پاکستان کی خطہ پوٹھوہار کے قدرتی مناظر کی سیاحت کے لیے ’سفاری ٹورسٹ ٹرین‘ کی بحالی

ٹرین کا مقصد سیاحت کی بحالی اور مسافروں کو ریلوے کے قدیم ورثے سے آشنا کرنا ہے: سرکاری میڈیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سرکاری ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) نے ایک رپورٹ میں بتایا کہ پاکستان ریلوے نے اتوار کے روز "سفاری ٹورسٹ ٹرین" کے آپریشن کا آغاز کر دیا ہے جس کا مقصد خطہ پوٹھوہار کے قدرتی مناظر کی سیاحت اور ملک کے ریلوے کے شاندار ورثے کی دریافت کرنا ہے۔

سطح مرتفع پوٹھوہار پاکستان کے مشرقی صوبہ پنجاب کے شمال میں اور آزاد کشمیر کے مغرب میں واقع ہے۔ سطح مرتفع پوٹھوہار اٹک، جہلم، چکوال اور راولپنڈی کے اضلاع پر مشتمل ہے۔

اس ٹرین کو سب سے پہلے فروری 2021 میں اس وقت کے وزیر برائے ریلوے اعظم خان سواتی نے شروع کیا تھا لیکن نامعلوم وجوہات کی بنا پر اس کا آپریشن 2022 میں روک دیا گیا تھا۔

اے پی پی نے کہا، "پاکستان ریلوے نجی کمپنی پی کے-یونی کارن کے تعاون سے اپنی مشہور 'سفاری ٹورسٹ ٹرین' کی بحالی کے ساتھ سیاحت میں نئی روح پھونکنے کے لیے تیار ہے۔"

ٹرین کا آپریشن اسلام آباد کے تاریخی گولڑہ ریلوے اسٹیشن سے اتوار کی صبح 9 بجے شروع ہوا۔ اے پی پی نے بتایا، ٹرین حسن ابدال، اٹک اور اٹک خورد ریلوے اسٹیشنوں سے گذرے گی۔

پاکستان ریلویز نے پہلے کہا تھا، ٹورسٹ ٹرین کا مقصد سیاحت کو فروغ دینا اور سیاحت کے فروغ کی غرض سے مسافروں کو ریلوے کے قدیم ورثے سے آشنا کرنا ہے۔

ٹرین مارگلہ کی پہاڑیوں اور سنگجانی سرنگ کے ساتھ ساتھ چبلال پل، ہارو پل، غازی بروتھا اور اٹک خورد پلوں سے گذرے گی جو سیاحوں کو پوٹھوہار کے خوبصورت مناظر کا نظارہ پیش کرے گی۔

اے پی پی نے کہا، اکانومی کلاس کا کرایہ 2,000 روپے (7.20 ڈالر) سے لے کر ڈیلکس پیکج میں کھانے سمیت 4,500 روپے (16.20 ڈالر) تک ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں