’سیلف ڈرائیونگ‘ کار کی ایجاد، نوجوان پاکستانی موجد کے بڑے خواب

کمپیوٹر کی بورڈ کی مدد سے گھر کی گاڑی چلانے والا بیس سالہ نوجوان ٹیسلا جیسی آٹوموبائل کمپنی قائم کرنے کا خواہشمند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

فلوروسینٹ روشنی کی تیز چمک کے نیچے 20 سالہ احسان ظفر عباسی ایک فرسودہ پرنٹر کے اجزاء کی جانچ کرنے میں مصروف ہیں جو انہوں نے ابھی الگ الگ کیے ہیں۔ پاکستان کے ضلع ایبٹ آباد کے دور افتادہ گاؤں باغ سے تعلق رکھنے والے پری انجینئرنگ کے طالب علم الیکٹرانکس کو الگ کرنے کے شوق کے لیے مشہور ہیں جو اکثر اختراعی لیکن بعض اوقات ناکام مرمت کا باعث بنتا ہے۔

عباسی نے حال ہی میں نقالی کر کے اپنے گھر کی گاڑی کو ازخود چلنے والی گاڑی بنا کر اپنے ہمسایوں کی توجہ حاصل کی۔ ڈرائیور کی خالی سیٹ اور سر رکھنے والے حصے کے بغیر ایک گاڑی کو دیکھ کر دیکھنے والے سحر زدہ ہو گئے جو بظاہر خود ہی چلتی جا رہی تھی۔

اس ہفتے کے شروع میں عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے نوجوان طالب علم نے کہا کہ انہوں نے بچپن میں ویڈیو گیمز کھیلتے ہوئے سب سے پہلے کی بورڈ کے ذریعے کار چلانے کا سوچا۔

احسان ظفر عباسی یکم اپریل 2024 کو ایبٹ آباد، پاکستان میں کمپیوٹر کی بورڈ کا استعمال کرتے ہوئے اپنی گاڑی چلا رہے ہیں۔ (اے این فوٹو)
احسان ظفر عباسی یکم اپریل 2024 کو ایبٹ آباد، پاکستان میں کمپیوٹر کی بورڈ کا استعمال کرتے ہوئے اپنی گاڑی چلا رہے ہیں۔ (اے این فوٹو)

انہوں نے یاد کیا، "اس وقت بجلی شاید ہی کبھی دستیاب ہوتی تھی۔ اس لیے جب بھی ہمیں بجلی ملتی تو یہ ایک اور طرح کی خوشی ہوتی تھی۔ ہم فوراً کمپیوٹر کے سامنے بیٹھ جاتے اور سی ڈیز پر وہ گیمز کھیلتے مثلاً جی ٹی اے: وائس سٹی یا نیڈ فار سپیڈ۔

انہوں نے بات جاری رکھی، "اس لیے میں وہ گیمز کھیلنے کے بعد یہ محسوس کر کے متأثر ہو گیا کہ اگر کسی گیم میں کی بورڈ کے ذریعے گاڑی چلائی جا سکتی تھی تو یہ حقیقی زندگی میں بھی ممکن تھا۔"

گاؤں میں انٹرنیٹ کی محدود رسائی کے ساتھ عباسی نے اپنے گھر کی سیڑھیوں کے نیچے ایک چھوٹے سے کمرے میں تجربات کرکے الیکٹرانکس اور مکینیکل اشیاء کے کام کو سمجھا۔

انہوں نے کہا، "میں نے ایک لیب بنائی ہے جہاں میں اپنے تجربات کرتا ہوں۔ میرے بھائی اور چچا میرے عزائم کی حمایت کرتے ہیں۔ وہ میرے لیے سیکنڈ ہینڈ مارکیٹ سے بیکار الیکٹرانکس لاتے ہیں۔ میں نے الیکٹرانکس کی کئی اشیاء مثلاً موبائل فون، ٹیبلٹ، پرنٹرز، سکینر، کمپیوٹر، پروجیکٹر، جوسر مشینیں اور دیگر چیزیں کھول کر الگ الگ کی ہیں۔"

احسان ظفر عباسی یکم اپریل 2024 کو ایبٹ آباد، پاکستان میں کمپیوٹر کی بورڈ کا استعمال کرتے ہوئے اپنی گاڑی چلا رہے ہیں۔ (اے این فوٹو)
احسان ظفر عباسی یکم اپریل 2024 کو ایبٹ آباد، پاکستان میں کمپیوٹر کی بورڈ کا استعمال کرتے ہوئے اپنی گاڑی چلا رہے ہیں۔ (اے این فوٹو)

اپنے نئے منصوبے کو مکمل کرنے میں سات ماہ سے زیادہ وقت صرف کرنے کے بعد عباسی نے کہا کہ وہ اس میں مزید خصوصیات شامل کرکے گاڑی کو مزید بہتر کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا، "میں کار میں سینسرز اور جدید ٹیکنالوجی شامل کرنا چاہتا ہوں تاکہ معذور افراد بھی اپنی (گاڑی چلانے کی) خواہش پوری کر سکیں اور خود مختار بن جائیں۔"

البتہ کی بورڈ سے چلنے والی گاڑی ان کی واحد ایجاد نہیں ہے۔

انہوں نے کہا، "ایک سال پہلے میں نے گاڑیوں کے لیے ایک اور آلہ بنایا جس میں سیل فون ٹیکنالوجی مربوط کی گئی تھی۔ اس میں ایک سم تھی۔ اگر کسی نے آپ کی کار چوری کرنے کا ارادہ کیا تو آپ بآسانی [انسٹال کردہ] آؒلے پر کال کر سکتے ہیں اور آپ کی گاڑی کام کرنا بند کر دے گی۔"

انہوں نے وضاحت کی، گاڑی کے بریکوں کو سیل فون استعمال کرکے فعال کیا جاسکتا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ انسٹال کردہ ڈیوائس نے گاڑی چوروں کے درمیان ہونے والی کسی بھی گفتگو کو حقیقی وقت میں نشر کر دیا۔"

مستقبل کے عزائم کے بارے میں سوال پر عباسی نے کہا، وہ پاکستان میں ٹیسلا جیسی ملٹی نیشنل آٹو موٹیو کمپنی بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے امریکہ میں میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی جیسی اعلیٰ ترین یونیورسٹی میں جانے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔

انہوں نے بات جاری رکھی، "ظاہر ہے میں اس کا متحمل نہیں ہوں اور نہ ہی میرے پاس انگریزی زبان کی مناسب مہارت ہے۔ میں نے ناکافی ساز و سامان والے سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کی جہاں ہمارے پاس بجلی، انٹرنیٹ اور دیگر جدید سہولیات نہیں تھیں۔ ہم سکول جانے کے لیے دو گھنٹے پیدل چلتے تھے اور واپسی پر بھی دو گھنٹے۔"

جب وہ گھر تھکے ہوئے گھر واپس پہنچتے تو عموماً پتہ چلتا تھا، بجلی نہیں ہے۔

انہوں نے اپنی آنکھوں میں گہری تڑپ کے ساتھ کہا، "میں جس طرح سے پڑھنا چاہتا تھا، اس طرح نہیں پڑھ سکا۔ میں پاکستانی حکومت، وزیرِ اعظم اور صدر سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ معیاری اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے میں میری اعانت کریں تاکہ میں اپنے ملک کے وقار میں اضافہ کر سکوں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں