پاکستان کی جانب سے عازمینِ حج کے لیے مکہ اور مدینہ میں دو ہسپتال،10 ڈسپنسریوں کا قیام

400 سے زائد ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکس عازمینِ حج کی خدمت کریں گے: دائریکٹر حج میڈیکل مشن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب میں پاکستان کے میڈیکل مشن کے سربراہ نے جمعرات کو تصدیق کی کہ عازمینِ حج کو صحت کی نگہداشت فراہم کرنے کے لیے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے مقدس شہروں میں دو ہسپتال اور 10 ڈسپنسریاں قائم کی گئی ہیں جیسا کہ روزانہ سینکڑوں حجاجِ کرام فریضۂ حج کی ادائیگی کے لیے مملکت پہنچ رہے ہیں۔

پاکستان کی وزارتِ مذہبی امور نے تصدیق کی ہے کہ حج 2024 شروع ہونے سے چند ہفتے قبل ملک سے 16,000 سے زائد حجاج سعودی عرب پہنچ چکے ہیں۔

پاکستان کے حج میڈیکل مشن کے ڈائریکٹر بریگیڈیئر جمیل لکھیار نے مدینہ منورہ سے عرب نیوز کو بتایا، "ہم نے مکہ اور مدینہ میں دو اہم ہسپتال اور دس ڈسپنسریاں قائم کی ہیں۔"

انہوں نے بتایا کہ ایک اہم ہسپتال اور آٹھ ڈسپنسریاں مکہ مکرمہ میں جبکہ ایک ہسپتال اور دو ڈسپنسریاں مدینہ منورہ میں ہیں۔

ایک ڈاکٹر 16 مئی 2024 کو مدینہ کے پاکستان میڈیکل مشن ہسپتال میں مریض کا علاج کر رہا ہے۔ (تصویر بشکریہ: پاکستان حج میڈیکل مشن)
ایک ڈاکٹر 16 مئی 2024 کو مدینہ کے پاکستان میڈیکل مشن ہسپتال میں مریض کا علاج کر رہا ہے۔ (تصویر بشکریہ: پاکستان حج میڈیکل مشن)

انہوں نے کہا، مکہ مکرمہ میں پاکستانی عازمین کی رہائش گاہوں کو نو زونز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ایک زون میں مرکزی ہسپتال ہے جبکہ باقی آٹھ میں سے ہر ایک میں ایک ڈسپنسری ہے۔

لکھیار نے کہا، اس سال حج میڈیکل مشن کے لیے 400 کے قریب ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکس کا انتخاب کیا گیا ہے جو اپنے فرائض کی انجام دہی کے لیے حجاج کے ساتھ آہستہ آہستہ سعودی عرب پہنچ رہے تھے۔

پاکستانی اہلکار نے کہا کہ میڈیکل مشن کے ارکان کا انتخاب وزارتِ مذہبی امور نے میرٹ کی بنیاد پر پہلے سے طے شدہ فارمولے پر کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مشن میں 70 فیصد شہری شامل تھے جبکہ 30 فیصد کا انتخاب مسلح افواج سے کیا گیا۔

لکھیار نے کہا، "ہسپتالوں میں ہمارے پاس امراضِ قلب، امراضِ نسواں، امراضِ اطفال، امراضِ تنفس، امراضِ دنداں اور دیگر طبی مسائل کے ماہر ڈاکٹرز موجود ہیں۔" انہوں نے کہا، دونوں ہسپتال ایکسرے، الٹراساؤنڈ اور لیب ٹیسٹنگ کی سہولیات سے مزین ہیں جہاں جراحت کے معمولی طریقہ کار بھی انجام دیئے جا سکتے ہیں۔

لوگ 16 مئی 2024 کو مدینہ کے پاکستان میڈیکل مشن ہسپتال میں اپنے علاج کا انتظار کر رہے ہیں۔ (تصویر بشکریہ: پاکستان حج میڈیکل مشن)
لوگ 16 مئی 2024 کو مدینہ کے پاکستان میڈیکل مشن ہسپتال میں اپنے علاج کا انتظار کر رہے ہیں۔ (تصویر بشکریہ: پاکستان حج میڈیکل مشن)

انہوں نے کہا کہ سنگین بیماریوں میں مبتلا مریضوں کو مزید علاج کے لیے سعودی اسپتالوں میں بھیج دیا جاتا ہے۔

لکھیار نے کہا، "ہر ڈسپنسری میں ایک ڈاکٹر، دو پیرامیڈکس اور ایک فارماسسٹ مختلف شفٹوں میں چوبیس گھنٹے موجود رہیں گے۔" نیز انہوں نے کہا، ہر ڈسپنسری میں ایک ایمبولینس بھی ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا، "مدینہ منورہ میں اب تک ہم نے 500 سے زائد پاکستانی حجاج کا مختلف معمولی مسائل پر علاج کیا ہے۔"

عہدیدار نے کہا کہ حجاج کو تمام علاج، ٹیسٹ اور ادویات مفت فراہم کی گئیں۔

لکھیار نے کہا، "ہر ڈاکٹر اور پیرامیڈیک کو 45 دن کے بعد واپس آنا پڑتا ہے اسی وجہ سے ان کی آمد کا وقت اس طرح رکھا گیا ہے کہ جب کوئی چلا جائے تو آخری پرواز تک ان کی جگہ لینے کے لیے ہمیشہ دوسرے افراد موجود ہوں۔"

16 مئی 2024 کو مدینہ منورہ کے پاکستان میڈیکل مشن ہسپتال میں معائنے کے دوران ایک خاتون پیرامیڈک دوائیں لکھ رہی ہیں۔ (تصویر بشکریہ: پاکستان حج میڈیکل مشن)
16 مئی 2024 کو مدینہ منورہ کے پاکستان میڈیکل مشن ہسپتال میں معائنے کے دوران ایک خاتون پیرامیڈک دوائیں لکھ رہی ہیں۔ (تصویر بشکریہ: پاکستان حج میڈیکل مشن)
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں