوفیہ رومال ایک لفظ کا استعارہ تھا: مزاحمت۔

یہ پینٹنگ پاکستان کے بندرگاہی جنوبی شہر کراچی کی سنت گیلری میں کویتی نژاد پاکستانی مصورہ انعم زیدی کی تازہ ترین نمائش کا حصہ ہے۔ "دریا سے سمندر تک" کے عنوان سے یہ سلسلہ فلسطینی خواتین اور غزہ میں جاری اسرائیل کے فوجی حملے کے دوران ان کی ہمت کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔

یہ نمائش منگل کو شروع ہوئی اور 25 اپریل تک جاری رہے گی جس میں 14 پینٹنگز پیش کی گئی ہیں۔ یہ تمام سیاہ رنگ کے کینوس پر پینٹ کی گئی سفید خاکہ نما تصاویر ہیں۔

لاہور میں مقیم انعم زیدی نے عرب نیوز کو بتایا کہ ان کے کمیشن کا دس فیصد پاکستانی خیراتی ادارے الخدمت فاؤنڈیشن کے ذریعے غزہ کے لوگوں کو دیا جائے گا۔

روایتی فلسطینی خانے دار کوفیہ سکارف حال ہی میں دنیا بھر میں فلسطینی قوم پرستی اور یکجہتی کی علامت کے طور پر سامنے آیا ہے اور زیدی کی پینٹنگز کے تازہ ترین مجموعہ میں مرکزی مقام رکھتا ہے۔

زیدی نے منگل کو اپنی نمائش میں کہا، "اس تازہ ترین کام میں یہ [کوفیہ] خواتین کی طاقت کی نمائندگی کر رہا ہے۔ یہ فلسطینی خواتین کی طاقت، ان کے حوصلے اور ان کی ہمت کی علامت ہے۔"

سات اکتوبر کو اسرائیل کی جانب سے غزہ پر فضائی اور زمینی فوجی کارروائی شروع کرنے کے بعد سے جاں بحق ہونے والے 33,800 فلسطینیوں میں سے 10,000 خواتین ہیں۔ گذشتہ ماہ خواتین کے عالمی دن کے موقع پر ایک بیان میں غزہ کی وزارت صحت نے کہا تھا کہ 60,000 سے زائد حاملہ فلسطینی خواتین غذائی قلت، پانی کی کمی اور صحت کی مناسب نگہداشت کی کمی کا شکار تھیں۔ اب انکلیو کے طول و عرض میں پھیلنے والی شدید بھوک اور عملاً کسی خوراک کی عدم دستیابی کے ساتھ مائیں اور چھوٹے بچے سب سے زیادہ کمزور اور متأثرہ ہیں۔

دنیا بھر کے لاکھوں دوسرے لوگوں کی طرح ان ہولناک حالات و واقعات نے زیدی کو بھی متأثر کیا ہے۔

انہوں نے کہا، "فلسطین میں جو کچھ ہو رہا ہے، ماں ہونے کے ناطے یہ انتہائی پریشان کن ہے۔ اس نے واقعی میری صحت پر، میری ذہنی صحت پر اثر کیا ہے۔"

شو کے کیوریٹر شہرزادے جونیجو نے زیدی کے فن کو یوں بیان کیا: "مظلوم لوگوں کی حالتِ زار کے نام جو کپڑے کے ایک پارچے کا استعمال کر کے بیان کی گئی ہے"۔

جونیجو نے کہا، "موجودہ واقعات کی صریح سیاست کاری کی بجائے پینٹنگز کا یہ سلسلہ نسل کشی کا سامنا کرنے والے بے اختیار لوگوں کا ایک نرم اور زیادہ انسانی پہلو پیش کرتا ہے۔"

زیدی کے لیے ان کی پینٹنگز کی تازہ ترین سیریز میں خواتین کی جسمانی حرکات اور لباس سے اعتماد ظاہر ہوتا تھا۔

انہوں نے وضاحت کی، "تو وہ سر ڈھانپنے والی یا ایسی خواتین نہیں جو بہت زیادہ مظلوم نظر آتی ہوں کیونکہ اگرچہ ان [فلسطینی خواتین] پر ظلم ہو رہا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ مجھے لگتا ہے کہ ہمیں اس طاقت پر زیادہ توجہ دینی چاہیے جس کا انہوں نے گذشتہ برسوں میں مظاہرہ کیا ہے۔"

زیدی جو اس سے قبل ویانا، لندن، نئی دہلی اور دبئی میں اپنے کام کی نمائش کرچکی ہیں، نے ایک پینٹنگ کی طرف اشارہ کیا جس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ ان کی پسندیدہ تھی: اس عورت کا خاکہ جو بازو پر اپنا سر رکھے ہوئے ہے۔

زیدی نے کہا، "ایسا لگتا ہے کہ وہ موجودہ واقعات کی عکاسی کر رہی ہے اور جو کچھ بھی ہو رہا ہے۔ اور ساتھ ہی پینٹنگ میں بہت طاقت اور مضبوطی نظر آتی ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں