"عدالتی امور میں مداخلت مسترد، معاملہ قومی سلامتی کا ہے اسے بڑھایا نہ جائے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے ایک ٹی وی بیان میں کہا ہے کہ حکومت یا کوئی ریاستی ادارہ عدلیہ کے معاملات میں مداخلت کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ انھوں نے کہا کہ آج کل یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ حکومت اور عدلیہ کے درمیان تعلقات خراب ہیں اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے معاملات میں مداخلت ہو رہی ہے۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ کوئی بھی سکیورٹی افسر براہ راست نہ کسی جج سے رابطہ کرسکتا ہے اور نہ ہی ایسا کوئی واقعہ رپورٹ ہوا ہے۔

اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے کہا کہ ریاستوں کے کچھ معاملات حساس ہوتے ہیں اور گزشتہ 45 سال سے پاکستان کو جن سکیورٹی مسائل کا سامنا ہے اس میں آپ میں مل بیٹھ کر بات کی جاتی ہے اور اسی تناظر میں یہ درخواست کی گئی تھی کہ دفاعی معاملات میں نگرانی (سرویلینس ) سے متعلق جو بھی بریفنگ ہے وہ ایک ان کیمرہ کی جائے تاکہ یہ معاملات پبلک میں نہ جائیں کہ ہماری سکیورٹی ایجنسیز کے پاس کیا صلاحیتیں موجود ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک جج کے خط کا متن سوشل میڈیا پر بھی آیا ہے ، یہ ضروری ہے کہ اس کی رپورٹنگ کے وقت اس خط کے متن پر غور کر لیا جائے۔

واضح رہے کہ جسٹس بابر ستار سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی اور ان کے وکیل سردار لطیف کھوسہ کے درمیان ہونے والی گفتگو کو لیک کیے جانے اور سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے کی آڈیو لیک ہونے کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کرر ہے ہیں اور اس حوالے سے انھوں نے متعلقہ اداروں سے جواب بھی طلب کر رکھا ہے۔

دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس بابر ستار نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کو خط لکھا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک اہلکار کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو لکھے گئے خط میں جسٹس بابر ستار نے کہا ہے کہ انھیں آڈیو لیکس کیس میں پیغام دیا گیا کہ وہ اس کیس کی سماعت سے پیچھے ہٹ جائیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے اہلکار کے مطابق اس خط میں جسٹس بابر ستار نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ انھیں سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے ٹاپ آفیشل کا پیغام ملا کہ وہ سرویلینس کے طریقہ کار کی سکروٹنی سے پیچھے ہٹ جائیں۔

جسٹس بابر ستار نے یہ موقف بھی اختیار کیا کہ انھوں نے ایسے دھمکی آمیز حربے پرکوئی توجہ نہیں دی اور انھوں نے یہ خیال نہیں کیا کہ ایسے پیغامات سے انصاف کے عمل کو کافی نقصان پہنچنے کاخطرہ ہے۔

واضح رہے کہ ایف آئی آے ، آئی بی اور پی ٹی اے نے جسٹس بابر ستار کو اس بینچ سے الگ ہونے کی درخواستیں دائر کی تھیں جسے جسٹس بابر ستار نے جرمانہ کرکے ان درخواستوں کو مسترد کردیا تھا۔

جسٹس بابر ستار اسلام آباد ہائی کورٹ کے ان چھ ججز میں شامل ہیں جنھوں نے چیف جسٹس کو خط لکھا تھا کہ خفیہ اداروں کی جانب سے عدالتی معاملات میں مداخلت کی جا رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں