سعودی عرب کا اعلیٰ سطح کا وفد اسلام آباد پہنچ گیا

پاکستان اور سعودی عرب کی دو روزہ سرمایہ کاری کانفرنس پیر سے اسلام آباد میں شروع ہو گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کا ایک اعلیٰ اختیاراتی تجارتی وفد آج (اتوار) اسلام آباد پہنچا جس کا مقصد پاکستان میں معیشت کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کرنا ہے۔ مہمان وفد کی قیادت سعودی عرب کے نائب وزیر سرمایہ کاری ابراہیم المبارک کر رہے ہیں

ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیر پٹرولیم مصدق ملک اور وزیر تجارت جام کمال خان نے اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر وفد کا استقبال کیا۔ زراعت، ٹیکنالوجی، ری ٹیل اور کارپوریٹ شعبوں کی تیس سے زائد سعودی کمپنیوں کے سربراہان وفد میں شامل ہیں۔

پاکستان کی وزارت کامرس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق تین روزہ سعودی دورہ کا مقصد پاکستان میں کاروبار کے مختلف مواقع پر دونوں ممالک کے سرمایہ کاروں کی آپس میں ایک دوسرے سے تجارتی تعلقات کو مزید فروغ دینا ہے۔

دورے کے دوران پاکستانی وفاقی وزیر کے مطابق سعودی عرب کے انفارمیشن ٹیکنالوجی، میرین، کان کنی، تیل اور گیس، ادویات سازی اور ایوی ایشن کی بڑی کمپنیوں کے 30 سے زائد سربراہان اس وفد کا حصہ ہیں۔

اس حوالے سے پاکستان کے وفاقی وزیر توانائی نے گذشتہ روز بتایا تھا کہ سعودی وفد کی پاکستان میں موجودگی کے دوران 10 ارب ڈالر تک کی سرمایہ کاری کے معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پردستخط ہونے کا امکان ہے۔

’اس کے علاوہ فنانس، زراعت، ٹیلی کمیونیکیشن، تعمیرات، لاجسٹک سروسز، پراپرٹی ڈیویلپرز، ریٹیلرز اور دیگر کمپنیوں کے سربراہان بھی وفد کا حصہ ہوں گے۔‘

اس دورے سے پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافے کی توقع ہے اور پاک سعودی اقتصادی تعلقات کے نئے دور کا آغاز ہو گا جن کا تصور وزیراعظم نے سعودی عرب کے حالیہ دورے کے موقع پر پیش کیا تھا۔

سعودی وفد ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی ہدایت پر پاکستان کا دورہ کر رہا ہے۔

پاکستان ۔ سعودی عرب سرمایہ کاری کانفرنس

ادھر دو طرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کیلئے دو روزہ پاکستان سعودی عرب سرمایہ کاری کانفرنس کل اسلام آباد میں شروع ہو رہی ہے۔

سعودی عرب کا پچاس رکنی اعلیٰ سطح کا کاروباری وفد بھی پاکستان کا دورہ کر رہا ہے جس کا مقصد مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنا اور مقامی کاروباری شخصیات سے مضبوط روابط استوار کرنا ہے۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی، ٹیلی کام، توانائی، ہوا بازی، تعمیرات، کان کنی، زراعت اور انسانی وسائل کی ترقی سمیت مختلف معاشی شعبوں کی تیس کمپنیاں بھی وفد کا حصہ ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں