پاکستانی سٹارٹ اپس کی طرف سے حج کارڈ متعارف، عازمینِ حج کو اب نقدی کی ضرورت نہیں

کم چارجز اور کم از کم بین الاقوامی ٹیکس کے ساتھ بلا تعطل لین دین، جدید کارڈ کا افتتاح 15 مئی کو ہو گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

مائی ٹی ایم کے ایک سینئر اہلکار نے پیر کو بتایا کہ پاکستانی سٹارٹ اپس مائی ٹی ایم اور زندگی نے جے ایس بینک اور ماسٹر کارڈ کی شراکت کے ساتھ سُلِس حج کارڈ کی نقاب کشائی کی۔ سلس کارڈ ایک ایسا "انقلابی" مالیاتی پروڈکٹ ہے جو حجاجِ کرام کو ان کے روحانی سفر کے دوران بغیر نقدی مالیاتی تجربہ فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

سعودی مملکت میں کام کرنے والا پاکستان میں قائم ایک سٹارٹ اپ مائی ٹی ایم ادائیگی اور مالیات کی ڈیجیٹل خدمات پیش کرتا ہے جبکہ زندگی پاکستان کے اولین مکمل ڈیجیٹل بینکوں میں سے ایک ہے جو اپنے صارفین کو ذاتی اور انفرادی نوعیت کی بے مثال مالی معاونت کی پیشکش کرتا ہے۔

روایتی طور پر سفرِ حج میں ویزا فیس سے لے کر رہائش اور نقل و حمل تک متعدد مالی لین دین شامل ہوتے ہیں۔ سلس حج کارڈ یہ تصور پیش کرتا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر حجاج کو نقدی لے جانے کی ضرورت کے بغیر مالی معاملات کا انتظام کرنے کے قابل بنایا جائے۔

مائی ٹی ایم سعودی عرب کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جواد محمود نے اسلام آباد میں سلس حج کارڈ کے اجراء کے موقع پر عرب نیوز کو بتایا، "یہ اقدام پاکستان میں پہلی بار نقدی کے بغیر پہلے مرحلے میں حج اور بعد میں عمرہ ادائیکی کو ممکن بناتا ہے۔ یہ کارڈ کم کردہ چارجز اور تقریباً ٹیکس کے بغیر مالی معاملات میں آسانی فراہم کرتا ہے جبکہ بصورتِ دیگر تمام روایتی کارڈز پر بین الاقوامی لین دین کے دوران یہ ٹیکس نافذ ہوتے ہیں۔"

: پاکستانی سٹارٹ اپ مائی ٹی ایم، جے ایس بینک، زندگی اور ماسٹر کارڈ کے عہدیداروں نے 6 مئی 2024 کو اسلام آباد، پاکستان میں سلس حج کارڈ کا آغاز کیا جو حجاج کرام کو سالانہ حج کے دوران نقدی کے بغیر مالیاتی تجربہ فراہم کرتا ہے۔ (اے این فوٹو)
: پاکستانی سٹارٹ اپ مائی ٹی ایم، جے ایس بینک، زندگی اور ماسٹر کارڈ کے عہدیداروں نے 6 مئی 2024 کو اسلام آباد، پاکستان میں سلس حج کارڈ کا آغاز کیا جو حجاج کرام کو سالانہ حج کے دوران نقدی کے بغیر مالیاتی تجربہ فراہم کرتا ہے۔ (اے این فوٹو)

انہوں نے کہا، اس کارڈ کے ذریعے مائی ٹی ایم، جے ایس بینک، زندگی اور ماسٹر کارڈ عازمین کو مناسب شرحِ مبادلہ، بآسانی رقم نکالنے اور سعودی عرب اور دنیا کے دیگر حصوں میں وسیع پیمانے پر قبولیت فراہم کرنے کے لیے شراکت و تعاون کر رہے ہیں۔

حج اسلام کے پانچ ستونوں میں سے ایک ہے اور ہر بالغ مسلم مرد و عورت سے تقاضہ کرتا ہے کہ وہ اپنی زندگی میں کم از کم ایک بار مکہ مکرمہ کے مقدس مقامات کا سفر کرے اگر وہ مالی اور جسمانی طور پر اس کے قابل ہو۔

پاکستان میں اس سال 179,210 عازمین کا حج کوٹہ ہے۔ پاکستانی وزارتِ مذہبی امور کے مطابق ان میں سے 63,805 عازمین سرکاری سکیم کے تحت حج ادا کریں گے جبکہ باقی کو نجی ٹور آپریٹرز کے ذریعے یہ سہولت ملے گی۔

مائی ٹی ایم سعودی عرب کے عہدیدار کے مطابق حج کارڈ کا عوام کے لیے 15 مئی کو افتتاح کیا جائے گا جس کی درخواستیں سلس ایپ کے ذریعے وصول کی جائیں گی۔ یہ جدید اور اختراعی مالیاتی پروڈکٹ پاکستان کی مالیاتی شمولیت کی قومی پالیسی اور سعودی عرب کے وژن 2030 میں آگے بڑھنے کی ایک بہترین مثال ہے کیونکہ دونوں حکومتیں اس وقت ڈیجیٹل معیشت پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔

محمود نے کہا، "فی الوقت وہاں جانے والے کئی لوگوں کو بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بعض اوقات انہیں کرنسی کے تبادلے کا مسئلہ ہوتا ہے، کبھی بلند شرحِ مبادلہ ملتی ہے اور کبھی وہ اپنے پیسے کھو دیتے ہیں۔" نیز انہوں نے کہا، اس اقدام سے نہ صرف سہولت میں بلکہ حج اور عمرہ کرنے والے زائرین کے مالی تحفظ میں بھی اضافہ ہو گا۔

پاکستان کی وزارتِ خارجہ میں شرقِ اوسط کے لیے ایڈیشنل سیکریٹری رضوان سعید قریشی نے حج کارڈ کو پاکستان کے فن ٹیک شعبے کے لیے "نیک شگون" قرار دیا۔

انہوں نے عرب نیوز کو بتایا، "ہماری سمجھ کے مطابق یہ پہلا پائلٹ ہے جو پہلے نقدی کے بغیر حج سے شروع ہو گا اور یقیناً اس کے بعد یہ عمرہ زائرین کو بھی سہولت فراہم کرے گا۔"

نیز انہوں نے کہا، "امید ہے کہ یہ ایک پائلٹ کے طور پر کامیاب ہو گا اور پھر نفاذ، اطلاق اور پورے حج آپریشن تک کوریج کے لحاظ سے توسیع کرے گا۔"

اس سال حجِ بیت اللہ 14 جون سے 19 جون تک جاری رہنے کی امید ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں