الیکٹرانک پرزوں کو فیشن ایبل زیورات ڈھالنے والا پاکستانی نوجوان

سمیر آصف نے 2023 میں ایک ہم جماعت کے ساتھ شراکت داری سے ’وائرڈ ونڈرز‘ کی ابتدا کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

کمپیوٹر کے ضائع شدہ پرزہ جات اور ٹوٹی ہوئی الیکٹرانک اشیاء سے بھرے کمرے میں 21 سالہ سمیر آصف لائٹ کی روشنی میں کام میں مصروف ہیں۔ وہ باریک بینی سے کمپیوٹر کے ایک پرانے مدر بورڈ سے دل کی شکل کا لاکٹ بنا رہے ہیں۔

ان کا کام ایک شوق سے زیادہ ہے۔ یہ ان کے کاروباری خواب "وائرڈ ونڈرز" کا اصل جُز ہے جو 2023 میں بجلی کے پرزوں کو پہننے کے قابل آرٹ میں تبدیل کرنے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔

الیکٹرانک کی بے کار اشیاء سے تیار کردہ زیورات پائیدار فیشن کے عالمی رجحان کے مطابق ہوتے ہیں اور نوجوان آبادی کو پسند آتے ہیں جو جدت، انفرادیت اور اخلاقی طرزِ زندگی کے انتخاب کو اہمیت دیتا ہے۔

اپنی مخصوص مارکیٹ کی کشش کے باوجود زیورات کی یہ شکل ایسے مواد کو دوبارہ کارآمد بنانے میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کی عکاسی کرتی ہے جو بصورتِ دیگر کوڑے کے ڈھیروں کا حصہ بن جائیں گے۔ اور یہ الیکٹرانک پرزوں کے چیلنج کا ایک تخلیقی حل پیش کرتی ہے۔

تاہم آصف کے لیے یہ سارا معاملہ حادثاتی طور پر شروع ہوا۔

انہوں نے اس ہفتے عرب نیوز سے گفتگو میں کہا، "میں ہمیشہ بچپن میں فنون اور دستکاری کا شوق رکھتا تھا۔ مجھے دستی اشیاء دینا پسند تھا اور میں نے مدر بورڈ سے جو پہلا ہار بنایا، وہ بھی میری دوست کے لیے تحفہ تھا۔"

انہوں نے بات جاری رکھی، "وہ اسے یونیورسٹی میں پہنتی تھیں اور لوگوں نے اُن سے اس کے بارے میں پوچھنا شروع کر دیا تھا۔ تب ہم نے سوچا یہ واقعی ایک کاروبار بن سکتا ہے کیونکہ لوگ اس میں دلچسپی رکھتے ہیں۔"

آصف نے کہا کہ وہ بچپن سے ہی الیکٹرانکس کے دلدادہ تھے اور اپنی چیزوں کو جدید ترین آلات کو کھول کر پرزے الگ کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے یہ سمجھنے کے لیے کہ وہ کیسے کام کرتے تھے۔

انہوں نے یاد کیا، "جب میں تقریباً پانچ چھے سال کا تھا تو سالگرہ پر کسی نے مجھے مکینیکل چیزوں کا ایک کھلونا سیٹ تحفے میں دیا۔ اس میں بل دار نٹ اور کیل تھے اور یہ ایک سکریو ڈرائیور ساتھ تھا۔ میں نے یہ سکریو ڈرائیور بھائی کا پلے سٹیشن 2 کھولنے کے لیے استعمال کیا جو اسے واقعی پسند تھا۔"

انہوں نے ایک مسکراہٹ کے ساتھ یاد کرتے ہوئے کہا، "میں نے اسے کھول تو دیا لیکن دوبارہ جوڑ نہیں سکا۔" اور مزید کہا کہ ان کے بھائی اور والدین اس بات پر ناراض ہوئے۔

آصف نے اپنی دوست ماہم عثمان کے ساتھ وائرڈ ونڈرز کا آغاز کرنے کے لیے شراکت داری کی اور ان سے سوشل میڈیا، سیلز اور مارکیٹنگ کا انتظام کرنے کو کہا۔

ایک چھوٹے مخصوص کاروبار کو فروغ دینے کے چیلنجز کے بارے میں سوال پر ماہم عثمان نے کہا کہ سب سے بڑا مسئلہ ضائع شدہ مدر بورڈز کا حصول تھا جو بآسانی دستیاب نہیں تھے۔

ماہم نے کہا، "راولپنڈی میں ایک دو بیکار اشیاء کی دکانیں ہیں جہاں وہ بڑی تعداد میں ضائع شدہ الیکٹرانکس فروخت کرتے ہیں۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے ہم نے ایک ری سائیکلنگ اقدام شروع کیا ہے جہاں ہم لوگوں سے وہ الیکٹرانک آلات عطیہ کرنے کو کہتے ہیں جو وہ مزید استعمال نہیں کرنا چاہتے۔ اس سے نہ صرف ہمیں کاروبار میں مدد ملے گی بلکہ ماحول کے لیے بھی اچھا ہو گا۔"

زیورات کا ایک حصہ بنانے میں تقریباً دو گھنٹے لگ سکتے ہیں۔ اس عمل میں مدر بورڈ کے ٹکڑے کاٹنا اور ان کو شکلوں میں ڈھالنا، تیز کناروں کو ہموار کرنا اور پھر چمک اور تحفظ کے لیے اس پر شفاف اور چپکنے والی گوند کی تہہ لگانا شامل ہے۔ اس کے بعد اسے 24 گھنٹے تک خشک ہونے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔

مصنوعات کی قیمتوں کے بارے میں سوال پر وائرڈ ونڈرز کی ٹیم نے بتایا کہ وہ 1.40 سے 7 ڈالر کے درمیان ہیں۔

ماہم عثمان نے کہا، "مدر بورڈز میں لگا ہوا سونا اور تانبا ہمارے زیورات کی منفرد قدر بڑھاتا ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں