پاکستان میں 12 کاسمیٹک کمپنیوں کو’گرین واشنگ‘اور گمراہ کن مارکیٹنگ کرنے پر نوٹسز جاری

کمپنیوں کے مصنوعات کے نامیاتی اور کیمیکل سے پاک ہونے کے جھوٹے دعوے، مسابقتی کمیشن پاکستان کی صارفین کو ہوشیار رہنے کی ہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مسابقتی کمیشن پاکستان (سی سی پی) نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ اس نے 12 کاسمیٹکس کمپنیوں کو "گرین واشنگ" میں ملوث ہونے اور "گمراہ کُن مارکیٹنگ مہم" چلانے پر نوٹسز بھیجے۔ ان کمپنیوں نے اپنی مصنوعات کے نامیاتی اور کسی بھی کیمیکل سے پاک ہونے کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا۔

سی سی پی ایک ریگولیٹری ایجنسی ہے جس کا بنیادی اختیار اور ذمہ داری مارکیٹ کے تمام فروخت کنندگان کے لیے مساوی مقابلے کو یقینی بنانا اور صارفین کو مسابقت کے خلاف طرزِ عمل، استحصالی روئیے اور قیمتوں کے تعین سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔

سی سی پی کے بیان میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی کہ مسابقتی ایکٹ 2010 کا سیکشن 10 گمراہ کن مارکیٹنگ کے طریقوں پر پابندی لگاتا ہے اور تشہیری مواصلت میں "درستگی، دیانتداری، اعتباریت اور سچائی" پر زور دیتا ہے تاکہ صارفین کو خریداری کے باخبر فیصلے کرنے میں مدد مل سکے۔

سی سی پی نے کہا، "پاکستان کے مسابقتی کمیشن نے حسن افروزی کی مصنوعات کے تیارکنندگان کی جانب سے دھوکہ دہی پر مبنی مارکیٹنگ کا نوٹس لیا ہے اور 12 کمپنیوں کو ان کے جھوٹے اور گمراہ کن دعووں کے حوالے سے نوٹس جاری کیے ہیں۔"

نیز بیان میں کہا گیا، "سی سی پی کی ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ ادارے اور تیارکنندگان بادی النظر میں 'گرین واشنگ' میں مصروف تھے جو اپنی مصنوعات کے 'قدرتی، نامیاتی، پائیدار، خالص اور کیمیکل سے پاک' ہونے کی تشہیر کر رہے تھے جبکہ ان کے دعووں کی حمایت کے لیے کوئی سائنسی ثبوت موجود نہ تھے۔ ایسے غیر مصدقہ تشہیری دعوے نہ صرف صارفین کو گمراہ کرتے ہیں بلکہ صحت کے لیے ممکنہ خطرات کا باعث بھی بنتے ہیں۔"

بیان میں مزید کہا گیا کہ ادارے کے عہدیداروں کے جاری کردہ نوٹس بالآخر تشہیر کے ذمہ دارانہ طریقوں کا باعث بن سکتے ہیں جن میں ماحولیاتی سالمیت اور صارفین کے اعتماد کو ترجیح دی جائے۔

بیان میں صارفین سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ ہوشیار رہیں اور جھوٹے اشتہاری دعووں کے ساتھ ساتھ ان کے نتیجے میں ہونے والے صحت کے کسی بھی خطرات کی اطلاع دیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں