بلوچستان: نامعلوم افراد کی فائرنگ سے پنجاب سے تعلق رکھنے والے سات افراد قتل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر کے علاقے سربندر میں نامعلوم افراد نے ایک حجام کی دکان کے سات ملازمین کو قتل کر دیا۔ پولیس کے مطابق مرنے والے تمام افراد کا تعلق صوبہ پنجاب سے ہے۔

گوادر پولیس کے مطابق فش ہاربر کے قریب سربندر تھانے کی حدود میں رات تین بجے کے قریب ایک رہائشی کوارٹر پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں سات افراد جان سے گئے جبکہ ایک شخص زخمی ہے۔

فائرنگ کے واقعے کی جگہ گوادر شہر سے 25 کلومیٹر دور واقع ہے۔

وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے گوارد میں دہشت گردی کے واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے سات افراد کے قتل پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے، انہوں نے مقتولین کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ سوگوار خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں، دکھ کی گھڑی میں غمزدہ خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں، معصوم لوگوں کی جانوں سے کھیلنے والے درندے انسان کہلانے کے حقدار نہیں، دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے کے لیے پر عزم ہیں۔


اسی طرح وزیر اعلٰی بلوچستان سرفراز بگٹی نے بھی اس واقعے پر اپنے افسوس کا اظہار کیا، ان کا کہنا ہے کہ گوادر میں بے گناہ مزدوروں کا قتل کھلی دہشت گردی ہے، دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کا پیچھا کریں گے، ریاستی رٹ ہرصورت برقراررکھی جائے گی، پاکستانیوں کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لیں گے اور شہداء کے اہل خانہ کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔


وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیاء لانگو نے گوادر کے علاقے سربندر میں بے گناہ مزدوروں کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی، صوبائی وزیر داخلہ نے کہا کہ معصوم مزدوروں کا قتل کھلی دہشت گردی ہے نہتے معصوم مزدوروں کا قتل بزدلانہ اقدام ہے، دہشت گردوں سے سختی سے نمٹیں گے، واقعہ کا تمام پہلوؤں سے جائزہ لے رہے ہیں، ملوث دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل 13 اپریل کو بلوچستان کے ضلع نوشکی میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے پنجاب سے تعلق رکھنے والے 9 افراد سمیت 11 افراد جان سے گئے تھے جبکہ اس دوران پانچ افراد زخمی ہوگئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں