عمران خان نیب ترامیم کیس میں وڈیو لنک پر سپریم کورٹ میں پیش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

نیب ترامیم کالعدم کیس میں بانی پی ٹی آئی ویڈیو لنک کے ذریعے سپریم کورٹ میں پیش ہو گئے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان میں نیب ترامیم فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت جمعرات کو شروع ہوئی۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے خلاف حکومتی اپیلوں پر سماعت کر رہا ہے، جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل ،جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس حسن اظہر رضوی بنچ کا حصہ ہیں۔

بانی پی ٹی آئی کو ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت پیش کر دیا گیا، سابق وزیراعظم نے سکائی بلیو شرٹ پہن رکھی ہے، کیس کی سماعت براہ راست نہیں دکھائی جا رہی۔

سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے اٹارنی جنرل کو روسٹرم پر بلا لیا، وکیل خواجہ حارث بھی روسٹرم پر آ گئے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خواجہ حارث سے مکالمہ کیا کہ آپ اصل کیس میں وکیل تھے، آپ کے نہ آنے پر مایوسی تھی، ہم آپ کے مؤقف کو بھی سننا چاہیں گے، کیا بطور وکیل آپ نے فیس کا بل جمع کرایا؟ اس پر وکیل خواجہ حارث نے جواب دیا کہ مجھے فیس نہیں چاہیے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ تمام وکلا سے سینئر ہیں۔

بعد ازاں وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں نیب ترامیم کا معاملہ زیر التوا ہے۔

اس موقع پر جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ مخدوم علی خان آپ اونچی آواز میں دلائل دیں تاکہ ویڈیو لنک پر موجود بانی پی ٹی آئی بھی آپ کو سن سکیں۔

جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کیا اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر التوا درخواست سماعت کیلئے منظور ہوئی؟ وکیل وفاقی حکومت نے بتایا کہ جی درخواست سماعت کیلئے منظور ہو چکی ہے، جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ سے نیب ترامیم کے خلاف کیس کا مکمل ریکارڈ منگوا لیں۔

چیف جسٹس نے خواجہ حارث سے استفسار کیا آپ اس کیس میں وکالت کریں گے؟ وکیل نے بتایا کہ جی میں عدالت کی معاونت کروں گا۔

بعد ازاں عدالت نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں نیب ترامیم کیس پر ہونے والی سماعتوں کا حکم نامہ طلب کر لیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ سماعت پر سپریم کورٹ نے قومی احتساب بیورو ترامیم کو کالعدم قرار دینے کے خلاف سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی کو بذریعہ وڈیولنک پیش ہونے کی اجازت دی تھی۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں نیب ترامیم کے خلاف درخواست کب داٸر ہوئی؟

وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست چار جولائی 2022 کو دائر ہوئی، سپریم کورٹ والی درخواست کو نمبر چھ جولائی 2022 کو لگا، سماعت 19 جولائی کو ہوئی۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ مرکزی کیس پر اتنا زیادہ عرصہ کیوں لگا تھا جس پر مخدوم علی خان نے کہا کہ 2022 کا پورا سال درخواست گزار کے وکیل نے دلائل دیئے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ نیب کا پورا آرڈیننس بنانے میں کتنا عرصہ لگا تھا جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ مشرف نے 12 اکتوبر کو اقتدار سنبھالا اور دسمبر میں آرڈیننس آچکا تھا، مشرف نے دو ماہ سے کم عرصے میں پورا آرڈیننس بنا دیا تھا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ چند ترمیم سے متعلق کیس سننے میں اتنا زیادہ عرصہ کیوں لگا جس پر وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ کیس قابل سماعت ہونے کی بحث میں ہی کافی وقت لگا، ہم تو چاہتے تھے کیس جلد ختم ہو، میرے علاوہ بہت سے وکلاء نے دلائل دیئے تھے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ مرکزی کیس کی کتنی سماعتیں ہوئی تھیں؟ جس پر مخدوم علی خان نے جواب دیا کہ مرکزی کیس کی مجموعی طور پر 53 سماعتیں ہوئی تھیں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہوتے ہوئے یہ کیس سپریم کورٹ میں کیسے قابل سماعت ہوا؟ کیا مرکزی کیس کے فیصلے میں عدالت نے اس سوال کا جواب دیا تھا؟ مخدوم علی خان نے جواب دیا کہ جی ہاں عدالت نے فیصلے میں اس معاملے کا ذکر کیا تھا۔

وکیل مخدوم علی خان نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا متعلقہ پیراگراف عدالت میں پڑھ دیا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یہ تو بڑا تعجب ہے کہ نیب ترامیم کیس 53 سماعتوں تک چلایا گیا، چند ترامیم سے متعلق کیس سننے میں اتنا زیادہ عرصہ کیوں لگا۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ 2023 میں الیکشن کیس ایسی ہی وجوہات پر ہم دو ججز نے ناقابل سماعت کر دیا تھا، ہم نے کہا تھا جو کیس ہائیکورٹ میں زیر التوا ہے اس میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے، اگر تب لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عمل ہوتا تو الیکشن بروقت ہو جاتے، لاہور ہائیکورٹ نے جو الیکشن کا فیصلہ دیا تھا اس کیخلاف انٹرا کورٹ حکم جاری نہیں ہوا تھا۔

چیف جسٹس نے استفسار کہ الیکشن کے معاملے پر سپریم کورٹ نے جو فیصلہ دیا اس کا آرڈر آف کورٹ کہا ہے؟ جس پر مخدوم علی خان نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ وہ آرڈر اسی نکتے پر اختلاف کی وجہ سے جاری نہیں ہوا۔

چیف جسٹس نے جسٹس اطہر من اللہ کے ساتھ مسکراتے ہوئے مکالمہ کیا کہ آپ جب میرے ساتھ بنچ میں بیٹھے ہم نے تو 12 دن میں الیکشن کروا دیئے، آپ جس بنچ کی بات کر رہے ہیں اس میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے میں نہیں تھا۔

اس موقع پر بانی پی ٹی آئی نے ساتھ موجود پولیس اہلکاروں کو پاس بلا لیا، بانی پی ٹی آئی نے اپنے چہرے پر تیز روشنی پڑنے کی شکایت کی جس پر اہلکاروں نے لائٹ کو ایڈجسٹ کر دیا، بڑی سکریں سے بانی پی ٹی آئی کی تصویر ہٹا دی گئی۔

دوسری جانب بانی پی ٹی آئی کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے پر سپریم کورٹ انتظامیہ نے تحقیقات شروع کر دیں۔

ذرائع کے مطابق پولیس نے انتظامیہ سٹاف کو سی سی ٹی وی کیمرے دیکھ کر تصویر وائرل کرنے والے کی نشاندہی کرنے کی ہدایت دے دی گئی، پولیس تصویر کو وائرل کرنے والے کے خلاف ایکشن لے گی، تصویر کورٹ روم رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے لی گئی، عدالت میں بانی پی ٹی آئی کی ویڈیو چھوٹی کر دی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں