ایرانی صدر ابراہیم ریئسی پاکستان کے تین روزہ دورے پر پہنچ گئے

دورے کے دوران ایرانی صدر پاکستان کے صدر آصف علی زرداری، وزیرِ اعظم شہباز شریف، چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی سمیت دیگر حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایران کے صدر ابراہیم رئیسی اپنے 50 رکنی وفد کے ہمراہ تین روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ گئے ہیں۔ وفاقی وزیر ریاض پیرزادہ نے ہوائی اڈے پر ان کا استقبال کیا۔

وزیر اعظم افس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف سے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر سید ابراہیم رئیسی( آج) پیر کو وزیر اعظم ہاؤس میں ملاقات کریں گے۔ ایران اور پاکستان کے درمیان وفود کی سطح پر بات چیت کا دور بھی ہو گا۔

وزیر اعظم ہاؤس پہنچنے پر ایرانی صدر کے اعزاز میں گارڈ آف آنر پیش کیا جائے گا، ایرانی صدر اور وزیر اعظم شہباز شریف وزیر اعظم ہاؤس کے سبزہ زار میں ارتھ ڈے کی مناسبت سے پودا لگائیں گے۔

دونوں رہنما ایران اور پاکستان کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کی مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کی تقریب میں شریک ہوں گے۔ دونوں رہنما اسلام آباد کی ایک شاہراہ کو ایران ایوینیو کا نام دینے کی تقریب میں بھی شریک ہوں گے۔ دونوں رہنما ایک ساتھ پریس ٹاک بھی کریں گے۔ وزیراعظم ایرانی صدر اور ان کے وفد کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیں گے۔

وزیراعظم پاکستان کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق ’وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر عزت مآب ابراہیم رئیسی آج وزیر اعظم ہاؤس میں ملاقات کریں گے۔‘

اس سے قبل مارچ 2016 میں ایرانی صدر حسن روحانی نے پاکستان کا دو روزہ دورہ کیا تھا اور اب آٹھ برسوں بعد ایران کے صدر کا دورہ پاکستان ہو رہا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے جاری بیان میں بتایا تھا کہ آٹھ فروری کے عام انتخابات کے بعد کسی بھی سربراہ مملکت کا پاکستان کا یہ پہلا دورہ ہو گا۔

اس سے قبل ممتاز زہرا بلوچ نے ایرانی صدر کے دورے کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا تھا کہ ’ایرانی وفد میں وزیر خارجہ اور کابینہ کے دیگر ارکان، اعلیٰ حکام کے علاوہ ایک بڑا تجارتی وفد بھی شامل ہو گا۔

’دورے کے دوران صدر رئیسی صدر اور وزیراعظم پاکستان سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔ ایرانی صدر چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی سے بھی ملاقات کریں گے۔‘

دفتر خارجہ بیان کے مطابق ’ایرانی صدر لاہور اور کراچی کا بھی دورہ کریں گے اور صوبائی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔ ملاقاتوں میں پاک ایران تعلقات کو مزید مضبوط بنانے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

’پاکستان اور ایران کے درمیان تاریخ، ثقافت اور مذہب میں جڑے مضبوط دوطرفہ تعلقات ہیں۔ ایرانی صدر کا دورہ دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کا ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے۔‘

دفتر خارجہ کے بیان میں بتایا گیا کہ ’عوام سے عوام کے رابطوں سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو بڑھانے کا وسیع ایجنڈا شامل ہیں۔

’علاقائی اور عالمی پیش رفت اور دہشت گردی کے مشترکہ خطرے سے نمٹنے کے لیے دوطرفہ تعاون پر بھی بات چیت ہو گی۔‘ اس کے علاوہ ’دو طرفہ ملاقاتوں میں تجارت، رابطے، توانائی، زراعت سے متعلقہ امور پر بات چیت کی جائے گی۔‘

پاکستان میں رواں سال فروری میں الیکشن کے بعد بننے والی حکومت کے بعد یہ کسی بھی غیر ملکی سربراہ کا پہلا دورہ ہے۔

پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدی معاملات پر عموماً نوک جھوک ہوتی ہے اور دونوں ملکوں ایک دوسرے پر عسکریت پسندوں کے خاتمے کے لیے کام نہ کرنے کے الزامات عائد کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں