پاکستان سے سالانہ 10 لاکھ ہنر مند نوجوان خلیجی ممالک بھیجنے کا منصوبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایک پاکستانی عہدیدار کے مطابق حکومت ایک نئی تعلیمی پالیسی پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کو تربیت یافتہ افرادی قوت برآمد کرنے کی غرض سے سالانہ 10 لاکھ نوجوانوں کو تکنیکی مہارتیں فراہم کرنا ہے۔

نقدی کی تنگی کا شکار اور 241 ملین کی آبادی کا حامل جنوبی ایشیائی ملک ایک جامع قومی تعلیمی پالیسی پر کام کر رہا ہے تاکہ 2.5 ملین سے زائد سکول نہ جانے والے بچوں کا اندراج کر کے نوجوانوں کی تکنیکی تربیت کا احاطہ کیا جا سکے۔

اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) وزیرِ اعظم شہباز شریف کی سربراہی میں ایک وفاقی ادارہ ہے جو غیر ملکی اور ملکی ذرائع سے سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ اس ادارے نے وزارتِ تعلیم کو تعلیم کے شعبے میں بہتری لانے کے لیے ایک جامع پالیسی کو حتمی شکل دینے کے لیے مخصوص اہداف دیئے ہیں۔

پاکستان کی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے ترجمان رانا مجتبیٰ نے عرب نیوز کو بتایا، "اس نئی پالیسی کا مقصد سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کو ہنر مند افرادی قوت برآمد کرنے کے لیے سالانہ کم از کم 10 لاکھ نوجوانوں کو پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرنا ہے۔"

نیز انہوں نے کہا، "یہ مئی میں شروع کیا جائے گا۔"

مختلف ممالک میں تقریباً 9 ملین پاکستانی تارکینِ وطن مقیم اور کام کر رہے ہیں جن میں سعودی عرب میں مقیم 2.8 ملین شامل ہیں۔ یہ ملک کی کمزور معیشت کو سہارا دینے کے لیے سالانہ تقریباً 30 بلین ڈالر وطن بھیجتے ہیں۔

مجتبیٰ نے کہا، "ہماری بیرونِ ملک مقیم افرادی قوت کی اکثریت غیر ہنر مند مزدوروں پر مشتمل ہے۔ اس لیے حکومت اب نوجوانوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بڑھانے پر توجہ دے رہی ہے۔"

قومی تعلیمی پالیسی 2017-2025 میں پاکستان کا مقصد 2025 تک اپنی شرح خواندگی کو موجودہ 60 فیصد سے بڑھا کر 90 فیصد کرنا، صنفی فرق کو کم کرنا، دیہی اور شہری عدم توازن کو کم کرنا، معیارِ تعلیم کو بہتر بنانا، مہارت کی ترقی کے پروگرامز کے ساتھ فنی اور پیشہ ورانہ تعلیم کو فروغ دینا اور اچھی حکمرانی کو یقینی بنانا ہے۔ لیکن یہ سب کچھ حاصل کرنا ابھی باقی ہے۔

مجتبیٰ نے کہا، پاکستان کے پیشہ ورانہ تربیتی اداروں کی سعودی عرب کے ساتھ پہلے سے ہی "مضبوط وابستگی" ہے جہاں تمام تربیتی سرٹیفکیٹ قبول کیے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا، "وزیرِ اعظم کے زیرِ سربراہی ایس آئی ایف سی نے وزارت کو ایک عمومی ہدایت دی ہے تاکہ اس شعبے کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے ایک نئی تعلیمی پالیسی پر کام کیا جائے۔"

ترجمان نے اس خیال کو مسترد کر دیا کہ وزارتِ تعلیم صوبائی حکومتوں کو ساتھ لیے بغیر نئی تعلیمی پالیسی پر کام کر رہی ہے کیونکہ جنوبی ایشیائی ملک میں بنیادی طور پر تعلیم صوبائی موضوع رہا ہے۔

انہوں نے کہا، "وفاقی حکومت درحقیقت تعلیم کے شعبے میں بہتری کے لیے صوبوں کی معاونت کر رہی ہے۔ تمام صوبائی وزراء اور شعبۂ تعلیم کے سیکرٹریز ہمارے ساتھ ہیں کیونکہ وفاقی وزارت نے ان سب سے معلومات طلب کی ہیں۔"

"یہ ایک جامع پالیسی ہوگی جو اسکول سے باہر بچوں کے مسئلے کو بھی حل کرے گی۔ یہ اعلیٰ تعلیم کے معیار کو بہتر اور طلباء کے لیے ملکی و غیر ملکی وظائف بھی فراہم کرے گی۔"

تعلیم اور عوامی پالیسی کے ماہرین نے کہا، حکومت نے تعلیم کے شعبے کو بہتر بنانے کے لیے پہلے ہی متعدد پالیسیاں وضع اور دستاویزات تیار کی ہیں لیکن ان منصوبوں پر عمل درآمد میں کوتاہی ہوتی ہے۔

ایک ماہرِ تعلیم تیمور بانڈے نے عرب نیوز کو بتایا، "نئی پالیسی میں امید افزا بات یہ ہے کہ حکومت پہلی بار اسکول سے باہر بچوں پر توجہ مرکوز کر رہی ہے لیکن اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے واضح اوقاتِ کار کے ساتھ ایک مؤثر طریقہ کار کی ضرورت ہے۔"

نیز انہوں نے کہا، "حکومت کو اساتذہ کی تربیت کے لیے اپنے وسائل مختص کرنے اور تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے اداروں میں کتب خانوں اور تجربہ گاہوں کو اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں