’’پاکستان، اسرائیل کے ایران پر حملے سے متعلق صورت حال کا جائزہ لے رہا ہے‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان کے دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا ہے ’’کہ ایران کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی میڈیا رپورٹس اور خطے کی صورت حال کا جائزہ لے رہے ہیں۔‘‘

ہفتہ وار بریفنگ کے حوالے سے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا ’’کہ اسرائیل کی ایران کے خلاف جارحیت کی رپورٹس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔‘‘

ممتاز زہرہ بلوچ نے مزید کہا کہ ’پاکستان نے خطے میں کشیدگی میں اضافے کو روکنے اور غزہ میں جنگ بندی کے لیے بین الاقوامی کوششوں کی فوری ضرورت پر زور دیا ہے۔‘ ان کے مطابق ’اسرائیل نے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کرنے کے بجائے ڈھٹائی سے بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی جاری رکھی ہے۔‘

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ’یکم اپریل کو ایرانی قونصل خانے پر اسرائیل کے غیر ذمہ دارانہ اور لاپرواہ حملے سے پہلے سے ہی خطے میں عدم استحکام کی صورت حال ہے۔ ہم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے اپنے مطالبے کا اعادہ کرتے ہیں کہ اسرائیل کو خطے میں غلط مس ایڈوینچر سے روکا جائے۔‘

دفتر خارجہ کی ترجمان نے ایران کے صدر ابراہیم رئیسی کے پاکستان کے متوقع دورہ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ان کے استقبال کے منتظر ہیں، جلد ہی اس سے متعلق باضابطہ اعلان کریں گے۔‘

دوسری جانب اسرائیل کی جانب سے کیے گئے حملہ کے بعد ایرانی صدر کے پاکستان دورہ میں تبدیلی سے متعلق ایرانی سفارتی حلقے تاحال کوئی موقف دینے سے گریزاں دکھائی دیتے ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے حال ہی میں سعودی عرب کے وفد کے پاکستان دورے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’سعودی عرب کے وفد کا پاکستان کو دورہ بہت کامیاب رہا، سعودی عرب وفد کا دورہ وزیر اعظم کے دورہ سعودی عرب کے بعد ممکن ہوا۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب کی جانب سے پاکستان میں صعنت، آبی وسائل سمیت دیگر سیکٹر پر کام کرنے کا عزم دیکھا گیا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ دونوں ممالک کے وزارئے خارجہ نے غزہ میں سیز فائر پر اتفاق کیا، وزیر اعظم کی دورہ سعودی عرب میں شہزادہ محمد بن سلمان سے اہم ملاقات ہوئی۔

یاد رہے کہ اسرائیل کی جانب سے 13 اپریل کو شام میں ایرانی سفارت خانے پر حملے کے جواب میں ایران کی جانب سے اسرائیل پر ڈرون حملہ کرنے کے چند دن بعد آج (19 اپریل کو) اسرائیلی فوج نے دوبارہ کارروائی کرتے ہوئے ایران کے صوبے اصفہان پر میزائل داغ دیے، تاہم ایران نے اِن میزائل حملوں کی تردید کردی تھی جس کے بعد مشرقی وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ کا خطرہ مزید بڑھ گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں