غزہ میں امن کے بغیر دنیا میں امن قائم نہیں ہو سکتا: وزیراعظم شہباز شریف

پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی جیسے بڑے چیلنج کا سامنا ہے؛ عالمی اقتصادی فورم کے خصوصی اجلاس کے اختتامی سیشن سے خطاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ فلسطین میں قیام امن بہت ضروری ہے، غزہ میں امن کے بغیر دنیا میں امن قائم نہیں ہو سکتا، پاکستان معیشت کی بہتری کے لیے بنیادی اصلاحات کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے، ہمیں موسمیاتی تبدیلی جیسے بڑے چیلنج کا سامنا ہے، عالمی منڈی میں مہنگائی کی وجہ سے ترقی پذیر ممالک متاثر ہوئے ہیں، کروڑوں کی نوجوان آبادی ہمارا قیمتی اثاثہ ہے، جدید ٹیکنالوجی اور فنی تربیت کی فراہمی کے ذریعے ہم انہیں اپنا روزگار شروع کرنے کے قابل بنا سکتے ہیں۔

ان خیالات کا اظہارانہوں نے پیر کو عالمی اقتصادی فورم کے خصوصی اجلاس کی اختتامی پلینری سیشن - بعنوان ’پیداوار کی بحالی‘ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ غزہ میں امن کے بغیر دنیا میں امن قائم نہیں ہو سکتا، فلسطین میں قیام امن بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین جنگ کی وجہ سے عالمی سطح پر اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، عالمی منڈی میں مہنگائی کی وجہ سے ترقی پذیر ممالک متاثر ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی جیسے چیلنج کا سامنا ہے، موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پاکستان شدید متاثر ہوا ہے، موسمیاتی تبدیلیوں میں پاکستان کا کوئی کردار نہیں ہے، موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے 2022 میں پاکستان میں سیلاب آیا اور پاکستان کی معیشت کو شدید نقصان پہنچا، پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہونے والے ممالک میں سرفہرست ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں اپنے پائوں پر کھڑا ہونا ہے، مشکلات ہیں لیکن ناممکن کچھ نہیں ہے، ہم بنیادی ڈھانچہ جاتی اصلاحات متعارف کرانے کے خواہاں ہیں، ملک میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کر رہے ہیں، ہمیں اپنی معاشی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے کفایت شعاری کی طرف جانا ہو گا، سعودی عرب سمیت دوست ممالک نے پاکستان کی بھرپور مدد کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس نوجوان آبادی کا ایک بڑا اثاثہ موجود ہے، کروڑوں کی تعداد میں یہ نوجوان ہمارے پاس ایک بڑا موقع ہیں جنہیں ہم جدید ٹیکنالوجی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل ٹیکنالوجی اور فنی تربیت فراہم کرکے اپنا روزگار شروع کرنے کے قابل بنا سکتے ہیں تاکہ وہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو فروغ دے سکیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ہم اپنی زراعت کو ترقی دے سکتے ہیں، کسانوں کو معیاری بیج اور کھاد کی فراہمی کے ذریعے پیداوار میں اضافہ کر سکتے ہیں، ہمیں اپنی برآمدات میں اضافہ کرنا ہے، اس کے لیے برآمد کنندگان کو سہولیات اور مواقع فراہم کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس گیس کے ذخائر موجود ہیں لیکن ان میں کمی آ رہی ہے، قدرتی وسائل ہمارا بہت بڑا اثاثہ ہیں، پاکستان کے پاس قیمتی معدنیات اور زرخیز زمین موجود ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں